1
Thursday 5 Dec 2019 11:21

طلبہ یونینز پر پابندی کیوں لگی۔۔؟؟؟

طلبہ یونینز پر پابندی کیوں لگی۔۔؟؟؟
دنیا بھر کی جامعات میں طلباء کی فلاح و بہبود کیلئے طلبہ یونینز ایک عام بات ہے، مگر پاکستان میں ان پر لگی پابندی اور حال ہی میں اُٹھنے والی طلبا یونین کے حق میں تحریک کی وجوہات کیا ہیں۔ اس حوالے سے ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ایک سروے اور جائزہ رپورٹ تیار کی ہے، جس میں ہم جان سکیں گے کہ طلبہ یونین کی بحالی اور طلبہ کے حقوق سلب ہونے کی باتیں آج کل پاکستانی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی خبروں کی زینت کیوں بنی ہوئی ہیں اور طلبہ یونینز کو بین کیوں کیا گیا۔

  لاہور سے ابوفجر کی خصوصی رپورٹ
 
پاکستان میں طلباء تنظیموں پر پابندی سابق صدر جنرل ضیاءالحق کی جانب سے 1984ء میں لگائی گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے اس پابندی کا جواز منفی سیاسی سرگرمیوں کو قرار دیا تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور سابق طالبعلم رہنما لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے نوجوانوں میں سیاسی شعور اور حقوق کی بات کرنے کا حوصلہ کم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تنظیموں کی بحالی ملک کی فوری اور اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں یونین جہاں طلبہ میں سیاسی شعور بیدار کرتی ہے، وہیں اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کا حوصلہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ حکمرانوں کو نوجوانوں کے سیاسی شعور سے خطرہ تھا، ظاہر ہے جس زمانے میں یہ پابندی عائد کی گئی وہ زمانہ آمریت کا تھا، تو اُس دور کے آمر جنرل ضیاءالحق نے طلبہ میں سیاسی شعور کی بیداری کا عمل روک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اقتدار کو 11 سال تک طول ملا، اگر سانحہ بہاولپور نہ وقوع پذیر ہوتا تو وہ مزید اقتدار میں رہتا۔
 
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جمعیت نے اس دور میں بھی حق کیلئے آواز اٹھائی تھی، گو کہ جماعت اسلامی ضیاء الحق کی حامی تھی مگر اسلامی جمیعت طلبہ نے آواز حق بلند کی اور اس کی پاداش میں جمیعت کو صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، مگر ہمارے کارکن حق کیلئے ڈٹے رہے۔ امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ طلبہ یونینز کی فوری بحالی وقت کی ضرورت ہے، طلبہ یونینز پر پابندی سے جامعات میں مکالمہ کی فضا ختم ہوئی اور شدت پسندی میں اضافہ ہوا، ماضی میں یونینز کی بحالی کے محض دعوے کئے جاتے رہے اور منافقانہ طرز عمل پر حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت طلباء یونینز کی بحالی کے لولی پاپ کی بجائے علمی اقدامات کیلئے پیشرفت کرتے ہوئے طلباء یونینز کو بحال کروا کر الیکشن کا جلد انعقاد کروائے۔
 
عارف حسین الجانی کا کہنا تھا کہ آئی ایس او پاکستان کا پہلے دن سے یہی موقف تھا کہ طلبہ یونینز کا بحال ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، طلبہ یونینز پر پابندی کے باعث طلبہ اپنے آئینی حق سے محروم ہیں، طلبہ یونینز کی بحالی سے معاشرے میں جمہوری اقدار پروان چڑھنے کیساتھ ساتھ ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی، طلبہ یونین پر پابندی سے طلبہ تعلیمی اداروں کے آئین کے تحت حاصل ہونیوالے بنیادی حقوق و اختیار سے محروم ہیں، جس کے سبب طلبہ کو بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے نااہل انتظامیہ کے دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی استعداد بڑھے گی۔ انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر معظم شہزاد ساہی کا لاہور میں ’’اسلام ٹائمز‘‘ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ طلباء یونینز کی بحالی ناگزیز ہو چکی ہے، نان سٹیٹ ایکٹرز طلباء یونینز کی بحالی کے مطالبے کو بنیاد بنا کر معصوم طالبعلموں کو ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال کرنے کی سازش میں مصروف ہیں، نوجوانوں کو اپنا اثاثہ سمجھنے والے وزیراعظم طلباء قیادت سے کیوں خائف ہیں؟
 
انہوں نے کہا کہ 18 سال کا ووٹر عمران خان کو ووٹ دینے کیلئے اہل اپنا نمائندہ چننے کیلئے شدت پسند کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہم نے حکومت کو 30 دسمبر تک کی ڈیڈلائن دی ہے کہ اس تاریخ تک یونین بحال کی جائیں، 30 دسمبر کو طلباء کا سمندر گورنر ہاؤس کے سامنے بدمست حکمرانوں کا تاج اور تخت بہا کر لے جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت طلباء یونینز پر غیر آئینی پابندی ہٹا کر طلباء برادری کے دل جیت سکتی ہے۔ انہوں نے کہا 35 سالہ جہدوجہد کو پس پشت ڈال کر ملک دشمن قوتوں کو طلباء کا سٹیک ہولڈر بنا دیا گیا ہے، سرخ ایشاء کا نعرہ لگانے والے پی ٹی ایم کا جدید ایڈیشن ہیں، طلباء حقوق کے نام پر غیر ملکی ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے، ریاستی ادارے فارن فنڈڈ این جی اوز کی پُراسرار سرگرمیوں کی تحقیقات کریں، فارن فنڈڈ این جی اوز نے طلباء یکجہتی مارچ کے نام پر پاکستان کی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستانی معاشرے میں کیمونزم اور سیکولر ازم کی کوئی گنجائش نہیں، سرخ سویرا کے خواب دیکھنے والے ناکام و نامراد ہوں گے۔
 
اس موضوع پر صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹرمرتضی انور چودھری کہتے ہیں کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی ایک غیر آئینی عمل ہے۔ طلباء یونینز کو بحال کیا جائے مگر ان کو جامعات کے انتظامی کنٹرول کا حصہ نہیں بنانا چاہیئے بلکہ ان کی بحالی سے قبل ایس او پیز بنا دیئے جائیں کہ ان میں بیرونی مداخلت نہیں ہوگی، سیاسی جماعتیں انہیں آلہ کار نہیں بنا سکیں گی، یہ صرف اور صرف اپنے تعلیمی ادارے تک محدود رہیں گے اور اپنی مادر علمی کے طلبہ کے ہی حقوق کی بات کریں گے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مفید رہیں گی بصورت دیگر بیرونی مداخلت سے قتل و غارت، مار دھار ہوگی اور تعلیمی ماحول خراب ہو گا۔ دوسری جانب اگر ماضی میں طلبہ یونین پر پابندی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ  کراچی میں 1983 میں منعقد ہونیوالے طلبہ یونین انتخابات کے نتائج نے جس میں ضیاالحق مخالف طلبہ اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی، حکومت کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ طلبہ یونین نے 1968 میں ایوب خان کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس تحریک کی بدولت 1969 میں ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑ گیا تھا۔
 
1983ء کے آخر میں لیفٹینینٹ جنرل ایس ایم عباسی کے زیر نگرانی سندھ کی حکومت نے ضیاء الحق کو خبردار کیا کہ طلبہ یونینز ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں کے شروع ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس تنبیہہ کے بعد آمر ضیاءالحق نے اپنا اقتدار بچانے کیلئے سرکاری کالجوں اور جامعات میں سیاست اور طلبہ یونین کے انتخابات پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ مارشل لا حکومت کا کہنا تھا کہ یہ قدم طلبہ یونین کے انتخابات کے دوران رونما ہونیوالے پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے اٹھایا گیا تھا۔ یہ بات درست تھی کہ طلبہ تنظیموں اور پولیس کے مابین جھگڑوں اور پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا تھا لیکن یہ اضافہ ضیاءالحق کے 1977ء میں لگائے گئے تیسرے مارشل لا کے بعد ہونا شروع ہوا تھا۔ اس پابندی کی طلبہ نے شدید مخالفت کی اور کراچی اور لاہور میں مظاہرے کرتے ہوئے متعدد پولیس والوں پر حملوں کے علاوہ درجنوں بسوں کو بھی نذر آتش کر ڈالا تھا۔ ان مظاہروں کی قیادت جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے کی تھی۔
 
جماعت اسلامی نے1977ء میں ضیاءالحق کو بھٹو کا تختہ الٹنے میں معاونت فراہم کی تھی۔ جماعت اسلامی نے ضیاءالحق کی افغان مجاہدین کو ٹریننگ دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور کابل میں قابض روسی افواج پر حملے کرنے کی پالیسی کی بھی حمایت کی تھی۔ ضیاءالحق نے اپنے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہونے پر جماعت اسلامی سے اپنی طلبہ تنظیم کو مظاہرے ختم کرنے کا کہا جسے جماعت اسلامی نے مان لیا لیکن یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ ضیاءالحق اور جماعت اسلامی کے درمیان دوریاں بڑھتی جا رہی تھیں اس لئے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو اپنی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو مظاہروں سے پیچھے ہٹانے کی خاطر قائل کرنے کیلئے خود میدان میں آنا پڑا۔ دوسری جانب 1971ء سے 1977 تک طلبہ یونین کے انتخابات باقاعدگی اور انتہائی اعلیٰ طریقہ کار کے تحت منعقد ہوتے رہے۔ ان انتخابات میں اصل مقابلہ اسلامی جمعیت طلبہ اور ترقی پسند اتحاد پر مبنی طلبہ تنظیموں کے مابین ہوتا تھا۔ ترقی پسند طلبہ تنظیموں میں این ایس ایف، پی ایس ایف اور علاقائی و نسلی سیاست کرنیوالی تنظیمیں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن، سندھی طلبہ تنظیمیں، بریلوی جمعیت علمائے پاکستان کا طلبہ ونگ اے ٹی آئی نمایاں تھے۔ لیکن 1977ء کے مارشل لاء کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔
 
ضیاءالحق کی حکومت نے ترقی پسند گروہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جبکہ دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ کو فری ہینڈ دے دیا گیا اور 1979 تک اس جماعت نے اپنے آپ کو مسلح کر لیا۔ طلبہ تنظیموں میں مسلح ونگز نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی روس افغان جنگ میں مداخلت کی وجہ سے وطن عزیز میں اسلحے کی بھرمار ہو گئی۔ 1971ء سے 1977 کے درمیان تدریسی اداروں میں طلبہ تنظیموں کے مابین لڑائی جھگڑوں میں چار طلباء کے ہلاک ہونے کی رپورٹ موجود تھی۔ لیکن ضیاء دور میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور صرف 1980 سے 1983 کے دوران 2 درجن سے زائد طلبہ نے ایسے واقعات میں اپنی جان گنوائی۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد 1989 میں طلبہ کی سیاست پر عائد پابندی ختم کر دی۔ پنجاب کے تمام سرکاری کالجوں اور جامعات میں طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے لیکن 1992 میں نواز شریف کے دور اقتدار میں سپریم کورٹ نے نواز حکومت کی درخواست پر طلبہ سیاست پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ یہ پابندی پی ایس ایف اور آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس فیڈریشن کے درمیان کراچی، اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور اسلامی جمعت طلبہ کے مابین لاہور میں خون ریز تصادم کے تناظر میں عائد کی گئی۔
 
یوں روایتی طلبہ سیاست بتدرج دم توڑتی چلی گئی۔ اس طرز کی طلبہ سیاست سرد جنگ کے دور کا استعارہ تھی۔ پاکستان میں سرکاری کالجوں اور جامعات میں گرتے ہوئے تعلیمی نظام اور نجی کالجوں اور جامعات کی مانگ میں اضافے نے بھی طلبہ سیاست کو زوال پذیر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خبر کا کوڈ : 830885
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش