0
Tuesday 19 Nov 2019 23:12

ایک ہی پاکستان ہے، اشرافیہ کا پاکستان!

ایک ہی پاکستان ہے، اشرافیہ کا پاکستان!
تحریر: سید اسد عباس

تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے، دنیا کے امیر ترین اشخاص میں سے ایک فرد اور پاکستانی عدلیہ میں کرپشن کے الزام میں سزا پانے والے قیدی نواز شریف جو کہ ضمانت پر رہا ہوئے خراب صحت کی بنیاد پر پاکستان کو خیر باد کہ کر چلے گئے۔ حکومت وقت نے کوشش کی ان سے کوئی شورٹی بانڈ لے لیا جائے تاہم لاہور کی ہائی کورٹ نے ان کو بیان حلفی پر ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔ میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے اچانک شور و غوغا شروع ہوا، میڈیا پر ن لیگ کے سیاستدانوں اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ میاں صاحب کا علاج ملک میں نہیں ہوسکتا۔ ان کا جرم، خاندانی پس منظر، ان پر لگے ہوئے جرمانے سب کچھ فراموش کر دیا گیا۔ عدلیہ نے ایک اسٹامپ پیپر پر ان سے لکھوایا کہ آپ چار ہفتے کے لیے ملک سے علاج کی غرض سے باہر جا سکتے ہیں اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے تاہم آپ صحت یاب ہونے کے بعد ملک میں واپس تشریف لے آئیں گے اور اپنے مقدمات کا سامنا کریں گے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ اسی جج نے دیا جس نے ماڈل ٹاون کیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں میاں نواز شریف کے بھائی کی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

میاں نواز شریف کے ملک سے نکل جانے کے بعد سے ملک میں ایک بحث کا آغاز ہوچکا ہے بالخصوص عمران خان کی حکومت میں اس بحث کا شروع ہونا بدیہی تھا۔ عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کا پیسہ لوٹنے والوں، کرپشن کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔ ان کا مسلسل یہ کہنا رہا کہ میں ان مجرموں کو کوئی ڈھیل نہیں دوں گا اور نہ ہی ان کے ساتھ ماضی کی مانند کوئی ڈیل کی جائے گی ۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے قبل کئی ایک تقاریر میں کہا تھا کہ دو پاکستان نہیں ایک پاکستان بنانا ہے۔ ایک پاکستان سے ان کی مراد یہی تھی کہ اس ملک کا قانون ، حقوق سب پاکستانیوں کے لیے ایک جیسے ہوں گے۔ ہم انگلش میڈیم ، اردو میڈیم اور مدرسہ سسٹم کو ختم کرکے ایک نصاب تعلیم نافذ کریں گے۔ قانون کے سامنے ہر شخص برابر ہوگا۔ صحت، تعلیم کی سہولیات ہر شخص کو میسر ہوں گی۔ تاہم جو کچھ گذشتہ چند دنوں میں ہوا اور جیسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے دیا اس نے ایک مرتبہ پھر دو پاکستان کے تاثر کو تقویت دی۔

عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ملک کی عدالتیں پاکستان میں موجود دیگر بیمار قیدیوں کو بھی ایسی ہی سہولیات مہیا کریں گی جو کہ میاں محمد نواز شریف کو مہیا کی گئیں ہیں۔ نہ پہلے کبھی تاریخ میں ایسا ہوا اور نہ ہی آئندہ ایسے ہوگا کہ کوئی غریب پاکستان جیل میں بستر مرگ پر ہو اور اسے علاج کی غرض سے جیل سے رخصت دے دی جائے۔ ملک میں چلنے والے دیگر بااثر مجرموں کے خلاف چلنے والی تحقیقات بھی اب بے معنی سی لگتی ہے نہ جانے کب ان پر عدالت کو رحم آجائے اور وہ بھی کسی جہاز پر سوار ہوکر ملک سے چلے جائیں۔ درج ذیل عدالتی فیصلے کی روشنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی حق بنتا ہے کہ ان کو بھی علاج کی غرض سے ملک سے جانے کی اجازت دی جائے۔ اس مثال کی روشنی میں خورشید شاہ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اسی طرح کے سبھی مریض بھی انہی عدالتوں کے رحم کے مستحق ہیں۔

ممکن ہے کوئی کہے کہ میاں نواز شریف کو چار ہفتے ہی کی تو اجازت دی گئی ہے وہ جلد ہی واپس آجائیں گے اس پر اس قدر پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ پریشانی کی بات کسی بھی شخص کا ملک سے باہر جانا نہیں ہے۔ پریشانی ملک میں موجود ان باثر حلقوں کے رویے کے حوالے سے ہے جو اس ملک کو دو پاکستان میں ہی تقسیم رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی مرضی نہ ہونے کے باوجود ملک میں اشرافیہ اور عوام سے الگ الگ برتاؤ کا رویہ پریشان کن ہے۔ وہ زیر لب مسکراہٹ پریشان کن ہے جو میڈیا کے اینکرز اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے چہروں پر عیاں ہوتی ہے۔ سیاستدانوں کے وہ بیانات پریشان کن ہیں جو کہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے یعنی جیسے وہ کہ رہے ہوں کہ ملک کے اہم فیصلہ جات، حکومتوں کی تشکیل اور تنزلی کسی اور قوت کے ہاتھ میں ہے۔ اس طرح کے تاثر سے عوام کا جمہوریت اور ایوان پر اعتماد باقی نہیں رہ سکتا ہے۔

کوئی ملک کے وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہتا ہے اور کوئی ملک میں ہونے والے عدالتی فیصلوں کو امپائر کی انگلی اٹھنا۔ یہ سب باتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس طرح سے کسی خلائی مخفی قوت کا تاثر دے کر عوام کو ریاست کے حوالے سے کیا پیغام دیا جاتا ہے؟ کیسے توقع کی جاتی ہے کہ ملک سے کرپشن، جرائم کا خاتمہ ہوگا ؟ جب اس ملک میں بڑے مجرموں کو آزادی حاصل ہے تو پھر دودھ، آٹے، نمک ، مرچ اور ادویات میں ہیر پھیر کرنے والوں کو ملاوٹ اور دھوکا دہی سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ کیسے کسی تھانیدار کو رشوت نہ لینے کا کہا جائے گا ؟ کیسے کسی پٹواری سے یہ توقع رکھی جائے گی کہ وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال نہ کرے؟ کیسے اساتذہ سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سکولوں میں حاضریوں کو یقینی بنائیں اور بچوں کی تعلیم کو اہمیت دیں۔ طبیبوں سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو چیک کریں اور ان کی صحت کا خیال رکھیں۔ جب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے تو کیسے اس معاشرے کو درست ڈگر پر چلایا جاسکتا ہے؟۔

عوام کی اکثریت میں سیاسی شعور کی کمی کے ساتھ یہ کھلواڑ پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، اسی طرح کا کھیل بھارت، بنگلہ دیش اور اسی طرح کے کم پڑھے لکھے معاشروں میں عام ہے۔ کہیں کھلاڑی مذہبی کارڈ کا استعمال کرتا ہے تو کہیں لسانیت و فرقہ واریت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایسے ملکوں میں جمہوریت خواہ صدیوں تک طرز حکومت رہے عوام کے احوال بدستور وہی رہیں گے جو کہ ان سے قبل کی نسلوں کے تھے۔ مبادا یہ کہ عوام کا سیاسی شعور اس سطح تک پہنچ جائے کہ وہ اپنے حقوق کو پہچان کر اس کا دفاع کر سکیں اور اپنے ووٹ کا حق ملکی مفاد میں استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 828100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے