0
Friday 8 Nov 2019 10:45

بحرین کے مظلوم عوام اور جیلوں میں بند قیادت

بحرین کے مظلوم عوام اور جیلوں میں بند قیادت
اداریہ
عرب دنیا میں اسلامی بیداری یا بہارِ عرب کی تحریک نے جب زور پکڑا تو بحرین بھی ان ممالک میں شامل تھا، جہاں بحرینی عوام نے بحرین پر مسلط آلِ خلیفہ خاندان کی استبدادی اور آمرانہ حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ قابلِ ذکر ہے کہ بحرین میں اسی (1980) کے عشرے میں بھی ایک عوامی تحریک چلی تھی، لیکن اسے دبا دیا گیا تھا۔ اسلامی بیداری کی تحریک کے دوران بحرینی عوام سراپا احتجاج بنے اور لولو اسکوائر کو اپنے مرکزی احتجاج کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ لولو اسکوائر بحرینی عوام کے نعروں سے گونجنے لگا اور آلِ خلیفہ کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔ اس بار بھی سعودی عرب آلِ خلیفہ خاندان کی مدد کے لیے آیا اور اس نے ایک ہزار کے قریب اسرائیلی تربیت یافتہ فوجی چھوٹے سے ملک بحرین میں بھیج دیئے۔ اسکے علاوہ بعض اسلامی ممالک نے ثواب سمجھتے ہوئے اپنے ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات آلِ خلیفہ حکومت کے سپرد کر کے پیٹرو ڈالر سے بھرپور استفادہ کیا۔

بحرین میں تحریک جاری رہی اور باہر سے آئے ہزاروں فوجی بھی حالات پر قابو پانے میں ناکام رہے، حکومت نے لولو اسکوائر کو مسمار کر دیا، اسلامی تحریک کے مراکز پر ہلہ بول کر انہیں تہس نہس کر دیا، گھروں اور عبادت گاہوں میں گھس کر انقلابیوں کی گرفتاریوں میں شدت آئی اور قرون وسطیٰ کے غیر انسانی اقدامات کی یاد تازہ کر دی گئی۔ حکومت مخالف تحریک میں شامل کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور نمایاں افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا۔ آلِ خلیفہ حکومت نے مخالفین پر دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور بغاوت جیسے الزامات عائد کیے۔ آلِ خلیفہ حکومت کے تمام تر جابرانہ، غیر انسانی و غیر جمہوری اقدامات کے خلاف بحرینی عوام کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لرزہ نہ آیا اور تحریک اب بھی جاری ہے، لیکن بحرین کی عوامی تحریک اس لحاظ سے مظلوم ترین عوامی تحریک ہے، جس کو باہر سے نہ اخلاقی، نہ سیاسی اور نہ ہی مالی و اسلحہ جاتی مدد مل سکی۔

یہی وجہ ہے کہ بحرین کی آلِ خلیفہ حکومت اسقدر جری ہو گئی کہ اس نے بدنام زمانہ سنچری ڈیل کا ابتدائی اجلاس مانامہ میں منعقد کرایا۔ بحرین کی عوامی و جمہوری تحریک کے راکھ میں متعدد چنگاریاں کسی بھی وقت شعلہ ور ہو سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آلِ خلیفہ کی استبدادی حکومت تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد انقلابیوں کو اپنے فوجی و عسکری ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے، گذشتہ دنوں آلِ خلیفہ حکومت کے زرخرید کارندوں نے انقلابی نوجوانوں پر حملہ کیا ہے اور جمعیت الوفاق کے بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے انقلابی مراکز الدرار، سترہ اور المصلی کے علاقوں میں شہریوں کے گھروں پر حملہ کر کے پانچ اہم انقلابیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یاد رہے بحرین کی عوامی تحریک کے قائد شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کی سب سے بڑی جماعت جمعیت الوفاق کے سیکرٹری جنرل شیخ علی سلمان، آلِ خلیفہ کے زندانوں میں زندگی کے انتہائی دشوار ایام گزار رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن آلِ خلیفہ حکومت خاموش ہے۔
خبر کا کوڈ : 826192
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے