0
Thursday 14 Nov 2019 10:57

جہادِ اسلامی فلسطین کی انگڑائی

جہادِ اسلامی فلسطین کی انگڑائی
اداریہ
فلسطین میں یوں تو مختلف گروہ استقامتی اور جہادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، لیکن ان میں حماس کا نام سب سے زیادہ سامنے آتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں سیاست سے لیکر جنگ تک، ہر جگہ حماس کا نام ہی سامنے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ غاصب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے ہوئے ہیں۔ حماس عسکری میدان کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل ہے اور عالمی تعلقات میں ان ممالک سے اپنے رابطے استوار رکھتی ہے، جو فلسطینی کاز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ البتہ سیاسی معاملات میں شریک ہونے کی وجہ سے حماس باہمی اختلافات اور دوسرے ممالک سے تعلقات میں مختلف نشیب و فراز کی حامل رہی ہے، جس کی ایک مثال شام میں بیرونی عناصر کی مداخلت سے شروع ہونے والی بشار اسد مخالف تحریک میں حماس کا کردار ہے، جو مثالی نہیں رہا۔ بشار اسد اور اس کے والد حافظ الاسد نے فلسطینی تنظیموں کا گذشتہ کئی عشروں سے جس طرح ساتھ دیا، اس حوالے سے حق یہ بنتا تھا کہ حماس اور فلسطینی تنظیمیں بشار اسد کی قانونی حکومت کے ساتھ کھڑی رہتیں۔

لیکن سعودی، مصری اور قطری چمک دمک نے حماس کے قائدین کی آنکھوں کو چندھیا دیا، جس کی وجہ سے انہوں بشار اسد سے آنکھیں پھیر لیں، البتہ اس بات کا انہیں کچھ عرصے بعد احساس ہوگیا۔ آج کل غزہ ایک بار پھر صہیونی حملوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، لیکن اس دفعہ اسرائیلی فورسز نے حماس کی بجائے "اسلامی جہاد تحریک" کے ایک کمانڈر بہا ابوالعطاء کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ منگل کے دن صبح کے وقت ہونے والے اس حملے میں اسرائیلی فوج نے ابوالعطاء اور ان کی اہلیہ کو شہید کر دیا۔ اسی دن دمشق میں بھی اسلامی جہاد تحریک جسے جہادِ اسلامی فلسطین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کے ایک اور رہنماء اکرم الحجوری کے گھر پر حملہ کیا گیا، جس میں وہ خود تو محفوظ رہے لیکن ان کا بیٹا معاذ شہید ہوگیا۔ ان حملوں کے جواب میں اسلامی جہاد تحریک نے راکٹوں سے اسرائیلی آبادیوں پر حملہ کیا۔

مقبوضہ علاقوں پر اسلامی جہاد تحریک کے دو سو کے قریب راکٹوں نے افراتفری مچا دی اور بزدل اسرائیلی تعلیمی ادارے اور دفاتر بند کرکے زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپ گئے۔ اسلامی جہاد کی طرف سے اس حملے نے اس تحریک کی عسکری قوت کی نشاندہی کر دی ہے۔ اسلامی جہاد تحریک کیونکہ سیاسی معاملات سے دور رہتی ہے، لہٰذا اس کی پوری توجہ عسکری معاملات میں رہتی ہے اور اسرائیلیوں کو بھی اس کے اندر نفوذ پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی جہاد کے اس حملے کے بعد غزہ میں صرف حماس مرکزی جماعت نہیں رہی ہے، بلکہ گذشتہ دنوں کے جوابی حملوں نے فلسطین میں ایک اور جماعت کے کردار کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ فلسطین کی تبدیلیوں میں اسلامی گروہوں میں صرف حماس کا نام نہیں آئے گا، بلکہ اسلامی جہاد تنظیم بھی بڑے کھلاڑیوں میں شامل ہوگئی ہے۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ اور دمشق میں اسلامی جہاد تنظیم کے کمانڈروں کو حملے کا نشانہ بنانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں حماس سے زیادہ اسلامی جہاد تنظیم سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 827275
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے