0
Saturday 16 Nov 2019 12:40

جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ ناکامی سے دوچار

جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ ناکامی سے دوچار
رپورٹ: ایس علی حیدر

پشاور موڑ اسلام آباد میں وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کیلئے ہونے والے آزادی مارچ کو 13 دن کے گزر جانے کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور پلان بی کے تحت ملک بھر میں اہم شاہراہیں، سڑکیں اور جی ٹی روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کرنے پر عملدرآمد شروع کیا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے 3 اکتوبر 2019ء کو 27 اکتوبر سے آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، شیڈول کے مطابق آزادی مارچ 27 اکتوبر ہی کو سہراب گوٹھ کراچی سے روانہ ہوا اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچا۔ آزادی مارچ کے سلسلے میں جگہ جگہ جلسے بھی کئے گئے اور مارچ کے شرکاء کا استقبال بھی ہوتا رہا۔ 31 اکتوبر سے 13 نومبر تک آزادی مارچ کے شرکاء نے پشاور موڑ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالا، آزادی مارچ کی قیادت کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن نے "پلان اے" کے تحت وزیراعظم سے استعفیٰ لئے بغیر مارچ ختم کرنے سے انکار کیا۔ "پلان اے" کامیاب نہ ہونے پر قائد جمعیت نے پارٹی کی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ سے مشاورت کے بعد پلان بی پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا اور 13 نومبر کی رات کو آزادی مارچ ختم کر دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی سے مارچ ختم کرانے کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں وزراء کمیٹی مذاکرات کرتی رہی، تاہم مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوتے رہے، جب وزراء کمیٹی کے مذاکرات ناکام ہوئے تو چوہدری برادران چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے بھی مولانا سے مذاکرات کے کئی دور ہوئے، مگر اس کے باوجود مذاکرات کامیابی سے دوچار نہیں ہوئے ہیں۔ آزادی مارچ سے متعلق مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کا پہلا مرحلہ یعنی "پلان اے" ناکام ہوا، جبکہ "پلان بی" کی ناکامی کے واضح امکانات ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آزادی مارچ نے کئی کامیابیاں حاصل کیں، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو 8 ہفتوں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ضمانت ملنا آزادی مارچ کے دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آزادی مارچ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ کراچی سے لے کر اسلام آباد، اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالنے اور حتٰی کہ مارچ کے اختتام پر بھی مارچ پُرامن رہا۔

مارچ کے دوران کوئی شیشہ اور گملا تک نہیں ٹوٹا، بعض ناقدین کے مطابق آزادی مارچ کی ناکامی سے حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے، شروع ہی سے یہ باتیں اور تجزیئے ہوتے رہے کہ لانگ مارچ، شارٹ مارچ، دھرنے اور احتجاج کے فتنے میں کوئی حکومت ختم نہیں ہوئی ہے۔ آزادی مارچ کے دوران جمعیت کے کارکنوں کا حوصلہ، استقامت اور اپنے کاز سے کمٹمنٹ قابل دید رہی۔ آزادی مارچ کی ناکامی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم سب سے بڑی وجہ بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت کے آزادی مارچ میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا، بلکہ یہ دونوں جماعتیں الگ لگ رہیں۔ سیاسی جماعتوں نے سول بالادستی قائم کرنے کا سنہری موقع گنوا دیا ہے، اگر حزب اختلاف کی جماعتیں آزادی مارچ میں بھرپور شریک ہوتیں تو شاید کامیابی مل جاتی۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسا سنہری موقع شاید کبھی ملے، مولانا کے آزادی مارچ نے عسکری قیادت کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں فوج الیکشن سے دور رہے گی۔ 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں فوج کی مداخلت اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے باعث اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔ آزادی مارچ بظاہر اپنے مقاصد حاصل کیلئے کرنے میں ناکام رہا، لیکن مستقبل قریب میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے، اس کی پیشن گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ آزادی مارچ کی جانب سے مقاصد کے حصول میں ناکامی جمعیت کیلئے دھچکا ثابت ہوسکتا ہے، بغیر کسی نتیجے مارچ کا خاتمہ بظاہر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ناکامی نظر آرہی ہے۔ مولانا کامیابی کیلئے زیادہ پُرامید تھے، تاہم ان کی پراعتمادی اور پُرامیدی ناکام ہوگئی ہے، مولانا گہرے سیاستدان ہیں، شاید کسی مصلحت کے نتیجے میں انہوں نے آزادی مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا۔
خبر کا کوڈ : 827660
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے