0
Sunday 15 Dec 2019 19:41

ایرانی وفد کا کراچی چیمبر کا دورہ، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق

ایرانی وفد کا کراچی چیمبر کا دورہ، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق
رپورٹ: ایس ایم عابدی

ایرانی تجارتی وفد کے سربراہ مراد نعمتی نے زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے جتنا جلدی ممکن ہوسکے اقدامات عمل میں لائے جائیں، بالخصوص کسٹم ڈیوٹی کو کم کرکے قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر انہوں نے کہا کہ کسٹم ڈیوٹی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینل کو بھی باضابطہ طور پر شروع کرنا ہوگا، جو دونوں ممالک کی تاجر برادریوں کا دیرنہ مطالبہ ہے۔ اس موقع پر ایرانی قونصل خانے کے کمرشل اتاشی محمود حاجی یوسفی پور، کراچی چیمبر کے نائب صدر شاہد اسماعیل، سابق نائب صدر آصف شیخ جاوید مینیجنگ کمیٹی کے اراکین و دیگر ممبران کے علاوہ ایرانی وفد کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممبران بھی موجود تھے۔

مراد نعمتی نے مزید کہا کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری سے نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی مواقع میسر آئیں گے اور ایران اس اہم منصوبے کا حصہ بننے کا خواہشمند ہے، جس سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی تاجر برادریوں کو باقاعدگی سے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ ساتھ سنگل کنٹری نمائشوں کا بھی اہتمام کرنا ہوگا، جن کی بدولت یقینی طور پر تجارت و سرمایہ کاری میں بہتری آئے گی۔ مراد نعمتی جو کراچی میں ایران کے قونصل خانے میں کمرشل اتاشی کی حیثیت سے بھی خدمات پیش کرچکے ہیں، انہوں نے کراچی کی تاجر برادری کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی، تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے اور تجارت کی نئی راہوں کی کھوج لگائی جاسکے۔

اس موقع پر کراچی چیمبر کے نائب صدر شاہد اسماعیل نے اپنے استقبالی کلمات میں کہا کہ برادر ملک ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کم ہے، لہٰذا پاکستان اور ایران کو نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، کے سی سی آئی نے ہمیشہ ہی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے کوششیں کی ہیں، بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات رکھنے کے حوالے سے چیمبر کی سوچ مثبت ہی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت اصل گنجائش سے بہت کم ہے، کیونکہ 2018ء کے دوران پاکستان کی برآمدات 330.2 ملین ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 1.247 ارب ڈالر تھیں۔ شاہد اسماعیل نے بتایا کہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر مذاکرات جاری ہیں، کیونکہ دونوں ملکوں نے ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کو آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں اپ گریڈ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس کے لئے ابتدائی مسودے کا پہلے ہی تبادلہ کیا جا چکا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایران کے ایرانین بینک مرکزی جمہوری کے ساتھ بینکنگ ادائیگی کے بندوبست (بی پی اے ) پر دستخط کرنے کے لئے ایم او یو کے مسودے کا بھی تبادلہ کیا ہے۔

دونوں ملک پہلے ہی ایم او یو پر دستخط کرچکے ہیں، جس کے مطابق تجارتی لین دین کے لئے دونوں ملکوں کے مرکزی بینکوں میں چینلز کھولے جائیں گے، جو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی کلیئرنس کے لئے ڈالر کے استعمال کو کم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اشد ضرورت کے حامل بینکنگ چینلز جلد ہی حقیقت بن جائیں گے، جس سے یقینی طور پر موجودہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔ شاہد اسماعیل نے کوئٹہ تافتان کے راستے کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لئے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ مستقل بنیاد پر ای سی او کنٹینر ٹرین کے فعال ہونے سے دونوں ملکوں کے مابین کارگو اور ٹرانزٹ سہولتوں کو فروغ حاصل ہوگا، کراچی چیمبر ایرانی تاجر برادری سے تجارت بڑھانے کا خواہشمند ہے۔
خبر کا کوڈ : 832918
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش