0
Saturday 18 Jan 2020 20:19

ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام ''آل پارٹیز کانفرنس'' کی تفصیلی رپورٹ

ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام
رپورٹ: ایم ایس نقوی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام ایران امریکہ کشیدگی کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، مدارس اور طلباء تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کی۔ کانفرنس کے میزبان علامہ اقتدار حسین نقوی، ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے صدر میاں آصف محمود اخوانی، مسلم لیگ نون کے ضلعی صدر رانا شاہد الحسن، جمعیت علمائے پاکستان(نورانی) کے مرکزی رہنما ایوب مغل، پاکستان پیپلزپارٹی کے بابو نفیس احمد انصاری، نعیم شہزاد بھٹی، ممبر صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب شفقت حسنین بھٹہ، علی یونیورسٹی کے پرنسپل علامہ ظفر حسین حقانی، جامعہ شہید مطہری کے پرنسپل علامہ قاضی نادر حسین علوی، مولانا وسیم عباس معصومی، مولانا سبطین نجفی، علماء اوقاف بورڈ کے رہنما علامہ غلام مصطفیٰ انصاری، تحریک منہاج القرآن کے یاسر ارشاد، آئی ایس او ملتان کے ڈویژنل صدر شہریار حیدر، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما راو محمد عارف رضوی، مہدیہ کمپلکس کے سربراہ علامہ سلطان نقوی نے شرکت کی۔

علاوہ ازیں سنی تحریک کے رہنما مرزا ارشدالقادری، مسیحی کمیونٹی کے رہنما پادری نعیم جاوید، امامیہ آرگنائزیشن کے امجد صدیقی، سنی اتحاد کونسل کے رہنما قاری محمد افضل، دی میڈیا فانڈیشن کے رہنما پروفیسر عبدالماجد وٹو، جرنلسٹ فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کے رہنما شفقت بھٹہ، سماجی رہنما عامر محمود نقشبندی، سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت علی سیال، فہیم جعفر ایڈووکیٹ، مرزا وجاہت علی، حسنین انصاری اور دیگر شریک تھے۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے، شہید قاسم سلیمانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، امریکہ اور اس کے حواریوں کا نشانہ پاکستان ہے، ہماری خواہش ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کی نمائندگی کرے، مقررین نے اپنے خطاب میں عالم اسلام کی وحدت پر زور دیا، رہنماوں نے مسلمانوں کے تمام مسائل کا ذمہ دار امریکہ کو قراردیا، ایران نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی، امریکہ کے خلاف اس جنگ میں ایران کے ساتھ ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے اپنی ابتدائی گفتگو میں کہا کہ بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہمیں فرقہ واریت اور لسانیت کی بنیاد پر تفرقے میں ڈالے، لیکن ہم نے اس کی سازش کو بے نقاب کرنا ہے اور اس کا توڑ نکالنا ہے، اس آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد بھی یہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نعیم شہزاد بھٹی کا کہنا تھا کہ بحیثیت مسلمان ہمارا نظریہ اسلام کی بنیاد پر ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تمام مسلمان اُمت کو اکٹھا کیا، امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرے۔ تحریک منہاج القرآن ملتان کے سرپرست اعلیٰ دیوان یاسر ارشاد کا کہنا تھا کہ آج ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیئے، ظاغوتی ظاقتوں کے پاس تقسیم کرو اور حکومت کرو کے علاوہ کوئی فارمولہ نہیں ہے، ہم آپ سب کے ساتھ اسی طرح کھڑے ہیں، جیسے آپ پوری قوم کے ساتھ ہیں۔

مہدویہ کملپکس کے سربراہ علامہ سید سلطان احمد نقوی نے کہا کہ ہم اگر آج بیدار نہیں ہوتے تو کب ہوں گے؟ ہم اگر آج بھی بیدار نہیں ہوں گے تو ہمیں بہت سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کم لوگ زیادہ پر فوقیت حاصل کرتے ہیں، ہمارے حکمرانوں کو بصیرت کا سہارا لے کر طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک محاذ پر اکٹھا ہو جانا چاہیئے، جامعہ شہید مطہری کے مدرس اور نمائندے مولانا وسیم عباس معصومی کا کہنا تھا کہ ہم انسانی طور پر اکٹھا ہوچکے ہیں، لیکن اب ہم نے عملی طور پر اکٹھا ہونا ہے، حضرت محمد نے فرمایا مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، امریکہ سپر پاور ہے، لیکن اللہ سے بڑا سپر پاور نہیں، پس ہمیں اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے، افواج پاکستان بابصیرت ہے اور عوام بھی بابصیرت ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملتان کے ڈویژنل صدر شہریا حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او پاکستان کے نصب العین کا حصہ ہے کہ ہم نے اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے، امریکہ کی وہی سوچ ہے، جو داعش کی سوچ ہے، حاج قاسم سلیمانی نے داعش کے مقاصد کو نیست و نابود کیا، امریکہ کا بنیادی مقصد تفرقہ ڈالنا ہے، وحدت ایک واحد راستہ ہے، جس سے ہم پاکستان میں استحکام لا سکتے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما رائو محمد عارف رضوی کا کہنا تھا کہ جناب قاسم سلیمانی شہید کی شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں، یہ تنازع صرف امریکہ اور ایران کا نہیں بلکہ یہ اسلام اور کفر کا تنازع ہے، طاغوتی کوششوں کا صرف ایک ہی مقصد رہا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں متحد ہوں، ہمارے تمام مسائل کا حل اور امت مسلمہ کا عروج صرف وحدت میں ہے، علامہ اقبال نے بھی ہمیشہ وحدت کا درس دیا ہے، پاکستان عوامی تحریک کا بھی یہی موقف ہے کہ تمام مسائل کا حل اتحاد و اتفاق میں ہے۔ سنی تحریک پاکستان کے ناظم مرزا ارشد القادری کا کہنا تھا کہ غیر مسلم قوتیں فقط مسلمان کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں، ان کے نزدیک کوئی شیعہ یا سنی نہیں ہے، ان کے نزدیک سب سجدہ کرنے والے مسلمان ہیں، تمام جماعتوں کو اکٹھا ہوکر طاغوتی طاقتون کا مقابلہ کرنا ہے، ہم نے تمام طاغوتی طاقتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سب یکجا ہیں، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان ملتان ریجن کے نمائندے امجد صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں دوست اور دشمن بنانے ہیں، جن سے دوستی کا حکم قرآن نے دیا ہے، وہ دوست اور جن سے قرآن نے منع کیا ہے، وہ دشمن ہیں، چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔

سماجی رہنما میاں عامر محمود نقشبندی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے یہ حملہ پہلی بار نہیں کیا، جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک ہو جائیں لیکن ہم ایک نہیں ہوتے، ہماری حفاظت ہمارے ایک ہونے میں ہے، قاسم سلیمانی کی شہادت ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم ایک ہو جائیں، چھوٹے چھوٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر بڑے مفادات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ امام علی یونیورسٹی کے پرنسپل علامہ ظفر حسین حقانی کا کہنا تھا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ ہمیں شیعہ اور سنی کی تفریق کیے بغیر ایران کی مالی اور شخصی امداد کرنی چاہیئے، کیونکہ ایران ایک ایسا اسلامی ملک ہے، جس نے ہر مشکل میں اسلامی ممالک کا ساتھ دیا ہے، آج ایران امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے، ہمیں اس کی بھرپور حمایت کرنی چاہیئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید امیر حسین گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اس وقت متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے، اس بات سے قطع نظر کہ ہم کس فرقے سے ہیں، کافر ہمیں شیعہ سنی سمجھ کر نہیں مار رہا بلکہ مسلمان سمجھ کر مار رہا ہے، اگر ہم اب بھی اکٹھے نہیں ہوتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اندر سے ٹھیک نہیں ہیں، طاغوتی طاقتیں باطل پر ہونے کے باوجود متحد ہیں لیکن ہم حق پر ہونے کے باوجود منتشر ہیں۔

تنظیم علمائے اوقاف کے رہنما علامہ غلام مصطفیٰ انصاری کا کہنا تھا کہ اس وقت عالم اسلام انتہائی مشکلات میں جکڑا ہوا ہے، آج مسلمانوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح کلمے کی لاج رکھتے ہیں، ہم مسلمانوں کو ایک فارمولے پر عملدرآمد کرنا ہوگا کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں، ہم شیعہ و سنی ایک وجود کے دو بازو ہیں، ہمیں متحدہ رہنا چاہیئے۔ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)کے مرکزی رہنما و ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری محمد ایوب مغل کا کہنا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے، ہم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو خراج تحسین اور اُن کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم سب کو آپس کی محبت کا پیغام پاکستان سمیت دنیا بھر میں پہنچانا ہے، امریکہ دنیا میں ایک ناسور ہے جس نے دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں وائرس استعمال کی ہے، امریکہ طاقت اور نشے کے زور پر اسلامی ممالک کو توڑنے اور اُن کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایرانی قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے امریکہ کو فوری جواب دے کر سپر پاور کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔

سرائیکستان نوجوان تحریک کے چیئرمین مظہر عباس کات کا کہنا تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور جو بھی اس کی حمایت کرتا ہے، وہ بھی شیطان ہے، ضرورت اس امر کی ہے پاکستان میں موجود امریکی گماشتے جو ڈالروں کی پیداوار ہیں، اُنہیں بے نقاب کیا جائے، آج پاکستان کی معیشت کو ڈبونے میں، مقروض کرنے میں، سالمیت کو نقصان پہنچانے میں، خوداری کو مجروح کرنے میں امریکہ کا کردار ہے۔ ممبر صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب الحاج شفقت حسنین بھٹہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ امریکہ کا ایک ناسور ہے، جس سے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکی بھی متاثر ہیں، الحمداللہ آج ہمارے ملک میں اتحاد کی فضاء ہے، کیونکہ آج سب مسلمان مل کر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور اُن کے گھر والوں سے تعزیت کر رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ قاسم سلیمانی مر کر بھی زندہ ہے، کیونکہ اس کا مشن زندہ ہے اور جس کا مشن زندہ ہو وہ کبھی نہیں مرسکتا، امریکی عوام نے ٹرمپ جیسے فاترالعقل کو صدر منتخب کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سابق رکن صوبائی اسمبلی بابو نفیس انصاری کا کہنا تھا کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے اپنی زندگی میں نہ صرف داعش کو ختم کیا بلکہ عالم اسلام کو بھی بچایا ہے، جنگیں ہمیشہ جذبے سے جیتی جاتی ہیں، ہمیں جذبہ ایمانی پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، ہم سب لوگ ایران کے ساتھ ہیں، جنرل قاسم سلیمانی ایک عظیم شہید ہے، شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔ جمعیت اہلحدیث کے صوبائی رہنما پروفیسر عبدالماجد وٹو کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان اگر انفرادی طور پر ایک ہو جائیں تو کوئی قوم نہیں شکست نہیں دے سکتی، ہمیں اتفاق و اتحاد کی زشد ضرورت ہے، ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیئے۔ ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے صدر میاں آصف محمود اخوانی کا کہنا تھا کہ اتحاد ہمیشہ ایثار اور قربانی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، ہمیں اینٹ کا کردار ادا کرنا ہوگا اور اتحاد کی بنیاد رکھنا ہوگی، ایرانی جنرل شہید قاسم سلیمانی سعودی عرب کے لیے امن کا پیغام لے کر گیا تھا امریکہ شئطان اس بات کو ہضم نہ کرسکا، ہم نے دشمن کی سازشوں کو پہچاننا ہے اور اُن کا توڑ نکالنا ہے، ہمیں ایک دوسرے کا تماشا دیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا چاہیئے، ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب سب مسلمان اکٹھے ہوں گے، جماعت اسلامی وہ پہلی جماعت تھی، جس نے سب سے پہلے ایرانی انقلاب کو تسلیم کیا، ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایران پہلا اسلامی ملک ہے، جہاں اسلامی قوانین رائج ہیں اور ایران ہی وہ پہلا ملک ہے، جس نے امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرتری جنرل علامہ سید احمد اقبال احمد رضوی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو ایڈ نہیں ایڈز دی ہے، جنرل قاسم سلیمانی اسلام اور انسانیت کی بات کرتا تھا، امریکہ پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ کا دشمن ہے، پاکستان کی سالمیت مشرق وسطیٰ کے ساتھ منسلک ہے، اگر ایران و افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان بھی پرامن ہوگا، ہمارا یوں ساتھ بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم پاکستان کے لیے متحد ہیں اور اسلام کے لیے بھی متحد ہیں، امریکہ نے عراق میں صدام حسین پر جھوٹا الزام لگا کر وہاں حملہ کیا، امریکہ کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں تفرقہ بازی ہے، جس معاشرے کے اندر انسانیت کو پامال کیا جائے، وہ معاشرہ یقینی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچتا ہے اور وہاں کے لوگوں میں ایک خلاء پیدا ہو جاتا ہے، امریکہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے، اس اسلام میں شیعہ، سنی، وہابی سب شامل ہیں، بس ہمیں ایک سنجیدہ ارادے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ذات سے نکل اکٹھے ہونا چاہیئے اور طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ 

کانفرنس کے آخر میں مشترکہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ
(1)۔ یہ فورم سمجھتا ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل اتحاد میں ہے۔
(2)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں بیرونی مداخلت اور بالخصوص امریکی مداخلت کو بند کیا جائے۔
(3)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے مسلم ممالک میں جاری ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف واضح مذمتی بیان جاری کرے۔
(4)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ناجائز صیہونی ریاست اور ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کے قاتل اسرائیل کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیان کی مذمت کرتی ہے۔
(5)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے ایران سعودی عرب کے درمیان ثالثی کے بیانات کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور او آئی سی کو فعال کیا جائے۔
(6)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی جانب سے فلسطین، کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں مظالم کی مذمت کرتی ہے، کشمیر، فلسطین، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی، عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور دیگر شہداء کے خانوادوں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
(6)۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس حکومت پاکستان کے موقف کہ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، کی حمایت کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 839281
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش