0
Tuesday 12 Nov 2019 12:11

بحرانوں کے بھنور میں گھرا افغانستان

بحرانوں کے بھنور میں گھرا افغانستان
اداریہ
جنگ زدہ، غربت زدہ بلکہ امریکہ زدہ افغانستان کب اور کیسے بحرانوں کے بھنور سے نکلے گا؟، اس کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا۔ آئے روز اس ملک کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بے چارے افغان عوام کبھی دائیں کبھی بائیں کبھی اوپر کبھی نیچے نگاہیں دوڑاتے ہیں، لیکن کہیں سے امید افزاء پیغام سنائی نہیں دیتا۔ وار لارڈز، ڈرگ مافیا، داعش اور مذہبی انتہاء پسندی کے ساتھ اگر امریکی مداخلت بھی کسی ملک میں عروج پر ہو تو اس ملک میں اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے، جو افغانستان میں جاری و ساری ہے۔ طالبان امریکہ مذاکرات، افغان حکومت اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے درمیان مسائل اور کشیدگی جوں کی توں تھی کہ صدارتی انتخابات کا ایک نیا پنڈورابکس کھل گیا ہے۔ خدا خدا کر کے کئی بار تاریخیں تبدیل ہونے کے بعد انتخابات کا انعقاد ہوا، لیکن اب ان انتخابات کے نتائج کا اعلان کرنے میں کئی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بقول شاعر؎
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

 
انتخابات کے انعقاد اور اس میں دھاندلی و بدعنوانی کے چرچے زبان زدِ خاص و عام ہیں، حالانکہ شرکت بھی بہت کم رہی۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق ترانوے لاکھ ووٹروں میں مشکل سے اٹھارہ لاکھ ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، وہ بھی ایسی مشکوک حالت میں کہ کہیں پولنگ اسٹیشن غائب، کہیں پولنگ بوتھ اور بعض حلقوں سے تو بائیومیٹرک مشین تک غائب کر دی گئی ہیں۔ صدر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ، حکمت یار اور مبارک کے درمیان صدارتی انتخابات کا مقابلہ ہوا، لیکن اصلی مقابلہ تو موجودہ صدر اشرف غنی اور موجودہ چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہے۔ لیکن عبداللہ عبداللہ کے بیانات سے ایسے لگتا ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنے آپ کو کامیاب کروانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے عبداللہ عبداللہ اور حکمت یار کی شدید مخالفت کے باوجود ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

صدر اشرف غنی کے مخالفین کا الزام ہے کہ حکومتی مشینری اشرف غنی کو کامیاب قرار دینے کے لیے دوبارہ گنتی کروا رہی ہے۔ اس گنتی یا انتخابات کا کوئی بھی نتیجہ ہو، افغانستان میں سیاسی استحکام اور امن و سلامتی کا قیام کے امکان دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انتخابات کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ، لیکن ملک کا پورا نظام ایسی تصویر دکھا رہا ہے جس میں ایک چیز دوسری سے بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ اس الجھی ڈور کو سلجھانے والا کوئی نجات دہندہ نظر نہیں آ رہا۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کے منحوس پنجے جس سرزمین پر پیوست ہو جاتے ہیں وہاں سیاسی و سلامتی استحکام ایک ایسے خواب میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسکی عملی تعبیر ناممکن ہوتی ہے۔ امریکہ جب تک افغانستان میں موجود رہے گا اس ملک میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آ سکتی۔
خبر کا کوڈ : 826906
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے