0
Wednesday 20 Nov 2019 11:53

پُرتشدد مظاہرے۔۔۔ مشرق وسطیٰ سمیت ایران پر نیا وار

پُرتشدد مظاہرے۔۔۔ مشرق وسطیٰ سمیت ایران پر نیا وار
تحریر: تصور حسین شہزاد
 
مشرق وسطیٰ کی بھی عجیب قسمت ہے۔ لگتا ہے کہ امن کی دیوی اس خطے سے بُری طرح ناراض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک میں امن زیادہ دیر نہیں ٹِک پاتا، چند ماہ یا سال امن ہوتا ہے اور پھر اچانک دوبارہ بدامنی اپنے پر پھیلائے آن وارد ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں عراق میں نئی سازش کا آغاز ہوا۔ اربعین پر کربلا میں ہونیوالے عالمی اجتماع کو روکنے کیلئے ایک سازش کھڑی کی گئی جس میں پُرتشدد مظاہروں سے عراق کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر آیت اللہ سیستانی حسب روایت دوبارہ میدان میں آئے اور مظاہرین سے کہا کہ وہ اربعین کے احترام میں مظاہرے روک دیں، ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو بھی ہدایت کی کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ خیر، آیت اللہ سیستانی کے حکم کے بعد عراق میں وقتی طور پر تو امن قائم ہو گیا اور اربعین بخیر و عافیت گزر گیا مگر بعدازاں دوبارہ ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس میں ایران نے عراقی حکومت کی مدد کی اور ہنگامہ آرائی رکوانے اور قیام امن میں کردار ادا کیا۔
 
اسی عرصے میں لبنان میں بھی احتجاجی مظاہروں کی آگ بھڑک اُٹھی۔ لبنان میں بھی مظاہروں کی وجہ کرپشن اور بڑھتی ہوئی بدحالی کو بنیاد بنایا گیا اور یہی جواز عراق میں ہونیوالے مظاہروں میں بھی تھا۔ لبنان کے مظاہروں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو کہ واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ سروسز پر عائد ہونیوالے ٹیکس کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں کے باعث لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ لبنان میں معاشی صورتحال کچھ خراب ہے، قرضوں کا بوجھ ہے اور انتظامی حوالے سے معیشت دن بہ دن کمزور ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنانی حکومت چھوٹی چھوٹی سروسز پر بھی ٹیکس عائد کر رہی تھی مگر حالیہ عوامی ردعمل پر واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ سروسز پر عائد ٹیکسز بھی واپس لے لئے گئے اور وزیراعظم بھی مستعفی ہو گئے۔ اس پر مظاہرین نے خوشی کا اظہار کیا کہ ان کا احتجاج رنگ لے آیا ہے مگر لبنان میں بدامنی پھیلانے والی قوتوں کو اس میں کامیابی نہیں ملی۔ لبنان میں برسراقتدار جماعت اور اس کے اتحادی وہی ہیں۔ صرف وزیراعظم مستعفی ہوئے ہیں۔ نیا وزیراعظم بھی انہیں اتحادی جماعتوں نے ہی منتخب کرنا ہے اور جو قوتیں چاہتی تھیں کہ لبنان میں حکومت تبدیل ہو اسے کچھ نہیں ملا، کیوں کہ سعد حریری نے جہاں استعفیٰ دیکر عوام کو ٹھنڈا کر لیا وہیں لبنان دشمن قوتوں کو بھی ناکام کر دیا۔
 
اب جو بھی وزیراعظم ہوگا وہ موجودہ حکومت سے ہی ہوگا۔ بس چہرہ ہی بدلا ہے، حکومت نہیں۔ اسی طرز پر عراق اور لبنان کے بعد ایران میں کئی برسوں سے پلنے والی سازش بھی اس وقت پھوٹ پڑی جب ایرانی حکومت نے پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کر دیا۔ ایرانی حکومت نے گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی اعلان میں کہا گیا کہ ہر شخص اگر ماہانہ 60 لٹر پٹرول خریدے گا تو اسے 50 فیصد اضافی رقم ادا کرنا ہوگی اور اگر اس نے 60 لٹر سے زیادہ پٹرول خریدا تو اسے 200 فیصد اضافی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اس پالیسی کا مقصد شہریوں کی جانب سے پٹرول کے ضیاع کو روکنا  تھا، کیونکہ پٹرول ایران سے ہی نکلتا ہے اور دیگر ممالک کی نسبت سستا ہے تو عوام پٹرول سستا سمجھ کر بے دریغ استعمال کرتے ہیں، قیمتوں میں اضافے کا مقصد اس بے دریغ استعمال کو روک کر پٹرول کو باہر کے ممالک کو فروخت کرنا ہے جس سے حکومت اپنی معیشت میں بہتری لانے کی خواہاں ہے، مگر چونکہ ایران میں ایک عرصے سے سازش تیار کی جا رہی تھی اور ایران دشمن قوتیں یہ جان چکی تھیں کہ ایران پر بیرونی حملے میں انہیں کامیابی نہیں ملے گی، حالیہ دشمن قوتوں کے ڈرونز پکڑنے اور تباہ کرنے کے ایرانی ردعمل سے دشمن قوتیں کافی پریشان ہوئی ہیں۔ اس لئے انہوں نے ایران کی سرحدوں پر حملے کے بجائے اندرونی طور پر ایک سازش تیار کی۔ جو اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
 
ایران میں ہونیوالے مظاہروں کو ایرانی حکومت نے فوری طور پر نہیں روکا، بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت انہیں موقع فراہم کیا، جس کا مقصد یہ لگتا ہے کہ ایک تو عوام کا کتھارسس ہو جائے گا اور دوسرا ان مظاہروں کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ بھی سامنے آ جائیں گے جنہیں گرفتار کرنا آسان ہوگا۔ اس میں ایرانی حکومت کا نقصان کافی زیادہ ہوگیا ہے، فورسز کے 4 اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں، املاک کو نقصان پہنچا ہے مگر مظاہروں کے پیچھے موجود سازشی عناصر حکومتی گرفت میں آ چکے ہیں۔ پولیس نے 200 کے قریب شرپسندوں کو گرفتار کیا ہے جو ان مظاہروں کو پُرتشدد بنانے میں کردار ادا کر رہے تھے اور اشتعال پھیلا رہے تھے جبکہ دیگر گرفتار ہونیوالے مظاہرین کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔ اس سے یہ ہوا ہے کہ اب مظاہروں میں کمی ہوئی ہے اور امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں آ رہی ہے۔ ایران کی حکومت اس سازش سے آگاہ تھی اور اس کے تدارک کیلئے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کر چکی تھی، یہی وجہ ہے کہ ان مظاہروں کے ملک گیر ہونے کے باوجود صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے اور اس میں بھی لبنان کی طرح دشمن قوتوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔
 
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں اضافے کی تائید کی تھی اور کہا تھا کہ ایرانی معیشت کی بہتری اور پٹرول کے اسراف کو روکنے کیلئے یہ اقدام درست ہے جبکہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی مظاہروں کو پُرتشدد بنانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں انتشار اور بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ احتجاج کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حساب دینا ہوگا۔ ایرانی اخبار کیہان نے منگل کے روز شائع شدہ ایک مضموں میں دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں کو پُرتشدد بنانے اور بیرونی قوتوں کے گرفتار ہونیوالے آلہ کاروں کو سزائے موت دیکر پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے  سے عدلیہ کے حکام بھی جائزہ لے رہے ہیں اور فوری ٹرائل کے بعد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ اُدھر ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے پُرتشدد مظاہرین کی امریکی حمایت پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی غیرت مند قوم بخوبی جانتی ہے کہ پُرتشدد مظاہروں کی حمایت ایرانی قوم سے ہمدردی نہیں بلکہ ایرانی قوم سے کھلی دشمنی ہے۔ سید عباس موسوی  نے امریکی وزیر خارجہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعجب کی بات ہے وہ ایک ایسی قوم کی حمایت کی بات کر رہے ہیں جو کئی سالوں سے امریکی اقتصادی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ سید عباس موسوی کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو وہ شخص ہیں جہنوں نے صراحتاً کہا تھا کہ ایرانی عوام کو بھوک سے نڈھال کر دو تاکہ وہ ہمارے سامنے تسلیم ہو جائیں۔
 
ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر ملک کے مختلف شہروں میں ہونیوالے مظاہروں پر امریکی وزیر خارجہ نے پُرتشدد مظاہرین کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس حمایت کو ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی نے بھی افسوسناک اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ ایرانی حکام یہی سمجھتے ہیں کہ ان پُرتشدد مظاہروں کے پیچھے امریکی ہیں جو عسکری محاذ سے بری طرح شکست خوردہ ہو کر اب اس سازش کے تحت ایران کے اندرونی امن و امان کو خراب کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ حالیہ مظاہروں اور ماضی کے حالات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ ایران دشمن قوتوں کو اس میں بھی ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایرانی قیادت بہتر جانتی ہے کہ اس قسم کی سازشوں کا سدباب کیسے کیا جاتا ہے۔ ایرانی قیادت اس حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کر چکی ہے، ایک دو روز میں پورے ایران میں معاملات معمول پر آ جائیں گے اور گرفتار ہونیوالے شرپسند بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 828127
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے