0
Saturday 16 Nov 2019 11:15

حقائق سامنے لاکر ڈٹ جائیں

حقائق سامنے لاکر ڈٹ جائیں
اداریہ
موجودہ دور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں ایک ایسی ہستی موجود ہے، جو عالمِ اسلام کے مسائل اور قرآن و دین کی حقیقی تفاسیر کو سمجھنے میں لاثانی ہے۔ اکثر عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں ایسی شخصیت ڈھونڈے بھی نہیں ملتی، جو دینی مفاہیم کے ادراک کے ساتھ ساتھ بے باکی سے بیان کرنے کا ایسا عزم و حوصلہ رکھتی ہو۔ یہ جوہر اللہ تعالیٰ نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای کو عطا فرمایا ہے۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای کا عالمِ اسلام اور عالمی سیاست کے بارے میں کوئی خطاب یا تحریر اٹھا کر دیکھ لیں، آپ جس صراحت اور یقین کے ساتھ اپنی بات کو بیان کرتے ہیں، اس سے یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ جو اپنا سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتا ہے تو خداوند کریم اس کو ایسا فہم و ادراک اور اظہار کی طاقت و توانائی دیتا ہے، جو کسی عام فرد کے فہم و ادراک سے ماوراء ہوتی ہے۔ گذشتہ دن تنتیسویں بین الاقوامی وحدت کانفرنس کے شرکاء کی رہبرِ انقلابِ اسلامی سے ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں کانفرنس کے مندوبین کے علاوہ تہران میں تعینات مختلف اسلامی ممالک کے سفراء کے ساتھ ساتھ ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اس خطاب میں جہاں عالمِ اسلام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کی ضرورت پر تاکید کی اور امت مسلمہ کے علماء و دانشوروں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا، وہاں آپ نے گذشتہ دن کے خطاب میں چند ایسے نکات کو بیان کیا ہے، جس پر بہت زیادہ غور و خوض کی ضرورت ہے۔ آپ نے اس خطاب میں پہلی بار اسرائیل کے خاتمے کے بارے میں ایران و اسلامی انقلاب کا موقف ایک نئے انداز سے بیان فرمایا۔ آپ کا کہنا تھا، "ہم سرِزمین فلسطین، اس کی آزادی اور نجات کے حامی ہیں اور اسرائیل کا مطلب یہودی عوام کی نابودی ہرگز نہیں، کیونکہ ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ فلسطین کے عوام چاہے مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی، جو اس سرِزمین کے اصل مالک ہیں، وہ اپنی حکومت کا انتخاب کریں اور اغیار نیز نتن یاہو جیسے غداروں اور بدمعاشوں کو اپنے ملک سے نکال کر اپنے ملک کو خود چلائیں اور یقیناً ایسا ہو کر رہیگا۔"

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے ایک اور انتہائی اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، "دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا راستہ یہ ہے کہ حقائق سامنے لائے جائیں اور راہِ حق میں استقامت سے کام لیا جائے۔" رہبرِ انقلابِ اسلامی کی حقائق بیان کرنے پر تاکید اور اس کے نتیجے میں آنے والی مشکلات اور ان کے مقابلے میں استقامت و ڈٹ جانا حقیقت میں "تواصو بالحق" اور "تواصو بالصبر" کی عملی تفسیر ہے۔ رہبر معظم نے خسارے سے بچنے کا دو نکاتی فارمولا بتا دیا ہے کہ حقائق بیان کرنے میں سستی و کوتاہی کا مظاہرہ کیا جائے اور نہ حقائق کے بیان کے بعد استقامت و پائیداری کی بجائے پسپائی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر امت مسلمہ، اسلامی حکمرانوں اور مختلف ممالک میں سرگرم عمل مذہبی و دینی قائدین کو خسارے اور کامیابی کے راستے کے درمیان فرق کی نشاندہی کر دی ہے، یہ صحیح انتخاب سب کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 827645
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے