1
Friday 17 Jan 2020 18:05

شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد امریکہ سیاسی انتشار کا شکار

شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد امریکہ سیاسی انتشار کا شکار
تحریر: علی احمدی

شہید جنرل قاسم سلیمانی کے بہیمانہ قتل کے آفٹر شاکس امریکہ اور خطے میں بدستور جاری ہیں۔ امریکہ میں کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ پر مبنی اقدام کے محاسبے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ منگل 14 جنوری کی شام ڈیموکریٹک پارٹی کے چھ صدارتی امیدواروں کے درمیان ایک انتخاباتی مناظرہ منعقد ہوا۔ اس مناظرے میں تمام امیدواروں نے متفقہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کے بہیمانہ قتل پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا امریکی صدر اس قتل کے اثرات پر قابو پانے کیلئے طے شدہ حکمت عملی رکھتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کو ایران سے تناو میں اضافے کا سبب قرار دیا۔ دوسری طرف ایوان زیریں میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے پر مبنی بل منظور ہوچکا ہے اور اب اسے حتمی شکل دینے کیلئے سینیٹ بھیجا جائے گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ سینیٹ کے رکن ٹیم کین کا کہنا ہے کہ اس بل کو ڈیموکریٹک سینیٹ اراکین کے علاوہ ریپبلکن پارٹی سے وابستہ چار سینیٹ اراکین کی حمایت بھی حاصل ہوچکی ہے۔

ٹیم کین نے منگل 14 جنوری کے دن صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کے بل کی حتمی منظوری کیلئے انہیں سینیٹ میں 51 حامی ووٹ درکار ہیں جبکہ 45 ڈیموکریٹک سینیٹ اراکین کی حمایت تو حاصل ہی ہے، لیکن ان کے علاوہ چار ریپبلکن پارٹی سے وابستہ اور دو آزاد سینیٹ اراکین کی حمایت بھی حاصل ہوچکی ہے، جس کے تناظر میں وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ بل منظور کر لیا جائے گا۔ ریپبلکن پارٹی سے وابستہ سینیٹ کے رکن ٹیڈ یانگ جنہوں نے اس بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اس بارے میں کہا:"یہ بل صدر کو ایران سمیت کسی بھی دشمن ملک کے خلاف اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایمرجنسی صورتحال کے بارے میں جوابدہ قرار دے گا۔ اس بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہوگا۔" دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحریک میں بھی تیزی آگئی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کے مطابق مواخذے کی تحریک کی نگرانی کرنے والی پارلیمنٹ کی چار کمیٹیوں کے سربراہان ایڈم شیف، جیری نیڈلز، کیرولین میلونی اور اولیویٹ اینگل نے اہم انکشافات کئے ہیں۔

ان چار کمیٹیوں کے سربراہان نے کہا ہے کہ انہیں پارناس سے کچھ نئی دستاویزات حاصل ہوئی ہیں۔ یاد رہے پارناس یوکرین کے وہ سابق تاجر ہیں، جن کے ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل جولیانی کے ساتھ تعلقات تھے۔ یوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے مواخذے کا خطرہ زیادہ شدید ہوگیا ہے۔ ایک اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں یہ موقف اپنایا تھا کہ ان پر جنرل قاسم سلیمانی کا مقابلہ کرنے کیلئے ریپبلکن پارٹی سے وابستہ سینیٹ اراکین کی جانب سے دباو ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن اب وہی سینیٹ اراکین ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سینیٹ میں موجود جنگ پسند ریپبلکن اراکین کی حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مثال کے طور پر اس زمرے میں ریاست آرکنساس سے سینیٹر ٹام کیٹن کا نام قابل ذکر ہے۔

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس کے اثرات خطے میں باقی ہیں۔ عراق کی مسلح افواج کے ترجمان عبدالکریم خلف نے اعلان کیا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بارے میں تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی چند اہم نتائج تک پہنچی ہے، جو وزیراعظم کو بھیج دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا:"ابو مہدی المہندس اور قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں انجام پانے والی تحقیق عراق کی سرحدوں سے باہر جانے کا امکان موجود ہے۔ یہ تحقیقاتی عمل ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچا ہے۔" بعض میڈیا ذرائع پر شائع ہونے والی رپورٹس اور تجزیات میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اسرائیل نے بھی امریکہ سے تعاون کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل آرمی کے ترجمان جیناتھن کرنیکاس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کی مسلح افواج نے ان افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حزب اللہ لبنان کے ایک اعلیٰ سطحی سربراہ علی دعموش نے کہا ہے:"عین الاسد فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے انتقامی کارروائی کا آغاز تھے اور خطے سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء تک یہ انتقامی کارروائی جاری رہے گی۔"
خبر کا کوڈ : 839030
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش