0
Friday 13 Dec 2019 01:15

دین مبین اسلام، ایک الہی مکتب فکر

دین مبین اسلام، ایک الہی مکتب فکر
تحریر: زیڈ اے سید

1)۔ مکتب فکر یا school of thought کیا ہے؟
مکتب فکر درحقیقت ایک ضابطہ حیات ہے جس سے ایک مخصوص طرز حیات (Life Style) جنم لیتا ہے۔ مکتب فکر انسان کو نظریہ دیتا ہے اور اس کی بنیاد پر اسے زندگی بسر کرنے کیلئے عملی دستورات دیتا ہے۔ مکتب فکر نظام ساز ہے۔ یعنی انسان کو تعلیمی، اقتصادی، ثقافتی، قانونی اور سیاسی نظام فراہم کرتا ہے۔
انسان بنیادی طور پر ایک نظریاتی مخلوق ہے۔ اگر آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ ہر انسان چاہے وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، مرد ہو یا خاتون، شہری ہو یا دیہاتی، بچہ ہو یا جوان ہو یا بوڑھا، کوئی بھی کام انجام دینے سے پہلے اپنے ذہن میں اس کا جائزہ لیتا ہے؛ کیا یہ کام صحیح ہے یا غلط؟، کیا اس کام میں میرا فائدہ ہے یا نقصان؟، کیا باقی افراد میرے اس کام پر میری تعریف کرِیں گے یا مذمت؟۔

مختصر یہ کہ ہر انسان فطری طور پر کوئی بھی عملی اقدام انجام دینے سے پہلے اپنے ذہن میں اس کے بارے میں ایک نظریہ بناتا ہے۔ مکتب فکر انسان کو کہتا ہے کہ تمہیں درپیش ضروریات میں پوری کروں گا۔ انسان کو سب سے پہلے مرحلے پر ایک نظریے کی ضرورت ہے اور دوسرے مرحلے پر عملی اقدامات انجام دینے میں ضروری رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مکتب فکر انسان کی نظریاتی اور عملی ضروریات پوری کرتا ہے۔ مذکورہ بالا مطالب کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان ایک مکتب فکر کے بغیر زندگی بسر کرنے پر قادر نہیں۔ دوسرے الفاظ میں دنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جو ایک مکتب فکر کا پیرو نہیں ہوتا۔ لہذا مکتب فکر انسان اور انسانی معاشرے کی فطری ضروریات میں سے ایک ہے۔
 
2)۔ ایک مکتب فکر کن عناصر پر مشتمل ہوتا ہے؟
اب ہم دیکھتے ہیں کہ مکتب فکر کن عناصر پر مشتمل ہوتا ہے۔ کوئی بھی مکتب فکر بنیادی طور پر دو عناصر پر مشتمل ہوتا ہے:
الف)۔ نظریاتی بنیادیں، اور
ب)۔ عملی دستورات۔
نظریاتی بنیادیں درحقیقت انسان کو تکوینی حقائق کے بارے میں ایک خاص تصور پیش کرتی ہیں۔ ہر انسان اپنے ذہن پر حکمفرما مکتب فکر کی روشنی میں حقائق کو دیکھتا ہے۔ کسی بھی مکتب فکر کی نظریاتی بنیادیں تین قسم کے بنیادی تصورات پر مشتمل ہوتی ہیں:

ا۔ علم کے بارے میں تصور جسے نظریہ علم، علمیات یا epistemology کہتے ہیں،
2۔ خدا کے بارے میں تصور یا خداشناسی، اور
3۔ انسان کے بارے میں تصور یا انسان شناسی۔
یہ تین بنیادی تصورات ہر مکتب فکر کی نظریاتی بنیادیں تشکیل دیتے ہیں اور اس مکتب فکر کی پوری عمارت انہی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ جتنے بھی "ازم" (-ism) پائے جاتے ہیں وہ درحقیقت مکاتب فکر ہیں۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کا دعوی ہے کہ وہ انسان کو بہترین نظریہ پیش کرتا ہے اور اس کے نظریے پر ہی ایک انسانی معاشرے میں بہترین نظامات نافذ کئے جا سکتے ہیں۔
 
3)۔ کیا دین کو بھی ایک مکتب فکر کہا جا سکتا ہے؟
بحث طولانی ہونے سے بچنے کیلئے واضح کرتے چلیں کہ یہاں دین سے ہماری مراد دین مبین اسلام بلکہ حقیقی اسلام یعنی مکتب اہلبیت اطہار علیہم السلام ہے۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان کا ایک حصہ تکوینی حقائق کی تفسیر پر مشتمل ہے جسے "عقائد" کا نام دیا جاتا ہے جبکہ ایک بڑا حصہ عملی دستورات پر مبنی ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ایک جامع مکتب فکر اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔
 
4)۔ دینی مکتب فکر اور غیر دینی مکتب فکر میں کیا فرق ہے؟
دین ایسی تعلیمات کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جو انبیاء علیہم السلام کی وساطت سے وحی کے ذریعے خدا سے انسان تک پہنچی ہیں۔ لہذا دینی تعلیمات اور غیر دینی تعلیمات میں بنیادی ترین فرق یہ ہے کہ دینی تعلیمات کا منشا وحیانی ہے جبکہ غیر دینی تعلیمات کا منشا انسانی ہے۔ بالکل یہی فرق دینی مکتب فکر اور غیر دینی مکتب فکر میں بھی ہے۔ دینی مکتب فکر معصومین علیہم السلام کی وساطت سے خدا کی طرف سے ہم تک پہنچا ہے اور آج بھی اس کا بڑا حصہ قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے۔ دوسری طرف غیر دینی مکاتب فکر انسانی ذہن کی پیداوار ہیں۔
 
5)۔ کیا ایک معاشرے پر متعدد مکاتب فکر حکمفرما ہو سکتے ہیں؟
یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے۔ جیسا کہ عرض کر چکے ہیں مکتب فکر ہر انسان اور انسانی معاشرے کی بنیادی ترین اور فطری ضروریات میں سے ہے اور کوئی انسان اور انسانی معاشرہ ایسا نہیں جو کسی مکتب فکر کے تابع نہ ہو چاہے یہ مکتب فکر اس انسان یا انسانی معاشرے کا خودساختہ ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی عرض ہو چکا ہے کہ ایک مکتب فکر کی نظریاتی بنیادیں درحقیقت وہ تصورات ہیں جو تکوینی حقائق کے بارے میں ایک انسان کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ ہمارا کلیدی نکتہ یہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک وقت میں ایک انسان کے ذہن میں تکوینی حقائق سے متعلق دو یا دو سے زیادہ مختلف تصورات موجود نہیں ہو سکتے۔ انسان ایک وقت میں تکوینی حقائق سے متعلق اپنے ذہن میں صرف اور صرف ایک قسم کے تصورات کا حامل ہو سکتا ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ ان تصورات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

بالکل اسی طرح ایک انسان یا انسانی معاشرہ ایک وقت میں دو یا دو سے زیادہ مکاتب فکر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یعنی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ مکتب فکر ایک انسان یا انسانی معاشرے کیلئے آپریٹنگ سسٹم کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ اس انسان یا انسانی معاشرے کے تمام اعتقادات اور افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ درحقیقت مکاتب فکر کی مثال تلوار کی مانند ہے اور جیسا کہ مشہور ضرب المثل ہے کہ: "دو تلواریں ایک نیام میں نہیں رہ سکتیں" اسی طرح دو مکاتب فکر بھی ایک انسان یا انسانی معاشرے پر حکمفرما نہیں ہو سکتے۔ لہذا جب ہم کسی ایک مکتب فکر کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں تو یہ درحقیقت اس کے علاوہ باقی تمام مکاتب فکر کی نفی بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم کہتے ہیں کہ انسانی معاشرے پر الہی یا دینی مکتب فکر حکمفرما ہونا چاہئے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ معاشرے پر غیر دینی مکاتب فکر حکمفرما نہیں ہونے چاہئیں۔ یا جب ہم کہتے ہیں کہ فلان معاشرے پر مثال کے طور پر سیکولرازم حکمفرما ہونا چاہئے تو اس کا مطلب سیکولرازم کے علاوہ باقی تمام مکاتب فکر کی نفی ہے جن میں اسلام بھی شامل ہے۔
 
6)۔ ایک مکتب فکر ہونے کے ناطے اسلام کی نظریاتی بنیادیں کیا ہیں؟
1۔ نظریہ علم یا علمیات
علمیات یا نظریہ علم میں درج ذیل سوالات کا جواب دیا جاتا ہے:
  • کیا انسان کیلئے تکوینی حقائق کے بارے میں حصول علم ممکن ہے؟
    انسان حصول علم کے کون سے ذرائع رکھتا ہے اور وہ کس حد تک معتبر ہیں؟
    صدق اور کذب کی حقیقت کیا ہے اور ان کا معیار کیا ہے؟
    ان سوالات کے جوابات علمیات سے متعلق کسی بھی مکتب فکر کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اب ہم باری باری اسلامی نقطہ نظر سے مندرجہ بالا سوالات کا جواب دیتے ہیں:
 
الف)۔ آیا تکوینی حقائق کے بارے میں حصول علم انسان کیلئے ممکن ہے؟
دین مبین اسلام کی الہی تعلیمات کی روشنی میں انسان کیلئے تکوینی حقائق کا علم نہ صرف ممکن ہے بلکہ اسے ایک یقینی امر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ایسی آیات کی بڑی تعداد موجود ہے جس میں انسان کو کائنات میں غور و فکر کرنے اور سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی طرح علم حاصل کرنے کی فضیلت اور مسلمانوں پر حصول علم کی تاکید پر مشتمل بہت زیادہ تعداد میں احادیث موجود ہیں۔ لہذا دین مبین اسلام حصول علم کو انسان کیلئے ایک پسندیدہ فعل قرار دیتا ہے۔
 
ب)۔ انسان کے پاس علم حاصل کرنے کے ذرائع کون سے ہیں اور وہ کس حد تک معتبر ہیں؟
خداوند متعال نے انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم کی روشنائی تک پہنچنے کیلئے متعدد ذرائع سے نوازا ہے۔ یہ ذرائع درج ذیل ہیں:
الف)۔ حواس خمسہ، ب)۔ عقل، ج)۔ باطنی شہود اور د)۔ وحی
اسلامی نقطہ نظر کے مطابق حصول علم کے یہ تمام ذرائع معتبر ہیں البتہ ان کا دائرہ کار ایکدوسرے سے مختلف ہے۔ سب سے نچلی سطح کا ذریعہ علم حواس خمسہ ہیں۔ حواس خمسہ کے ذریعے انسان صرف مادی حقائق کو درک کر سکتا ہے۔ مغرب میں رائج scientific method اور تجربیت پسندی حواس خمسہ کے زمرے میں ہی آتی ہے۔ حواس خمسہ کا دائرہ کار صرف مادی دنیا تک محدود ہے۔ حواس خمسہ سے زیادہ معیاری اور وسیع دائرہ کار کا حامل حصول علم کا ذریعہ عقل ہے۔ انسان منطقی استدلال کے ذریعے بعض ایسے حقائق درک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کی نوعیت مادی نہیں ہے لہذا وہ حواس خمسہ اور تجربے کے ذریعے قابل درک نہیں ہیں۔ عقل انسان کو بعض ایسے اصول فراہم کرتی ہے جن کے ذریعے انسان انتہائی وسیع حد تک غیر مادی حقائق کو درک کر سکتا ہے۔


عقل سے بھی زیادہ معتبر حصول علم کا ذریعہ باطنی شہود ہے۔ انسان باطنی شہود کے ذریعے حقائق کو براہ راست درک کرتا ہے۔ عام طور پر مشہور یہ ہے کہ باطنی شہود صرف عرفا سے مخصوص ہے لیکن ایسا نہیں بلکہ حصول علم کا یہ ذریعہ ایک حد تک ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے کچھ حالات ایسے ہیں جنہیں اس کے باطنی حالات کہا جاتا ہے جن میں خوشی، غمی، نفرت، محبت، درد کا احساس، پیاس، بھوک وغیرہ شامل ہیں۔ انسان اپنے باطنی حالات کا علم شہود باطنی کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ سب سے زیادہ معتبر اور وسیع دائرہ کار کا حامل حصول علم کا ذریعہ وحی ہے۔ البتہ یہ صرف انبیاء الہی سے مخصوص ہے۔
 
ج)۔ صدق اور کذب کی حقیقت کیا ہے اور ان کی کسوٹی کیا ہے؟
صدق اور کذب کی حقیقت ہر مکتب فکر ایک خاص انداز میں بیان کرتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے صدق کو حقیقت سے مطابقت رکھنا اور کذب کو حقیقت سے مطابقت نہ رکھنا کے طور پر تعریف کیا جاتا ہے۔ اسلامی مکتب فکر کی رو سے انسان کی حقیقت تک رسائی ممکن ہے لہذا صدق اور کذب کا معیار بھی حقیقت سے مطابقت اور عدم مطابقت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن غیر دینی مکاتب فکر کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ انسان حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ ان میں سے بعض تو حقیقت کا ہی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حقیقت نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ لہذا ایسے مکاتب فکر صدق اور کذب کے غیر حقیقی معیار پیش کرتے ہیں جس کا نتیجہ relativism یا اضافیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 832409
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش