1
Tuesday 12 Nov 2019 15:18

کوفةُ الجدید میں مولانا طارق جمیل کی تنہائی

کوفةُ الجدید میں مولانا طارق جمیل کی تنہائی
تحریر: توقیر کھرل
 
کچھ عرصہ سے عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل کو اُن کے حلقہ احباب سے بے رخی کا سامنا ہے، تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماع کے موقع پر اُن کو تقریر سے روکا گیا تو وہ وہاں سے خاموشی سے چلے گئے۔ تبلیغی جماعت کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی حمایت کو ان کے خطاب نہ کرنے کا جواز بنایا گیا۔ معاملہ صرف یہاں نہیں رکتا، ان کے مسلک سے وابستہ کئی افراد بھی ان سے رخ موڑ چکے ہیں۔ اُن سے بار بار سوال کیا جاتا ہے، کیا آپ نے مسلک بدل لیا ہے؟ آپ پہلے تو ایسے نہیں کہا کرتے تھے؟ ایسے ہزاروں سوال اور تہمتوں کا مولانا کو آئے روز سامنا رہتا ہے۔
 
مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ اُن کے ہی مسلک و مکتب کے افراد وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جیسا ہر اہلبیت کے عاشق و پیروکار کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے کے پروفیسر نے امام حسین علیہ السلام کے بارے فضائل پر مبنی کتاب لکھی تو اُن کے ہی مکتب کے افراد نے دھمکی آمیز خطوط اور پیغامات کا انبار لگا دیا۔ بدقسمتی سے مولانا طارق جمیل سمیت تمام علماء کرام کے پیروکار ایک مخصوص دائرے تک محدود ہیں اور وہ اسی دائرہ میں رہنا چاہتے ہیں، اگر کوئی اہلبیت کرام کی تعریف میں کچھ کہے تو اسے دائرے سے خارج تصور کیا جاتا ہے۔
 
المیہ یہ ہے کہ جب سے مولانا نے اہلبیت سے محبت کا ہر تقریر میں اظہار شروع کیا،  اُن کے اردگرد کے کئی افراد اُن سے دور جا چکے ہیں، لیکن مولانا نے محبت اہلبیت سے خود کو دور نہیں کیا اور آئے روز اہل بیت اور سادات کی عزت و توقیر کے بارے میں یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مینگل نے اُن کو گالی دی، جس پہ صرف ایک مسلک ہی نہیں بلکہ تمام شیعہ سنی مسالک کے افراد سوشل میڈیا پر اس حرکت کی مذمت کر رہے ہیں۔

مولانا کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انہوں نے اس جاہلانہ رویہ پہ کوئی ردعمل نہیں دیا، لیکن مجھے چار سال قبل کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ اُن کے آبائی شہر تلمبہ میں ایک بار کسی نے افواء پھیلائی کہ مولانا آپ کی گستاخی پر مبنی خاکے کو لائیک کرنے والے ملزم پر مقدمہ بھی درج کر دیا گیا ہے، شہر کے حالات بھی خراب ہوئے ہیں۔ مولانا نے جواب دیا اگر صحابہ کرام اور اہلبیت نے دین کے لیے مشکلات برداشت کی ہیں تو میں کیا حیثیت رکھتا ہوں۔ اگر کسی نے ایسا کیا بھی ہے تو میں اسے ابھی معاف کرتا ہوں۔ واقعہ کے دو سال بعد معلوم ہوا کہ وہ صرف مذہبی انتہائی ہسندی کی کوشش تھی، شکر ہے میرے معاف کرنے سے شہر فساد سے بچ گیا اور ملزم سے الزام بھی دور ہوا۔

اس تمام واقعہ میں وہ افراد جو مولانا کی کردار کشی کا ڈھونگ رچا کر مولانا کو تعصب و نفرت کی آگ میں دھکیلنا چاہتے تھے، آج اُن کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور ان کو محبت اہلبیت اور سادات کے احترام کی سزا دی جا رہی ہے۔ مولانا طارق جمیل کی روشن خیالی ان کو دوسرے علماء کرام سے جُدا کرتی ہے، وہ دوسرے ملاوں کی طرح تفرقہ پسند نہیں ہیں، اس لیے شرپسند مولوی مولانا کی بڑھتی ہوئی شہرت سے خوف زدہ ہیں اور مولانا اُن کے لیے گویا ہیں:
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں مری عمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
خبر کا کوڈ : 826976
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے