5
Saturday 21 Dec 2019 19:12

کوالالمپور سربراہی اجلاس کا اصل فاتح ایران

کوالالمپور سربراہی اجلاس کا اصل فاتح ایران
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
ملائیشیاء کے دارالحکومت کوالالمپور میں سربراہی اجلاس تاریخی ثابت ہوا۔ باوجود این کہ پانچ شریک بانیان میں سے دو نے تو شرکت ہی نہیں کی، مگر بعض حوالوں سے یہ چوٹی کی کانفرنس کامیابی کے بہت سارے ریکارڈ توڑ گئی۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس حوالے سے پچھلی تحریر میں پیش کردہ نکات غیر متعلق ہوگئے۔  پچھلی تحریر سے اب تک کے واقعات مجبور کرتے ہیں کہ اس کا فالو اپ بھی لکھا جائے، تاکہ اس کی تاریخی کامیابی کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جاسکے تو ساتھ ہی اس کے اصل فاتح کا اعلان بھی کیا جاسکے۔ غور فرمائیں کہ اس ایک کانفرنس نے کتنی ریاستوں اور حکومتوں کو بیک وقت بے نقاب کر دیا۔ کتنے ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ کتنے مقدس نما حکمرانوں کو آئینہ دکھایا اور کتنی غیرت مند ملتوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے پر مبنی حقائق بیان کر دیئے، تو ہے کوئی اس کانفرنس سے حاصل ہونے والی ان تاریخی کامیابیوں کو سمجھ سکے۔!

سب سے پہلے پاکستان! اس کانفرنس نے پاکستان و سعودی عرب تعلقات اور پاکستان و متحدہ عرب امارات تعلقات کی اصل نوعیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ کہاں کے مسلمان اور کہاں کی اسلامی محبت، سعودی و اماراتی شاہ و شیوخ کی نظر میں پاکستان ان کا زرخرید غلام ہے۔ اسلام آباد میں قائم سعودی سفارتخانے کا تردیدی بیان اپنی جگہ، لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ سعودیہ و امارات دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ جیسا یہ کہیں دیگر ممالک تعمیل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور انڈونیشیاء کے حکمران بھی اسی دباؤ کی وجہ سے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
 
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فراہم کی گئی مالی معاونت بھی ختم کرنے کی دھمکی دی گئی۔ حتیٰ کہ پاکستان کو دھمکی دی گئی کہ لاکھوں پاکستانی ملازمین کو واپس پاکستان بھجوا دیا جائے گا اور ان کی جگہ بنگلہ دیش کے شہریوں کو ملازمتوں پر رکھا جائے گا۔ ترکی کے روزنامہ صباح میں اردگان کی تقریر کی خبر شائع ہوئی ہے۔ یعنی یہ سوشل میڈیا کی تبلیغاتی جنگ کا فائر کردہ کھوکھلا و بے بنیاد میزائل نہیں ہے، بلکہ مغربی بلاک اور نیٹو اتحاد کے اہم ملک ترکی کے صدر کا بیان ہے اور یہ انہوں نے اپنے ملک یا کسی ایسے ملک سے نہیں دیا کہ جس سے سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوں۔
 
اردگان کے بیان سے قبل ہی پاکستان بھر میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کو ریاض طلب کرکے انہیں ڈکٹیشن دی گئی ہے۔ اس کے فوری بعد وزیراعظم پاکستان کا طے شدہ دورہ ملائیشیاء منسوخ کر دیا گیا اور اس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرنے سے معذرت کرلی۔ ایک طرف وزیراعظم ریاض بلوائے گئے تو یکایک بری فوج کے سربراہ ابوظھبی پہنچے۔ ملاقات کی تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ فوجی وردی میں ملبوس نہیں تھے۔ ان دونوں دوروں سے ہی پاکستانی قوم سمجھ چکی تھی کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کوالالمپور سربراہی اجلاس کی وجہ سے پاکستان اور انڈونیشیاء کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آگئی اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کا مداخلت آمیز کردار بھی بے نقاب ہوگیا۔ دنیا بھر میں مسلمان اور عرب رائے عامہ ویسے بھی سعودی و اماراتی شاہ و شیوخ سے نالاں ہی تھی۔ اب انہیں ناقابل تردید ثبوت بھی مل گیا کہ ان کی اوقات کیا ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ سعودی عرب اور یو اے ای کو سنی مسلمانوں سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ہم مسلک سلفی قطر کو بھی اپنا مطیع درباری بنانا چاہتے ہیں اور قطر کے وزیر خارجہ نے تو سعودی عرب میں جی سی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد اور اردگان کی تقریر سے پہلے ہی سعودی ڈکٹیشن کی تفصیلات بیان کر دیں تھیں۔  سعودی عرب اور متحدہ امارات نے ایران کے خلاف مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لیے شیعہ سنی اختلافات کا تاثر دیا تھا۔ مگر ان کے شاہی آداب سے تو ثابت ہوگیا کہ اصل پھڈا تو سلفی وہابیوں کے مابین ہے تو ساتھ ہی یہ سنی وہابی تنازعہ بھی ہے۔

یہ مسلکی زاویہ ہے، ورنہ بین الاقوامی اور بین الریاستی تعلقات اور عالمی و علاقائی صف بندی کے لحاظ سے تو سعودیہ و امارات امریکی مغربی بلاک ہی کا حصہ ہیں۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ اب ان کے جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہت زیادہ گرمجوشی ہوچکی ہے اور جب بات کی جاتی ہے مغربی بلاک کی تو یہ بھی یاد رہنا چاہیئے کہ ترکی بھی مغربی نیٹو بلاک کا حصہ ہے تو قطر فوجی اڈوں کے لحاظ سے امریکا کا میزبان بھی ہے۔ ملائیشیاء بھی اسی مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے جڑا ہوا ہے، جس کی قیادت امریکا و یورپ کے پاس ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ میکرو لیول پر ایک ہی عالمی نظام کا حصہ یہ ملک مائیکرولیول پر کیوں منقسم ہیں۔!

اس سوال کو یہیں چھوڑ کوالالمپور سربراہی اجلاس کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ عالمی سطح کا سرمایہ دارانہ نظام اور نیٹو کا عسکری بلاک، یہ سبھی اسرائیل کے مفاد کے محافظ ہیں اور ان سبھی کی نظر میں ایران ایک مسئلہ ہے۔ بہت سوں کی نظر میں دشمن، بہت سوں کی نظر میں حریف۔ ان کی پالیسی برائے عالم اسلام و عرب یا مشرق وسطیٰ و افریقہ میں ایران کی مخالفت مرکزی نکتہ ہے۔ ان کے مائنڈ سیٹ کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کی جائے تو ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جس ایران کے خلاف انہوں نے صفیں باندھ رکھیں تھیں، وہی ایران اس کانفرنس میں موجود تھا اور ان کی اپنی صفوں کی دراڑ ان کی ابتک کی ساری محنت پر پانی پھیر چکی۔
 
ملائیشیاء کے ڈاکٹر مہاتیر محمد ہوں کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان یا قطر کے امیر ہوں۔ ان کا ایک جگہ مل بیٹھ کر متفق ہو جانا، خبریت کے لحاظ سے یہ بڑی خبر نہیں بنتی، کیونکہ یہ ممکن ہے۔ مگر ایک ایسا اجتماع کہ جس کی مخالفت سعودیہ و امارات کرتے ہوں اور جہاں شریک بانیان یا شریک میزبان بھی کنی کترا جائیں، وہاں ایران کی بھرپور قائدانہ نمائندگی کو کیا کہا جائے!؟ سوائے اس کے کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس ایران کے موقف کی بہت بڑی اخلاقی اور سفارتی فتح ہے۔ یعنی بحیثیت پاکستانی ہم چشم تصور سے بھنگڑے کے شور میں یہ بول سن رہے ہیں۔۔۔ اے کی رولا پئے گیا،، ایران بازی لے گیا!!؟؟ اور جہاں تک بات ہے پاکستان کے حکمرانوں کی تو ان کے لئے مرزا غالب کہتے ہیں:
رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہئے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
خبر کا کوڈ : 834086
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش