0
Monday 11 Nov 2019 00:38

پیغمبر اکرم (ص) اور اتحاد بین المسلمین

پیغمبر اکرم (ص) اور اتحاد بین المسلمین
تحریر: سید حسین حسینی

تاریخ اسلام کے شعبے میں تحقیق کے دوران سیرت نبوی ص ہمیشہ سے مسلم محققین کی نظر میں ایک اہم اور بنیادی موضوع رہا ہے۔ اسلام کی تاریخ سے مخصوص واقعات اور اپنے زمانے میں پیش آنے والے مختلف واقعات کے بارے میں پیغمبر اکرم ص کا موقف اور ردعمل تاریخ اسلام پر کام کرنے والے مسلم دانشوران کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اتحاد بین المسلمین کا موضوع اور اس کی ایجاد اور پھیلاو میں نبی اکرم ص کا کردار اسی اعتبار سے اہم اور بنیادی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبوت اور رسالت کے مقام پر فائز ہونے کے ناطے پیغمبر اکرم ص کی سیرت مسلمانوں کیلئے حد درجہ اہمیت کی حامل ہے۔ خداوند متعال سورہ احزاب کی آیت 21 میں فرماتا ہے: لَقَدْ كٰانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اَللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كٰانَ يَرْجُوا اَللّٰهَ وَ اَلْيَوْمَ اَلْآخِرَ وَ ذَكَرَ اَللّٰهَ كَثِيراً ترجمہ: "یقیناً خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین رول ماڈل ہے، اس کیلئے جو خدا اور قیامت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے خدا کا ذکر کرتا ہے۔"

لفظ "اسوہ" کا مطلب پیشوا، رہنما اور "تاسی" کا مطلب کسی کو رول ماڈل بنانا ہے۔ لہذا اس آیت کریمہ کی روشنی میں پیغمبر اکرم ص سے مربوط تمام تاریخی واقعات ہمارے لئے سبق آموز ہیں کیونکہ ہم ان کے ذریعے رسول خدا ص کا ردعمل اور دنیوی زندگی میں آپ ص کی فیصلہ سازی کی نوعیت سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ یہ معلومات نہ صرف ہمارے لئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں بلکہ شرعی لحاظ سے بھی ہمارے لئے حجت ہیں۔ مزید برآں، رسول خدا ص کی زندگی کے مختلف پہلووں کا مطالعہ اور غور و فکر مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری بھی ہے۔ اس بارے میں علامہ طباطبائی رح فرماتے ہیں: "لفظ "اسوہ" کا مطلب اقتدا اور پیروی کے ہیں۔ رسول خدا ص کے اسوہ ہونے کا مطلب ان کی پیروی کرنا ہے۔ خداوند متعال کی جانب سے "لکم فی رسول اللہ" کہنا رسول خدا ص کا ہمیشہ اسوہ ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی خدا ہم سے کہنا چاہتا ہے کہ تم لوگ ہمیشہ رسول خدا ص کی پیروی کرو۔ آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ رسول خدا ص کے فرامین اور عمل دونوں میں ان ص کی پیروی کریں۔" (تفسیر المیزان، جلد 16، صفحہ 451)

اسلامی معاشرے کے سیاسی امور میں رسول خدا ص کے کردار کا مطالعہ اور اس کے پیچھے کارفرما اصول اور حکمتوں کی تلاش پیغمبر اکرم ص کی سیاسی سیرت کو تشکیل دیتی ہے۔ یوں اسلامی معاشرے کی ہدایت، سرپرستی اور قیادت کے دوران رسول اکرم ص کی جانب سے اپنائی گئی تدابیر آپ ص کی سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہیں۔ چونکہ "وحدت امت" ایک سیاسی مسئلہ ہے لہذا اس بارے میں پیغمبر اکرم ص کے کردار کا مطالعہ آپ ص کی سیاسی سیرت بیان کرنے کا بہترین راستہ ہے۔ امت مسلمہ کی تشکیل میں اسلامی اتحاد اور وحدت کا کردار اس موضوع کے سیاسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بارے میں پیغمبر اکرم ص کے کردار کی وضاحت ہمارے سامنے آپ ص کی سیاسی سیرت واضح ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ صرف اسی صورت میں ہم رسول خدا ص کو اپنا رول ماڈل بنا کر اور ان کی پیروی کر کے سورہ نساء کی آیت 80 کا مصداق قرار پا سکتے ہیں جس میں خداوند متعال فرماتا ہے: مَنْ يُطِعِ اَلرَّسُولَ فَقَدْ أَطٰاعَ اَللّٰهَ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمٰا أَرْسَلْنٰاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظاً ترجمہ: "جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔"
 
امت مسلمہ کی وحدت سے کیا مراد ہے؟
امت مسلمہ کی وحدت سے مراد دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان اسلامی اتحاد اور وحدت کی فضا قائم کرنا ہے جس کے نتیجے میں امت واحد اسلامی تشکیل پا سکے۔ خداوند متعال سورہ مومنون کی آیت 52 میں فرماتا ہے: وَ إِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وٰاحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ ترجمہ: "اور یہ تمہاری امت (حقیقت میں) ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو۔" اس مفہوم میں غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت سے بعض نئے مفاہیم بھی سمجھے جا سکتے ہیں، جیسے:
1)۔ امت میں وحدت ایجاد کرنا ایک مطلوبہ دینی کاز کو ظاہر کرتا ہے جو امت واحد اسلامی کی تشکیل ہے۔
2)۔ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال میں بھی امت مسلمہ کی وحدت ایک بڑا اور اصلی مقصد ہے۔
3)۔ موجودہ صورتحال سے مطلوبہ صورتحال یعنی امت واحد اسلامی کی جانب قدم بڑھانے کیلئے وحدت اسلامی یا اتحاد بین المسلمین ایک بہترین حکمت عملی ہے۔

مدینہ منورہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دس سالہ زندگی اسلامی معاشرے میں اتحاد اور وحدت ایجاد کرنے میں صرف ہوئی۔ رسول اکرم ص نے اس وقت کے عرب معاشرے میں ایک الہی حاکمیت ایجاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پیغمبر اکرم ص نے کئی بار تاکید فرمائی کہ: "الجماعۃ رحمۃ و الفرقۃ عذاب" (اتحاد میں رحمت ہے اور فرقہ واریت میں عذاب ہے)۔ اسلام کی برکت سے اس وقت کے عرب معاشرے نے بربریت سے نجات حاصل کی اور اسلامی تہذیب و تمدن کی طرف آئے۔ اسی طرح پیغمبر اکرم ص نے عرب معاشرے میں موجود قبائلی تعصبات کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی اور انہیں دین مبین اسلام کی محوریت میں متحد اور جمع کیا۔ رسول خدا ص نے جزیرۃ العرب میں پہلی مرکزی حکومت تشکیل دی اور خدا کے قانون کے تحت ایک نئی سیاسی طاقت معرض وجود میں لائے۔ اس بارے میں خداوند متعال کا ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّمٰا وَلِيُّكُمُ اَللّٰهُ وَ رَسُولُهُ وَ اَلَّذِينَ آمَنُوا اَلَّذِينَ يُقِيمُونَ اَلصَّلاٰةَ وَ يُؤْتُونَ اَلزَّكٰاةَ وَ هُمْ رٰاكِعُونَ  ﴿المائدة، 55﴾ ترجمہ: "تمہارے ولی (سرپرست) تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں۔"

رسول خدا ص کی جانب سے ایجاد کردہ امت واحد مسلمہ کا مرکز و محور خدا کا قانون تھا۔ اس بارے میں سورہ احزاب کی آیت 36 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
وَ مٰا كٰانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لاٰ مُؤْمِنَةٍ إِذٰا قَضَى اَللّٰهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ اَلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اَللّٰهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاٰلاً مُبِيناً ترجمہ: "اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا۔" رسول خدا ص نے جزیرۃ العرب کے تمام مسلمانوں کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا جس کا مقصد سب کو ایک جگہ جمع کر کے الہی حاکمیت کا اجرا تھا۔ مزید برآں، پیغمبر اکرم ص نے بیعت عقبہ کے دوران سیاسی نمائندوں کا انتخاب کیا جنہیں تاریخ میں "نقیب" کا نام دیا گیا ہے۔ اہلسنت کے معروف مفسر طبری اپنی کتاب "تاریخ الامم و الملوک" میں ایک انتہائی دلچسپ نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "اس دن جب چھ افراد نے عقبہ کے قریب پیغمبر اکرم ص سے ملاقات کی اور ان کی باتیں سنیں تو کہنے لگے: امید ہے خدا آپ کو ہمارے درمیان صلح اور اتحاد قائم کرنے کا ذریعہ قرار دے گا۔" (تاریخ الامم والملوک، جلد 3، صفحہ 1210)۔
خبر کا کوڈ : 826687
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے