1
Saturday 16 Nov 2019 17:47

افغانستان بحران کی جانب گامزن

افغانستان بحران کی جانب گامزن
تحریر: اسماعیل باقری

افغانستان کے چوتھے صدارتی انتخابات کئی ماہ ملتوی ہونے کے بعد منعقد ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات 9 نشستیں انجام پانے کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کی جگہ انتخابات کا راستہ اس وقت انتخاب کیا گیا جب امریکی صدر نے کیمپ ڈیوڈ میں مذاکرات کی نشست کینسل کر دی۔ اس نشست میں افغان صدر اشرف غنی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے مرکزی رہنماوں کی موجودگی میں افغانستان میں حتمی امن معاہدے پر دستخط ہونا تھے۔ درحقیقت امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کے بعد صدارتی انتخابات کے انعقاد کی حمایت کی۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کے دن منعقد ہوئے۔ ابتدائی نتائج کا اعلان تین ہفتے بعد اعلان ہونا تھے لیکن اب تک ان کا اعلان نہیں کیا گیا۔ شروع میں انتخابات میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد 27 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی تھی لیکن جرمنی کی کمپنی ڈرم لاگ، جس نے ان انتخابات میں فنگر پرنٹس والی مشینیں مہیا کر رکھی تھیں نے اعلان کیا ہے کہ صرف 19 لاکھ 23 ہزار 673 ووٹ قابل قبول تھے۔ اسی طرح اس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس تعداد میں سے بھی تقریبا 1 لاکھ ووٹ ایسے ہیں جو دوبارہ دیے گئے ہیں۔
 
درحقیقت اس الیکشن میں قابل قبول ووٹوں کی تعداد 17 لاکھ 95 ہزار ہے۔ البتہ سینیٹ اور بعض دیگر گروہوں کے دباو کے نتیجے میں افغانستان کے الیکشن کمیشن نے نان بائیومیٹرک ووٹوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبداللہ اور بعضی دیگر صدارتی امیدوار اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ بعض صوبوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بھی مخالف ہیں جن کی تعداد تقریبا 3 لاکھ ہے۔ اس وقت الیکشن کی نگرانی کرنے والی مختلف ٹیموں خاص طور پر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کی ٹیموں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور قابل قبول ووٹوں کو مسترد شدہ ووٹوں سے الگ کرنے کے سلسلے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے الیکشن کے ابتدائی نتائج کا اعلان کئی بار ملتوی ہو چکا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام اور افغان صدر اشرف غنی کی ٹیم الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کر کے رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ حتی اقوام متحدہ نے بھی صدارتی امیدواروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد اسے قبول کر لیں۔
 
صدارتی امیدواروں کی کونسل نے حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کو سیاسی بحران کی جانب دھکیل رہے ہیں لہذا ان سے استعفی دے کر دوبارہ الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ بائیومیٹرک اور نان بائیومیٹرک ووٹوں نیز 3 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مسئلے میں پائے جانے والے اختلافات کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کے اراکین میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان بھی تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ صدارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ حوا علم نورستانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف بائیومیٹرک طریقے سے اخذ کئے گئے ووٹ ہی قابل قبول ہوں گے۔ دوسری طرف صدارتی الیکشن کمیشن کے اعلی سطحی رکن مولانا عبداللہ نے کہا ہے کہ بعض افراد نے الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں مداخلت کی ہے جن میں اقوام متحدہ کی نمائندگی یوناما بھی شامل ہے۔ اس بارے میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے جلد از جلد اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ البتہ انہوں نے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کیلئے انتخابات کے نتائج کے اعلان کو ضروری قرار دیا۔
 
اشرف غنی اور دیگر صدارتی امیدواروں کی ٹیمیں بھی انتخابات کے نتائج کے اعلان کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ لیکن افغانستان کے ایوان بالا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام جماعتوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے نتائج قبول کر لینے چاہئیں۔ دوسری طرف ایک صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جرمنی کی کمپنی ڈرم لاگ کو 27 ملین ڈالر رشوت دی ہے تاکہ اشرف غنی کی مرضی کے نتائج کا اعلان کیا جائے۔ بعض حلقے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اشرف غنی شکست کھا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ہر حالت میں طالبان سے امن معاہدے اور نیا حکومتی سیٹ اپ تشکیل دینے پر زور دے رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والے بحران کی صورت میں نگران حکومت کا قیام خالی از امکان نہیں۔ مختصر یہ کہ افغانستان ایک بار پھر سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس ملک کے حالات ایک ایسی سمت بڑھ رہے ہیں جو ایک طرف اندرونی اختلافات اور تناو میں اضافے اور دوسری طرف بیرونی قوتوں کی مداخلت میں اضافے کا نتیجہ ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی مداخلت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 827743
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے