0
Friday 15 Nov 2019 20:56

دکھ تو صرف لیڈروں کے ہوتے ہیں

دکھ تو صرف لیڈروں کے ہوتے ہیں
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

پرانی باتیں پرانی ہوتی ہیں، لیڈر ہوں یا عوام دونوں کو پرانی باتوں سے کیا لینا دینا، عوام کا تو حافظہ بھی کمزور ہوتا ہے اور لیڈر تو یوٹرن لے لیتے ہیں، نئی باتیں بھی تو ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا، یہ بھی عجیب مسئلہ ہے، میرے جیسے لوگوں کو پرانی باتیں یاد نہیں رہتیں اور نئی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ ابھی اسی 27 ستمبر کو  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے کیا دھواں دار تقریر کی تھی، بس یوں لگ رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے صرف اسی تقریر کی کمی تھی، سو وہ پوری ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی تو اس نااہل حکومت کو گرانے کیلئے اسلام آباد پہنچے تھے، ان کا اٹل فیصلہ تھا کہ وہ عمران خان سے استعفیٰ لئے بغیر ٹلنے والے نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد پاکستان کو آئی ایم ایف اور ایشیائی بینک وغیرہ جیسے اداروں کی غلامی سے نجات دلانا ہے، وہ حکومت پر کسی بھی دوسرے ادارے کی سرپرستی کو ختم کرنے کیلئے نکلے تھے، اب وہ  بھی اپنے دھرنے کو ختم کرچکے ہیں، ظاہر ہے کوئی بھی عقلمند آدمی اپنے مقاصد کو حاصل کئے بغیر احتجاج کو ختم نہیں کرتا۔

 اس دھرنے کے خاتمے  کے باوجود لوگ ابھی تک یہ نہیں سمجھے کہ جس طرح لیڈروں کا پلان اے اور بی ہوتا ہے، اسی طرح ان کے مقاصد بھی اے اور بی ہوتے ہیں۔ اے مقاصد کی لسٹ عوام کیلئے ہوتی ہے اور بی مقاصد کی لسٹ خواص کیلئے۔ ابھی مولانا نے کس لسٹ سے کتنے مقاصد حاصل کئے یہ الگ بحث ہے، لیکن انہوں نے کتنے دن میڈیا کو مصروف رکھا، اس دوران مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کتنے ہی چوٹی کے کرپٹ لوگ جیلوں سے باہر آئے، بہرحال باہر آنے والے لوگ بھی تو ہمارے لیڈر ہی ہیں، لہذا ان کے جیل کے اندر جانے اور باہر آنے کے معمے سے بے شعور عوام کو دور ہی رہنا چاہیئے۔ دوسری طرف اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات پر پابندی کو 103 روز ہوگئے ہیں، ان دنوں وہاں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیل میں ہیں، یہ کون لوگ ہیں! یہ وہ ہیں جنہیں کشمیری قیادت کہا جاتا ہے، یعنی یہ کشمیریوں کے لیڈر ہیں، یہ رہا ہوں گے تو کشمیر کو آزاد کروائیں گے۔ ان کی آزادی اب مقبوضہ کشمیر کی آزادی سے بھی اہم ہے، چونکہ بالآخر یہ لیڈر ہیں اور حقیقت  بھی یہی ہے کہ ہر جگہ عوام، عوام ہوتے ہیں اور لیڈر لیڈر۔

یہی حال آزاد کشمیر کے عوام کا بھی ہے، کیا حکومت اور کیا اپوزیشن، آزاد کشمیر کے بھی سارے کے سارے لیڈر دن رات کشمیر کی آزادی کیلئے وقف ہیں۔ ان کی جدوجہد آزادی کا بھی اے پلان اور بی پلان ہے، اب وہ کس پلان میں مصروف ہیں، اس کا عوام سے کیا تعلق!؟ عوام کا تو یہ حال ہے کہ  آئے روز ایل او سی پر جو شدید گولہ باری ہوتی ہے، اس میں عوام کی کھیتی باڑی کی زمینیں تباہ ہوگئی ہیں، باغات اجڑ گئے ہیں، مویشی ہلاک ہوگئے ہیں، ایک ایک گھر کے کئی کئی افراد شہید ہوچکے ہیں اور ہر گھر میں اوسطاً ایک یا دو افراد معذور اور زخمی پڑے ہوئے ہیں۔ بہرحال جو بھی ہو جائے، بارڈر لائن کے دونوں طرف بسنے والے عوام تو عوام ہیں، وہ کیا جانیں کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے، قربانی کیا ہے، شہادت کیا ہے اور زخمی اور   معذور ہونے کا دکھ کیا ہے۱؟ عوام تو کبھی خوش نہیں ہوتے! انہیں خوش کرنے کا فائدہ بھی نہیں، عوام کو خوش کرنے سے مسئلہ کشمیر تھوڑا ہی حل ہو جائے گا۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیئے، جیسا کہ ان کے لیڈروں نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔

عوام تو ہمیشہ دکھوں کا راگ الاپتے رہتے ہیں، یہ بے شعور عوام کیا جانیں کہ دکھ کیا ہوتا ہے!؟ عوام جسے دکھ کہتے ہیں، وہ کوئی دکھ تھوڑا ہی ہوتا ہے، یہ بے روزگاری کا دکھ، بیماری کا دکھ، معذور ہونے کا دکھ، عقب ماندگی اور پسماندگی کا دکھ، پینے کا صاف پانی نہ ہونے کا دکھ، تھانوں اور کچہریوں میں انصاف نہ ملنے کا دکھ، معیاری تعلیم کے نہ ہونے کا دکھ، کنٹرول لائن کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کا دکھ، ایل او سی پر اجڑنے اور مرنے کا دکھ، مسنگ پرسنز کا دکھ، پیلٹ گنوں کا دکھ، 103 روزہ کرفیو کا دکھ، ذرائع مواصلات کی معطلی کا دکھ، ذہنی معذور صلاح الدین کا دکھ، سانحہ ساہیوال کا دکھ۔۔۔ یہ بھی کوئی دکھ ہیں کہ جنہیں دکھ کہا جائے۔ دکھ تو صرف لیڈروں کے ہوتے ہیں، بیماریاں صرف لیڈروں کی جان کیلئے خطرہ ہوتی ہیں، قید صرف لیڈروں کیلئے مضر ہوتی ہے، قانونی گرفت صرف اور صرف لیڈروں کیلئے بری چیز ہے، جیلوں میں صرف لیڈروں کو گرمی اور سردی لگتی ہے اور۔۔۔ اور۔۔۔
خبر کا کوڈ : 827617
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے