1
0
Saturday 14 Dec 2019 14:34

زائرین کی مشکلات، کون ذمہ دار؟(2)

زائرین کی مشکلات، کون ذمہ دار؟(2)
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
زائرین امام حسین  کے حوالے سے ہم نے اس مضمون کے پہلے حصے میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہماری موجودہ حکومت مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے کوشاں نظر آتی ہے اور اس نے کچھ اقدامات بھی اٹھائے ہیں، جن میں سکھوں اور بدھوں کیلئے کئے جانے والے اقدامات سرفہرست دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اہل تشیع اور اہل سنت جو زیارات کیلئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایران عراق جاتے ہیں، ان کیلئے مشکلات اور مسائل کو حل کرنے کی کوششیں اس طرح نظر نہیں آتیں۔ زائرین بالخصوص بائی روڑ زیارات پہ جانے والوں کیلئے کئی قسم کی مشکلات درپیش رہتی ہیں، ان ہمہ جہتی مشکلات میں ویزہ پراسس سے لیکر کانوائے تک اور قافلہ سالاروں کے نام پہ فراڈ سے لیکر انسانی سمگلنگ تک کے مسائل و مشکلات پیش نظر ہیں۔ اگر ہم ان مشکلات کو مکمل تفصیل کیساتھ بیان کریں تو اس مضمون کے کئی حصے بن جائیں گے جبکہ میں چاہتا ہوں کہ اس حصہ میں ان چیدہ چیدہ مسائل کا تذکرہ کرکے بات ختم کی جائے۔!
 
حکومت کی طرف سے مشکلات:
حکومت کی طرف سے اس وقت ایک نئی بات سامنے آئی ہے، جس کے مطابق حکومت ہر زائر پر ایک مخصوص رقم (تقریبا 20 ہزار روپے) بطور ٹیکس لینا چاہتی ہے اور اس کام کو وزارت مذہبی امور کے انڈر لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وائس آف زائرین اور قافلہ سالار حضرات کی طرف سے اور مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے اس فیصلہ کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے وزارت مذہبی امور کے تحت ہونے والی اس سلسلہ کی میٹنگ کا بھی مجلس وحدت مسلمین نے بائیکاٹ کیا ہے۔ حکومت نے ہی کوئٹہ اور تفتان سے کانوائے کا سسٹم شروع کیا تھا اور اس میں اپنے من پسند افراد کو بھی شامل کیا ہوا ہے، جو اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف تو ان افراد سے رجسٹریشن کے نام پہ پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب این او سی پنجاب یا دیگر صوبوں سے بلوچستان میں گاڑیوں کے داخلہ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ بلوچستان کی انتظامیہ کے من پسند افراد سے رجسٹریشن کارڈ اور این او سی لیں، جو کم از کم پانچ ہزار روپے میں بنتا ہے۔ جیسا کہ پہلے حصہ میں ذکر ہوا، یہ جو بائی روڈ زائرین ہوتے ہیں، یہ انتہائی غریب اور متوسط درجہ کے لوگ ہوتے ہیں، جن کیلئے زیارت ایک خواب ہوتا ہے، جس کی تکمیل کیلئے یہ عمر بھر امید و آس لگائے رکھتے ہیں اور جب بائی روڈ جا رہے ہوتے ہیں تو نجانے کیسے بہت تھوڑے پیکیجز پہ جاتے ہیں۔ ان کا خیال رکھنا چاہیئے، ان کا احساس کرنے کی ضرورت ہے، ان پر ٹیکسز لگانا سراسر ظلم کے مترادف ہے، یہ کسی بھی صورت ناقابل قبول ہے۔

اس کیساتھ ساتھ جب آپ پاکستان سے اپنی بس لیکر جاتے ہیں تو آپ کو کاغذات بنوانا ہوتے ہیں، ڈرائیورز کے انٹرنیشنل لائسنس، گاڑی کے کاغذات (کارنٹ وغیرہ) جس کیلئے پاکستان بھر کو ایک دفتر جو پرائیویٹ فرم ہے، کا سامنا کرنا ہوتا ہے، اربعین کے دنوں میں یہاں پر لوگوں کو جس طرح ذلیل ہوتے دیکھا ہے اور خود بھی کاغذات بنوانے کیلئے جتنے دھکے کھائے ہیں، وہ الگ ہی کہانی ہے۔ بہرحال ایک دفتر ہے، جو پورے پاکستان کو کارنٹ جاری کرتا ہے، اس کے پاس پاراچنار والے بھی بیٹھے ہوتے ہیں اور سندھ والے بھی، پنجاب کے سینکڑوں گاڑیوں کے لوگ بھی اور دیگر ایریاز کے بھی۔ یہاں ایسا مرحلہ بھی آیا کہ دفتر والوں سے تنگ آکر لوگ جھگڑ پڑے اور اور پولیس بلوانا پڑی۔ اس مرحلہ کو بھی آسان بنانے کی ضرورت ہے، چونکہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی تفتان پہنچ جاتی ہے اور اس کے کارنٹ وغیرہ لاہور میں ہوتے ہیں۔
 
ویزہ مشکلات:
گذشتہ دو برس سے اربعین کے موقعہ پر ویزہ کے حوالے سے جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، ان سے لوگوں کا اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے، اس کا کسی کو درست اندازہ ہی نہیں۔ بالخصوص عراقی ویزہ اپروول اور اپروول کے بغیر جتنا لیٹ ہوا، اس سے بائی ایئر جانے والے گروپس کے ٹکٹس ضائع ہوگئے، اوپر سے ایئر لائنز نے ایسے مواقع کے پیکیجز میں ٹکٹس کٹوتی کیساتھ واپسی کا آپشن ختم کر دیا۔ اس بار بھی عراقی ویزہ اتنا دیر سے ملنا شروع ہوا کہ لوگوں کے کروڑوں ڈوب گئے، بائی ایئر جانے والے گروپس کو بے حد نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اس دیر کی وجہ سے ملک بھر میں ایک طوفان کھڑا ہوگیا تھا، تب جا کر حکومت کے کچھ اعلیٰ عہدیدار میدان میں کودے۔

وزارت خارجہ اور مشیر وزیراعظم زلفی بخاری نے عراقی اتھارٹیز سے بات چیت کی، جس کے بعد ویزہ پراسس شروع ہوسکا، اگر یہی کام حکومت اور وزارت خارجہ نے پہلے سے کیا ہوتا تو شائد یہ نوبت نہ آتی۔ دراصل جو بات سامنے آئی، وہ ہماری حکومت کے خارجہ سطح پر عراقی اتھارٹیز سے مناسب تعلقات کا نہ ہونا ہے۔ اربعین و محرم ہر سال آتے ہیں اور ہماری وزارتیں جو زائرین پر ٹیکسز لگانے کا سوچ رہی ہیں، انہیں اس جانب توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ ملکی سطح پر اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے روابط کو مستحکم کریں اور اپنے ملک کے شہریوں کیلئے عراقیوں سے زیادہ سہولیات لیں۔
 
قافلہ سالاروں کی طرف سے مشکلات:
قافلہ سالار حضرات میں سے بہت سے پرفیشنل ہیں، جنکا کام سال بھر قافلے لے کر جانا ہوتا ہے ،یہ اپنے اپنے حلقے میں معروف ہیں، لوگ انہیں جانتے ہیں، مگر اربعین اور محرم کے ایام میں چونکہ سیزن ہوتا ہے، زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، لہذا ہم نے دیکھا ہے کہ موقعہ پرست لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے کئی دفعہ سستے پیکیجز کا اعلان کرکے زائرین کو لوٹتے ہیں، انہیں ذلیل و خوار کرتے ہیں، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ کئی بار پیسے لیکر ایران جا کر چھوڑ دیتے ہیں اور کئی بار عراق میں انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہر سال اربعین کے موقعہ پر ایسے بیسیوں واقعات سامنے آتے ہیں، مگر ان کا کوئی راہ حل نہیں ہوتا۔ اسی طرح زائرین امام حسین کو ناکافی سہولیات دے کر لاکھوں کمائے جاتے ہیں۔

بے چارے زائرین زبان سے ناواقفیت کی بنا پر ایسے سالاروں سے کرنسی، انگوٹھیوں کے نام پر بھی لٹتے ہیں، ایسے ہی ہلکی اور غیر آرام دہ خراب بسیں لے جاتے ہیں، جو اتنے لمبے سفر کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ خود قافلہ سالار بھی اگر تجربہ کار اور روابط نہ رکھتا ہو تو عراق و ایران میں ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں لٹتا ہے، جس کا اثر بہرحال زائرین پہ ہی آتا ہے، ایران و عراق میں دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانے والے بہت سے طالبعلم اب تعلیم چھوڑ کر یہی کام کرتے ہیں، یہ لوگ ہوٹلز کی بکنگ، پاکستانی کھانا، لوکل زیارات کیلئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی، کرنسی ایکسچینج، بطور گائیڈ سروسز فراہم کرتے ہیں اور کمائی کرنے میں لگے ہیں، اپنا بنیادی کام بھول چکے ہیں۔
 
اس کے علاوہ بھی بہت سی مشکلات زائرین برداشت کرتے ہیں، جن کا تعلق کوئٹہ، تفتان کانوائے سے ہے۔ گاڑیوں کی روانگی سے ہے، اسی طرح علمدار روڈ کے امام بارگاہوں کی طرف سے بھی مشکلات سامنے آئی ہیں۔ تفتان میں ناکافی سہولیات کیلئے صاحب ثروت اور خیراتی اداروں کو میدان میں آنا چاہیئے، وہاں پر بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ اسی طرح قومی جماعتوں اور قائدین کو حکومت سے متعلق معاملات، مشکلات، مسائل کے حل کیلئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے، روس کی طرف سے کوئٹہ تفتان لائن کو دوبارہ بچھانے کی بات سامنے آئی ہے، جو باد صبا کو جھونکا کہا جا سکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو کئی خرابیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ بہرحال قومی جماعتیں و قائدین اس حوالے سے آج میدان میں اتریں اور نمبر ٹانکنے کی بجائے یا فوٹو سیشن سے ہٹ کر مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کو سنجیدہ اور بروقت اقدامات اٹھانے پر مجبور کریں۔
خبر کا کوڈ : 832725
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Yiliya Bulti
Pakistan
The so-called shia leaders who are now three in numbers are sleeping. Its because they go by air to Iran and Iraq with protocol. They dont care what the shia common people are facing in their travel to Iran and Iraq.
منتخب
ہماری پیشکش