0
Sunday 10 Nov 2019 12:45

بابری مسجد کا فیصلہ اور سیکولرازم کا جنازہ

بابری مسجد کا فیصلہ اور سیکولرازم کا جنازہ
اداریہ
ہندوستان میں عشروں پرانا متنازعہ مقدمہ ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بظاہر کنارے لگا دیا گیا ہے۔ ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جس میں ایک مسلمان جج ایس عبدالعزیز بھی شامل تھے، نے اپنا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں۔ عدالت کے بقول بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر نہیں بلکہ ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کیا گیا۔ ہندوستان کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔ یاد رہے بابری مسجد 1528ء میں مغل دور حکومت میں ہندوستان کے موجودہ شہر ایودھیا میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

ہندوستان کئی مذاہب، ثقافتوں اور متعدد زبانیں بولنے والے باشندوں کا دنیا کا آبادی کے لحاظ سے ایک نمایاں ترین ملک ہے۔ گاندھی، نہرو سے لیکر ہندوستان کے تمام بانی و معروف سیاسی و مذہبی قائدین ہندوستان کو ایک سیکولر ملک کہہ کر فخر و مباہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان کا آئین بھی سیکولر شقوں کا آئینہ دار ہے، لیکن ہندوستان میں جب سے ہندوتوا پر ایمان رکھنے والی وی ایچ پی اور آر ایس ایس جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں اور بی جے پی نے بھی ہندو مت کو ہتھیانے کیلئے مذہب کا کارڈ استعمال کیا تو ہندوستان کا سیکولر چہرہ بری طرح مسخ ہو گیا، البتہ یہاں پر ملبہ بی جے پی پر نہیں ڈالا جا سکتا بلکہ ہندوستان کے ممبر پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی کے سربراہ اسدالدین اویسی کے بقول اگر راجیو گاندھی کے ذریعے مسجد کے تالے نہ کھولے جاتے اور کانگریس کے دورِ حکومت میں مورتیاں نہ رکھی جاتیں تو مسجد آج بھی قائم دائم رہتی۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا اور مسلمان برادری نے بھی فیصلہ کو متنازعہ اور جانبدار کہتے ہوئے بظاہر قبول کر لیا ہے، لیکن اس سے بھارت کا سیکولر چہرہ بری طرح مسخ ہو گیا ہے اور ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتیوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بی جے پی حکومت میں گاؤ رکشا اور ہندوتوا کی بدولت پہلے ہی صورتحال کشیدہ تھی۔ اس فیصلے نے مسلمان آبادی کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ہندوستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہندوستان کی ہر مسجد خطرے میں پڑ گئی ہے، کیونکہ آر ایس ایس یا ہندو ووٹ لینے کا کوئی بھی خواہشمند انتہاء پسند سیاست دان کسی بھی مسجد یا مذہبی عبادت خانے کی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کر کے اسے ہندوؤں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے جو پنڈورا باکس کھول دیا ہے، اس سے جہاں ہندوستان کا سیکولر چہرہ مجروح ہوا ہے، وہاں اسلام اور ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں سے منسوب تمام تاریخی آثار خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ دنیا اس بات کی منتظر رہے کہ بہت جلد مسلمان حکمرانوں کا تعمیر کردہ تاج محل اور سکھوں کا گولڈن ٹیمپل بھی ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کی نذر ہو سکتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 826606
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب