0
Friday 22 Nov 2019 22:46

احتجاج حق ہے مگر یہ تو فساد تھا

احتجاج حق ہے مگر یہ تو فساد تھا
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ٹویٹر پر ایک تصویر نظر آرہی تھی، جس میں چند اسلامی طرز تعمیر کے ایرانی نقش و نگار والی خوبصورت عمارات جلی ہوئی تھیں۔ اس کے ماتھے پر لکھا تھا "ہمارے بھائیوں نے مدرسہ خاتم الانبیاء اور چند دیگر مدارس و مساجد کو ایران میں آگ لگا دی ہے۔ یاد رہے یہ مقامات دہشتگردوں کی تربیت کے مراکز تھے۔" مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایران میں حکومت کے پاس اپنے افراد کو تربیت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیت گاہیں موجود ہیں، انہیں کیا ضرورت پڑی کہ وہ مساجد اور مدارس کے اندر فوجی تربیت دیں۔؟ پروپیگنڈا باقاعدہ جنگ سے زیادہ خطرناک صورت اختیار کرچکا ہے، اب تو باقاعدہ اسے سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ چند سال قبل جب روس نے موجودہ انٹرنیٹ کے پورے نظام سے تعلق توڑ کر اپنا نظام بنانے کی بات کی تھی تو مجھے بہت عجیب لگا تھا، مگر اب بات سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ بالکل درست فیصلہ تھا، اس سے بیرورنی اثرات سے پاک اور اپنے پاس اختیار کا حامل نظام ہوگا۔ ہر آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے، جو اس معاشرے کو ادا کرنا پڑتی ہے، جو اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

ایران مسلم دنیا میں وہ واحد ملک ہے، جو اپنی آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ اور خطے میں امریکہ کا لاڈلا اسرائیل اس کا کھلا دشمن ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے خطے کے عرب ممالک کے ساتھ ملکر لبنان سے لیکر عراق تک  آگ لگا دی اور بدقسمی سے مسلمان کو مسلمان سے لڑا دیا۔ وہ نعرہ تکبیر جو  انسان دشمنوں کے خلاف لگنا چاہیے تھا، وہ مسلمانوں کے قتل عام پر لگایا گیا۔ اس سے اسرائیل اور امریکہ بہت خوش تھے کہ وہ اسلحے کا پیسہ بھی لے رہے ہیں اور مر بھی مسلمان رہے ہیں۔ لیکن وقت نے پلٹا کھایا۔ ایران، عراق، شام اور لبنان کی غیور عوام کی قربانیوں اور قیادت کے درست فیصلوں نے امریکی و اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس سے امریکی ورلڈ آرڈر کو عملی طور پر بڑا چیلنج پیش آگیا اور پوری دنیا میں اس کی سبکی ہوئی۔ سچی بات ہے کہ جب امریکی صدر ٹرمپ نے شام سے واپسی کا اعلان کیا اور عراق میں بھی اس کی موجودگی بڑی حد تک محدود ہوچکی تھی، تو اس وقت مجھے یہ سمجھنے میں بڑی دقت پیش آرہی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ اور سینکڑوں فوجی مروانے کے بعد امریکہ خطے سے نکل جائے۔

اگرچہ ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں کو اپنی جنگ خود لڑنے دیں، اس پر مزید شک گزرا کہ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی اور بقول مرزا اسد اللہ خان غالب کہ ؎
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
وہی ہوا کہ چند دن ہی گزرے تھے کہ فوجی حملے سے ناکامی کے بعد اندرونی حملہ کیا گیا اور عراق میں شدید مظاہرے شروع ہوگئے۔ سب حیران تھے کہ یہ لوگ کہاں سے آگئے؟ انٹرنٹ پر ایسے مواد آرہا تھا گویا مدتوں اس کی تیاری کی گئی ہو۔ اربعین کے ایام نزدیک تھے، یہ خظرہ پیدا ہوگیا کہ اربعین کا وہ عظیم اجتماع جسے داعش اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ روک سکے، وہ شیعہ خود روکیں گے۔ ایسے میں آیۃ اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی نے ہمیشہ کی طرح بہت موثر کردار ادا کیا اور ان مظاہروں کو اربعین کے بعد تک ٹال دیا اور یوں عراق ایک بڑی خانہ جنگی سے بچ گیا۔ ان مظاہرین نے جو مسائل بیان کئے، ان میں بنیادی طور پر بیروزگاری اور کرپشن اہم تھے۔ ان دونوں کی ذمہ دار عراقی حکومت تھی، مگر مظاہرین نعرے ایران اور عراق کی مرجعیت کے خلاف لگا رہے تھے اور حیرت انگیز طور پر کربلا میں ایران کے سفارتخانے پر حملہ کرایا گیا اور چند کرائے کے لوگوں سے نعرہ بازی بھی کرائی گئی۔

ان حالات میں امریکی و اسرائیلی منصوبہ سازوں نے ایران کے بارے میں بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور سوچا کہ ایران پر براہ راست حملے کی بجائے، اندرونی حملے پر زیادہ خرچ کیا جائے۔ ایران نے اپنے اقتصادی حالات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ اس اضافے کے نتیجے میں عوام کا غصہ ہونا اور احتجاج کرنا، مہذب معاشروں میں رائج طریقہ کار ہے اور ایران میں بھی اسی طرح پرامن انداز میں اپنی بات پہنچائی جاتی ہے۔ کچھ علاقوں میں لوگوں نے اس اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے، یہی وہ وقت تھا جب امریکہ و اسرائیل کے زرخرید ان عوامی مظاہروں کو ہائی جیک کرتے ہوئے داخل ہوئے اور انہیں جلاو گھراو میں تبدیل کر دیا۔ ہمارے کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ ایران میں عوام پر تشدد ہو رہا ہے، انہیں صرف احتجاج کرنے پر مارا جا رہا ہے۔ ایران کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کر رہے ہیں، آپ صرف چند رپورٹس ملاحظہ کر لیں، ان لوگوں نے سو بنکس جلائے ہیں، ستر سٹورز کو آگ لگائی ہے۔ اسی طرح سرکاری عمارات اور کئی عوامی کارخانوں کو جلایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف تہران میں عوامی حفاظت پر مامور چار اہکاروں کو شہید کر دیا ہے۔

دیگر جگہوں پر ایسے ہی حملے کیے گئے۔ وہ لوگ جو منظم انداز میں آگ لگا رہے ہیں، جو پولیس اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں اور جنہوں نے عوامی کارخانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو آگ لگائی ہے۔ معاف فرمائے گا، یہ مظاہرین نہیں ہیں، بلکہ  فسادی ہیں اور دنیا کا کوئی مہذب ملک ایسے فسادیوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایران کے سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی املاک جلانے والوں کو پکڑیں اور ان کو سزا دیں، تاکہ معاشرے میں افرا تفری نہ ہو۔ جہاں تک انٹرنٹ کے بند ہونے پر اعتراض کا سوال ہے تو یہ ایسے ہی ہے، جیسے ہمارے ہاں عاشورا اور دیگر مواقع پر سکیورٹی کے لیے اسے بند کر دیا جاتا ہے۔ ایران سے باہر بہت سی ایسی قوتیں ہیں، جو ان لوگوں کو مشتعل  کرتی ہیں اور جلاو گھراو پر اکساتی ہیں، ان کے شر سے بچنے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا، جسے اب جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ہو، ہم ہر جگہ پرامن مظاہرہ کے حق کو نا صرف تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اس کے حمایتی ہیں۔ لیکن مظاہروں کی آڑ میں جلاو گھراو اور قتل و غارت کے شدید خلاف ہیں۔ وطن عزیز پاکسان، عراق، شام اور خطے کے دیگر ممالک جس قتل و غارت گری کا شکار رہے، ایران نے خود کو بڑی حکمت عملی سے اس سے محفوظ رکھا ہے اور اب بھی انشاء اللہ ایسے شرپسند ناکام ہوں گے، جن کا ایجنڈا فقط اور فقط فساد برپا کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 828520
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب