1
0
Friday 13 Dec 2019 17:18

ضلع کھرمنگ کی ترقی اور موروثی سیاست کا خاتمہ لازم و ملزوم

ضلع کھرمنگ کی ترقی اور موروثی سیاست کا خاتمہ لازم و ملزوم
تحریر: محمد حسن جمالی
 
قوموں کے زوال میں موروثی سیاست کا رول زیادہ رہا ہے، جب سیاست ایک یا چند خاندان کی میراث بن جاتی ہے تو پھر سیاست شیطنت میں بدل جانے میں دیر نہیں لگتیـ کھرمنگ میں عرصہ دراز سے دو ہی خاندانوں کے چشم و چراغ  اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے رہے ہیں، یعنی کھرمنگ پر موروثی سیاست حاکم رہی ہے۔ البتہ 2015ء کے الیکشن میں اقبال حسن نے کامیابی حاصل کرکے موروثی سیاست پر کاری ضرب لگائی اور کھرمنگ میں سیاست کو اپنے خاندان کی جاگیر سمجھنے والوں پر عیاں کر دیا کہ اب یہاں بھی موروثی سیاست کا وقت ختم ہوچکا ہے، تم لوگ اپنے ذریعہ معاش کے لئے دوسرا راستہ ڈھونڈ لو، سیاست کے نام تمہاری عیاشی کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اقبال حسن منصب سنبھال کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں، لیکن موروثی سیاست کے خاتمے کی بنیاد رکھنے میں وہ کامیاب ضرور ہوئے، ہماری نظر میں یہ بہت بڑی کامیابی تھی، جس کے کم و بیش ثمرات بھی ہمیں دیکھنے کو ملے۔
 
آنے والا الیکشن کھرمنگ کے باشعور تعلیم یافتہ طبقے کی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں دوبارہ موروثی سیاستدانوں کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں یا کسی باصلاحیت جوان کو آگے لاکر ترقی کے زینے طے کرتے ہیں۔ مختلف ذرائع سے معلوم ہو رہا ہے کہ کھرمنگ کے موروثی سیاستدان ایک بار پھر بڑی ڈھٹائی سے آنے والے الیکشن میں اقتدار پر قابض ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، وہ روابط بڑھا رہے ہیں، سیاست کو منافع کے حصول کا ذریعہ سمجھنے والے پرانے تجربہ کار افراد سے تعلقات تیزی سے استوار کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں، مختلف پارٹیز سے تعلق رکھنے والے مداریوں سے وسیع پیمانے پر وعدے وعید کرکے ان کی حمایت جلب کرنے میں کوشاں ہیں اور لوگوں کو خریدنے کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ بنابریں ابھی سے اگر کھرمنگ کی ترقی و پیشرفت کے خواہاں افراد نے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں لگام دینے کی کوشش نہیں کی تو موروثی سیاستدان دوبارہ کھرمنگی عوام پر مسلط ہونے کا گمان غالب ہے۔
 
سوشل میڈیا پر کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ طبقے ضلع بننے کے باوجود کھرمنگ میں ترقی نہ ہونے کے حوالے سے افسوس کا اظہار کرتے رہتے ہیں، مختلف شعبوں میں پیشرفت کے رموز و اسرار پر وہ بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں، اپنے نمائندوں کی نالائقی اور غیر ذمہ دارانہ حرکات پر ماتم کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ جب تک وہ اس کے وجوہات اور عوامل کو تلاش نہیں کریں گے، تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی اور پیشرفت خواب بن کر ہی رہے گی۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ کھرمنگ میں عدم ترقی کا بنیادی سبب موروثی سیاست کا حاکم رہنا ہے، جسے جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ضروری ہے۔
 
پرانے سیاسی کھلاڑیوں کی تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ مرحوم زیدی کے علاوہ دوسرے سیاست کے کھلاڑی بننے کی صلاحیت اور استعداد سے ہی تہی تھے، ان میں نہ کوئی علمی قابلیت تھی اور نہ ہی وہ سیاست کی حقیقت، طور و طریقوں اور اس کے لوازمات سے آشنا تھے، ہاں وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ سیاست اپنے گھر اور خاندان کو راتوں رات امیر بنانے کا ایک بہترین وسیلہ ہے، اسی پست فکر کو لے کر وہ میدان سیاست میں اترے، خون پسینہ ایک کرکے اقتدار تک رسائی کی کوشش کی، عوام کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف جلب کیا، ان سے ووٹ وصول کرنے کے لئے بھرپور مہم چلائی، رشوت کا بازار گرم کیا، لوگوں میں پیسے بانٹے، ملبوسات تقسیم کئے، اشیاء خوردونوش غریبوں کے گھروں تک پہنچانے کی کوشش کی، مگر کھرمنگ کو ترقی کی ہوا تک لگنے نہیں دی۔ کم علمی اور فقدان صلاحیت کے باعث وہ ایوان بالا کے مکینوں کی چاپلوسی کرتے ہوئے وقت گزارتے رہے، کھرمنگ کے عوام بھی شعور کی کمی کی وجہ سے انہی لٹیروں کو ووٹ دیتے رہے، در نتیجہ وہ اپنی منفی سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہے اور کھرمنگ مکمل طور پر پسماندگی کا شکار رہا۔
 
سوشل میڈیا پر کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے میدان سیاست کے ایک پرانے کھلاڑی کا تازہ انٹرویو ویڈیو کلپ دیکھنے اور سننے کو ملا، جسے سن کر ہنسی بھی آئی اور تعجب بھی ہوا۔ ہنسی ان کی ناقابلیت اور عدم صلاحیت کو دیکھ کر آئی۔ ظاہر ہے جو بندہ اچھی طرح ایک انٹرویو نہیں دے سکتا، وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے خاک ان کی آواز مقتدر افراد تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اگرچہ وہ کرگل بارڈر کھولنے، نظام تعلیم کی مضبوطی سمیت بہت کچھ کرنے کو اپنا منشور بتا رہے تھے، لیکن ان کے سابقہ ادوار کی بے جان کارکردگیوں کو یاد کرتے ہوئے ہر کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان کی باتوں میں کتنا وزن ہے۔ تعجب اس لئے ہوا کہ سابقہ ادوار میں کھرمنگ کے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر سیاست کا چسکا لینے والے ایک بار پھر الفاظ خلابہ استعمال کرتے ہوئے کھرمنگ کے عوام کو فریب دے کر ان پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اسے یہ نہیں پتہ کہ اہلیان کھرمنگ اب بیدار اور باشعور ہوچکے ہیں، ان میں نفع اور نقصان کے ادراک کے لئے ضروری شرائط فراہم ہوچکی ہیں، کھرمنگ میں سیاست کے میدان کا شہسوار بننے کے لئے قحط الرجالی کا زمانہ گزر چکا ہے، ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سرزمین کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ، زمانے کے حالات سے آگاہ، کامیاب سیاست کے رموز سے آشنا اور کھرمنگ کو اوج ترقی پر پہنچانے کی استعداد رکھنے والے ذہین افراد فراوان موجود ہیں، ان کو موقع دینا قرین عقل ہے۔ یاد رہے کہ عوامی نمائندہ بننے کے لئے بنیادی شرط باصلاحیت ہونا ہے، اگر نااہل افراد کو ووٹ دے کر آگے لاتے رہیں گے تو وہ عوامی مسائل کی گھتیاں سلجھانے کے بجائے ان میں پیچیدگیاں پیدا کرتے رہیں گے، ترقی کے بجائے قوم کو رکود و جمود کی دلدل میں پھنساتے رہیں گے اور وہ شعبہ تعلیم سمیت اہم شعبوں میں نالائق افراد کے ہاتھوں زمام مسؤلیت تھما کر تماشا کرتے رہیں گے۔ کھرمنگ کے عوام اس بات کو پلے باندھ لیں کہ ضلع کھرمنگ کی ترقی اور موروثی سیاست کا خاتمہ لازم و ملزوم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 832514
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
بہت اچهی تحریر جناب جمالی کی۔
منتخب
ہماری پیشکش