0
Sunday 1 Dec 2019 16:52

پاراچنار، اہلیان خیواص کی اپنے مطالبات کے حق میں پریس کانفرنس

پاراچنار، اہلیان خیواص کی اپنے مطالبات کے حق میں پریس کانفرنس
رپورٹ: ایس این حسینی

آج یکم دسمبر کو پاراچنار پریس کلب میں اہلیان خیواص نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کی، جس میں قوم کے مشران، عمائدین، جوانان اور کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس سے ملک عنایت حسین، مولانا محمد اللہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین نے کہا کہ خیواص کے نام سے آپ میں سے کون واقف نہیں بلکہ 2010ء میں رونما ہونے والے عظیم حادثے کی وجہ سے خیواص کو اگر دکھوں اور دکھیوں کا گڑھ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر اور پناہ گزیں قبائل میں سے خیواص کا شمار سب سے دردناک اور افسوسناک ہے۔ اپر، لوئر اور سنٹرل کرم کے کسی بھی علاقے میں خیواص جیسی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ 16 ستمبر 2010ء کو خیواص گاؤں دہشتگردوں کے ہاتھوں صفحہ ہستی سے اس طرح مٹ گیا کہ یہاں پر موجود عام گھر تو کیا سکول، امام بارگاہ اور مسجد میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں بچی۔ عمارات تو چھوڑیں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 100 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اہلیان خیواص کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو، جس میں صف ماتم نہ بچھی ہو۔

صحافیوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فسادات کے بعد قبائلی علاقوں خصوصاً سنٹرل کرم میں میں موجود متاثرہ قبائل پر حکومت کی خاص نظر کرم پڑگئی اور متاثرین کے ساتھ ہر ممکن کمک کی گئی۔ جس کی تفصیل کچھ یوں پیش کی گئی۔
1۔ سنٹرل کرم میں موجود ہر گھرانے کو چار لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا۔
2۔ یہاں (C.K) کے رہائشی ہر فرد کو اس کے شناختی کارڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کرایا گیا اور پھر رجسٹریشن کے بعد انہیں اے ٹی ایم کارڈ ایشو کیا گیا، جس کے تحت ہر فیملی کو فی شناختی کارڈ مبلغ 5000 روپے آج تک مسلسل مل رہے ہیں۔

3۔ اس علاقے کو ہر طرح کی مراعات فراہم کی گئیں بلکہ اب تک مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔ پہلے سے موجود سکولوں اور دیگر اداروں کو اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ نئے سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ایک جال بچھایا گیا۔ دور دور سے پائپ لائن کے ذریعے پینے کے صاف پانی کا اتنا وافر مقدار میں بندوبست کیا گیا کہ اب وہ پینے کے علاوہ آبپاشی کے کام بھی آسکتا ہے۔ اسی طرح لوئر کرم میں متاثرہ گھرانوں کو نقصان اور افراد کے تناسب سے بھاری معاوضہ دیا گیا۔ جس کی بنا پر مخی زئی کے پیر خمار مرحوم کو 85 لاکھ، باگزئی کے عبد الغفار کو ایک کروڑ روپے، جبکہ ملا جان کلے کے چھ گھرانوں کو 56 چیک، آڑاولی سیدانو کلی کے 12 گھرانوں کو 36، جیلمئے کو 118 چیک عنایت کئے گئے

خیواص کیساتھ سلوک:
ہم اہلیان خیواص کو کسی کی مراعات پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ یہ سب ہمارے بھائی ہیں۔ بے شک وہ اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ تاہم خیواص جتنا درد ان میں سے کسی کو بھی نہیں ملا ہے۔ اہلیان خیواص کی جانب سے ہر در و دفتر کو کھٹکھٹانے کے باوجود یہاں کسی ادارے (جن میں ایف ڈی ایم اے، ایس آر ایس پی، ای آر ڈی، ایف اے او، ایل اے ایس ایس او این اے (لاسونہ)، ایس ای آر ایف، ایف ڈی پی جی سی، ایس اے بی او او این (صابون)، زیڈ ایم کے اور جین قابل ذکر ہیں) کی جانب سے کچھ بھی نہیں ہوا، جبکہ یہی ادارے سنٹرل کرم اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں خوب فعال نظر آرہے ہیں۔ این جی اوز کے علاوہ سی این ڈبلیو، پبلک ہیلتھ اور ایری گیشن دیپارٹمنٹ وغیرہ جیسے سرکاری اداروں نے بھی یہاں کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ عمائدین نے واضح کیا کہ 2013ء (شہاب علی شاہ پی اے کے دور) میں گورنر ٹیم کے سروے کے مطابق خیواص کو 297 گھرانے تسلیم کیا گیا تھا، تاہم کمپینسیشن کے شعبے کی جانب سے انہیں 122 گھرانے قرار دیا گیا اور پھر 122 کو بھی پورا معاوضہ نہیں بلکہ آدھا یعنی تین لاکھ کے بجائے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے دیئے گئے۔

اہلیان خیواص کے مطالبات:
خیواص کے عمائدین نے صحافیوں کے توسط سے حکومت نیز غیر سرکاری تنظیموں (N.G.Os) سے مندرجہ ذیل مطالبے کئے۔
1۔ اہلیان خیواص کو سنٹرل کرم کے مساوی مراعات دی جائیں۔ بقایا چیک (122 کے علاوہ) فوراً فراہم کئے جائیں اور سنٹرل اور لوئر کی طرح انہیں بھی تمام چیک پورے پورے یعنی فی گھرانہ تین تین لاکھ روپے فراہم کئے جائیں۔
2۔ ایک ہزار جریب قابل کاشت زمین کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ ایری گیشن کی جانب سے انہیں آٹھ انچ پائپ کی منظوری ہوئی تھی، تاہم کچھ عرصہ بعد کٹوتی کرکے اسے چار اینچ کیا گیا اور بدقسمتی سے اس وقت عملاً چار اینچ بھی فعال نہیں اور جو کام ہوا ہے، وہ بھی نہایت رف اور ناکارہ ہے۔ چنانچہ ان کی اراضی کے رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت معیاری طریقے سے آٹھ اینچ پائپ بچھائی جائے۔
3۔ خیواص عوامی نمائندہ گان (ایم این اے، سنیٹر اور ایم پی اے) کے لطف سے مکمل طور پر محروم ہے، حالانکہ انہی بزرگوں نے بھرے گھڑوں کو بھرنے کا باقاعدہ ٹھیکہ لے رکھا ہے۔

4۔ خیواص محکمہ جنگلات کی خصوصی توجہ کا محتاج ہے۔ چنانچہ وہاں فوری طور پر جنگلات لگائے جائیں۔
5۔ بجلی انسانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، لہذا خیواص کو فوراً بجلی فراہم کی جائے۔
6۔ اپنے باشندوں کے علاوہ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں سیاح خیواص کی سیر کیلئے جاتے ہیں۔ مگر روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چنانچہ روڈ کی تعمیر پر فوراً کام شروع کیا جائے۔ نیز روڈ کے ساتھ ساتھ جہاں ضرورت ہو، پل اور اطراف میں نالیوں کا بندوبست بھی کیا جائے۔
7۔ شاملات (صحرا) کی تقسیم کا فیصلہ کئی بار ہونے کے باوجود اس پر عملاً کام نہیں ہو رہا۔ چنانچہ گزارش ہے کہ سابقہ فیصلہ جات اور امثلہ جات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ذاتی دلچسپی سے شاملات کو اقوام میں فوراً تقسیم کرائے۔
خبر کا کوڈ : 830134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش