0
Sunday 1 Dec 2019 09:54

سفارتی جارحیت

سفارتی جارحیت
اداریہ
دنیا میں نت نئی جنگیں بیک وقت جاری ہیں۔ ہر جنگ کا اپنا ہیڈکوارٹر، کنٹرول روم اور ٹھکانہ ہوتا ہے۔ ایٹم بم سے لیکر جنگی طیاروں، فوجی جنگوں اور آرٹلری کے ذریعے سے جنگ سے تو سب آشنا ہیں۔ کچھ عرصے سے نرم جنگ (سافٹ وار) کے نام سے ایک اور طرزِجنگ متعارف ہوئی ہے۔ اس جنگ کو پہلے ثقافتی اور بغیر اسلحے کی جنگ بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن جو جنگ طول تاریخ میں ہمیشہ جاری رہی اور کسی بھی وقت معطل نہیں ہوئی، وہ سفارتی جنگ یا ڈپلومیٹک وار ہے۔ دوسری جنگوں کی طرح اس جنگ نے بھی کئی بڑے نامور سورما، شاہسوار اور ہیرو پیدا کیے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق تقریباً ہر بڑی جنگ کا خاتمہ سفارتی جنگ سے ہی ہوتا ہے اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ میدان جنگ میں ہاری ہوئی جنگ سفارتی میز پر جیت لی جاتی ہے۔ بڑے بڑے جنگجو اور سورما حتمی کامیابی کے لیے سفارتی کامیابی کے محتاج رہے ہیں۔

البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات سفارتی جنگجو بڑی بڑی جنگوں کو روکنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ آج کے زمانے میں دنیا کے ہر ملک نے سفارتی جنگ کے لیے دوسرے ملک میں سفارتخانے یا ایمبیسی کے نام پر سفارتی ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ عالمی اداروں نے اس سفارتی جنگ کے کچھ اصول و ضوابط یا سفارتی آداب بھی تشکیل دے رکھے ہیں۔ لیکن سامراجی طاقتیں جس طرح عالمی اداروں اور عالمی برادری کے قوانین اور پروٹوکولز کی پامالی کرتی ہیں، سفارتی میدان میں بھی ان کا یہی رویہ رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سفارتی میدان میں امریکہ کی جولانیاں ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس اور جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف عراقی حکام کو اعتماد اور اطلاع دیئے بغیر عراق پہنچ گئے اور من مانیاں کرتے رہے۔ یہی صورتحال افغانستان میں نظر آئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ کی افغانستان آمد کا افغان صدر کو اس وقت پتہ چلا، جب امریکی گاڑی انہیں بلگرام ائیربیس پر لے جانے کے لیے افغان ایوان صدر پہنچی۔

افغان صدر اشرف غنی کی امریکی ائیربیس پر صدر ٹرامپ سے غیر متوقع ملاقات میں افغان صدر کی باڈی لینگوئج تمام حقائق کو بیان کر رہی تھی۔ امریکی حکام پوری دنیا کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جب چاہیں کسی ملک میں دندناتے پھریں اور کوئی ان پر اعتراض کرنیوالا بھی نہ ہو۔ ڈونلڈ ٹرامپ اس سے پہلے عراق میں بھی رات کے اندھیرے میں ایک سفارتی جارحیت کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے عراق میں موجود امریکی اڈے پر پہنچ کر عراقی وزیراعظم کو ملاقات کے لیے طلب کیا۔ لیکن وہ افغان صدر کی طرح لبیک کہتے ہوئے ٹرامپ کی خدمت میں نہیں پہنچے، بلکہ انہوں نے امریکی صدر کے اس اقدام کو عراق کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ امریکی صدر نے عراقی وزیراعظم سے اس کا انتقام کیسے لیا، عراق کی موجودہ صورتحال اس کی گواہ ہے۔ عجیب ہے کہ اب بھی سب سے بڑا شیطان نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔
خبر کا کوڈ : 830122
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش