0
Saturday 7 Dec 2019 16:59
ایف اے ٹی ایف دباؤ

ڈیڑھ سال میں 8 کالعدم تنظیموں کیخلاف مقدمات میں 400 اور سزاؤں میں 403 فیصد تک اضافہ ہوا، رپورٹ

ڈیڑھ سال میں 8 کالعدم تنظیموں کیخلاف مقدمات میں 400 اور سزاؤں میں 403 فیصد تک اضافہ ہوا، رپورٹ
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے، اس دوران بے شمار قربانیاں دی گئیں لیکن انکا نتیجہ سوائے بربادی اور محرومی کے کچھ نہیں نکلا۔ امریکہ کی حمایت اور ایماء پر جاری رہنے والی اس جنگ نے افغانستان اور عراق کو تباہ کر دیا، پاکستان کی ساکھ کو بھی شدید انداز میں متاثر کیا۔ سب سے برا اثر تحریک آزادی کشمیر پر پڑا۔ جب افغانستان میں امریکی اہداف مکمل ہوئے اور بھارت کو کابل میں اہم کردار دیا گیا تو پاکستان نے احتجاج کیا لیکن اس کے برعکس پاکستان کیخلاف ڈورن حملوں اور بلوچستان میں پراکسی وار کو وسعت دی گئی۔ اس دوران عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان کیخلاف سخت دباؤ ڈلوانے کی پالیسی بھی اختیار کی گئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے کشمیر کاز پر سفارت کاری کا آغاز کیا تو یورپی ممالک نے کشمیر کے نام پر پاکستان میں کام کرنیوالی کالعدم تنظیموں پر اعتراض کرتے ہوئے بات سننے سے انکار کر دیا۔ اس دوران وفاقی حکومت نے لشکر طیبہ اور جماعۃ الدعوۃ پر پابند لگائی، لیکن پابندیوں کا سلسلہ نہیں رکا۔ پی ٹی آئی حکومت نے لیگی دور حکومت مین ایسے تمام اقدامات کو غیرملکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا، لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال میں ایف اے ٹی ایف کیطرف سے عائد کیے گئے تو اقدامات کو پورا کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کی رپورٹ متعلقہ اداروں میں جمع کردی، جس کے تحت چندہ جمع کرنے والوں پر دہشت گردی ایکٹ کے 367مقدمات درج کیے گئے۔ وفاقی حکومت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں 8 کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی ماونت کے تحت مقدمات میں 400 اور سزاؤں میں 403فیصد تک اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ ایکشن پلان کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا ہے۔ ایکشن پلان رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت پر مجموعی طور پر 196افراد کو سزائیں ہوئی اور نومبر 2019تک چندہ جمع پر کرنے پر دہشت گردی ایکٹ کے367مقدمات درج کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست سے نومبر 2019کے دوران 29 مقدمات درج کیے گئے۔ علاوہ ازیں 8 کالعدم تنظیموں کے خلاف مجموعی طور پر دہشت گردی ایکٹ کے 196مقدمات درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر 2019 تک دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف چندہ جمع کرنے کے17مقدمات رجسٹرڈ کیے گئے۔

ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے تحت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف 25 اور القاعدہ کے خلاف 10 مقدمات درج کیے گئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم جیش محمد کے خلاف فنڈز جمع کرنے پر 91 مقدمات درج ہوئے۔ اس ضمن میں رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نومبر2019 تک جماعت الدعوۃ کے خلاف 47 اور لشکر طیبہ کے خلاف چندہ جمع کرنے پر 2 مقدمات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان افغانستان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4مقدمات درج ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ تنظیموں کے خلاف پنجاب میں چندہ جمع کرنے پر 133ٹیرارزم فنانسنگ مقدمات کیے گئے جس میں خیبر پختونخوا سے 34، سندھ سے 17اور بلوچستان سے 12مقدمات شامل ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ تنظیموں کے خلاف کھالیں جمع کرنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4مقدمات بھی درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق داعش اور ٹی ٹی پی کے خلاف اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، حوالہ، بینک ڈکیتی، منشیات کے بالتریب 46 اور 205 مقدمات درج ہوئے۔ جیش محمد اور جماعت الدعوۃ کے خلاف عطیہ جمع کرنے، این پی اوز کے غلط استعمال پر بالترتیب 97 اور 85 مقدمات درج کیے گئے۔

سزاؤں سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کی مالی معاونت پر 145، کے پی میں 43، سندھ میں 7، بلوچستان میں ایک شخص کو سزا دی گئی۔ علاوہ ازیں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے تحت داعش 13، ٹی ٹی پی کے 37، جماعت الدعوۃ کے 18اور لشکر طیبہ کے ایک شخص کو دہشت گردوں کی مالی معاونت پر سزا دی گئی۔ واضح رہے کہ نومبر کے وسط میں ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے۔ پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے۔ ایکشن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے اعلیٰ سطحی پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا ہے اور ایکشن پلان کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ موجودہ حکومت میں پاکستان نے اس معاملے پر کچھ ٹھوس پیش رفت ضرور کی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف خیر مقدم کرتی ہے لیکن اب تک بیشتر نکات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی جانب سے ان معیارات پر پورا نہ اترنے سنجیدگی سے لے رہا رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ وہ فروری 2020ء تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے، اگر ٹھوس پیش رفت نہ کی گئی تو ایف اے ٹی ایف سخت ایکشن لے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں برسلز میں یورپی یونین اور پاکستان کے جوائنٹ کمیشن کے دسویں اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اجلاس میں پاکستان نے یورپی یونین کی جانب سے تکنیکی معاونت کی پیشکش کو سراہا ہے اور اجلاس میں جی ایس پی پلس پر عملدرآمد، تجارت اور سرمایہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے مسائل، کاروباری ماحول میں بہتری کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایسے حالات میں جب پاکستان کو کشمیر پر عالمی برادری کی حمایت کی سخت ضرورت ہے، داخلی سیاسی عدم استحکام اور عالمی اداروں کی پابندیاں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 831352
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش