0
Thursday 5 Dec 2019 10:34

نیٹو اور برین ہیمبرج

نیٹو اور برین ہیمبرج
اداریہ
امریکہ اور یورپی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد جسے نیٹو یا ناٹو کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر North Atlantic Treaty Organization کا مخفف ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے سے پہلے سوویت یونین کے فوجی راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے 1949ء میں یہ فوجی مقاصد کا حامل اتحاد وجود میں آیا تھا۔ جس میں 29 ممالک شامل ہیں۔ اسے مغربی ممالک کا سب سے بڑا فوجی اتحاد قرار دیا جاتا ہے۔ یوں تو اس کے 29 ممبر ہیں، لیکن امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو اس میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ دنیا کے دیگر عالمی اداروں کیطرح یہاں بھی بڑا بن کر سب کو ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ چونکہ اس فوجی اتحاد میں سب سے زیادہ فنڈز دیتا ہے، لہٰذا اسکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس ادارے کو اپنے اہداف کے لیے استعمال کرے۔ امریکہ ابھی تک اس کو بڑی خوبصورتی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، جسکی ایک مثال افغانستان ہے۔

البتہ دنیا کے کئی ممالک میں امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے جہاں اکیلا جا کر عالمی تنقید سے بچنا چاہتا ہے، وہاں نیٹو کی چھتری استعمال کر کے اسے عالمی برادری کی حمایت کی دلیل بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ امریکہ کی حرکتوں کیوجہ سے نیٹو میں شریک بڑے ممالک بالخصوص فرانس، جرمنی اور امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس بات کا سرعام شکوہ کرتے ہیں کہ امریکہ نیٹو کو اپنے اہداف کے لیے استعمال کرتا ہے اور دیگر ممالک کو اعتماد میں لینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا۔ نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس میں بھی امریکی اور فرانسیسی صدر کے درمیان تلخ نوائی اسکی ایک مثال ہے۔ جبکہ گذشتہ اجلاس میں امریکہ اور جرمنی کے سربراہوں میں لفظی جنگ ہوئی تھی۔ گذشتہ روز ہونے والا نیٹو اجلاس امریکہ کے لیے بہت سی تلخ یادیں چھوڑ گیا ہے۔

لندن میں ہونے والے اجلاس میں بعض یورپی ممالک کے سربراہانِ مملکت نے جسطرح ڈونلڈ ٹرامپ کا مذاق اڑایا، امریکی اسے مدت تک یاد رکھیں گے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے جو جملے کسے اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرامپ اجلاس کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کو ادھورا چھوڑ کر واپس امریکہ چلے گئے۔ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر نظر آئے۔ فرانس کے صدر میکرون نے تو نیٹو پر برین ہیمبرج کی پھبتی کسی اور کھل کر کہا کہ یہ ادارہ دماغی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ٹرامپ نے اس پھبتی کا بڑا تلخ جواب دیا۔ بہرحال اس بات کو عالمی مفکرین قبول کر رہے ہیں کہ نیٹو اب اپنا فلسفہ وجودی کھو چکا ہے اور اب یہ ایک ہتھیار کے طور پر امریکہ کے ہاتھوں میں آچکا ہے، جسے جب چاہے اور جہاں چاہے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اسے عالم اسلام کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 830888
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش