0
Sunday 19 Jan 2020 09:56

تعصب کی انتہاء

تعصب کی انتہاء
اداریہ
امریکہ اور دیگر سامراجی طاقتیں ایران کے خلاف ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنے کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ بظاہر انسانی حقوق، انسانی مساوات، جمہوریت اور سماجی و شہری حقوق و انصاف کے خوبصورت نعرے لگانے والی یہ ریاستیں اپنے آپکو انسان بلکہ حیوانوں کی بھی سب سے زیادہ ہمدرد اور دوست قرار دیتی ہیں، لیکن جہاں پر ان کے مفادات اور انا کے مسائل درپیش ہوں، وہاں یہ سب اقدار فراموش کر دی جاتی ہیں۔ ایران کا اسلامی نظام مغربی طاقتوں کی آنکھوں کا ہمیشہ سے کانٹا رہا ہے، یہاں کی جمہوریت، انسانی حقوق، دفاعی صلاحیتیں حتیٰ کھیل کے میدان میں ایران کی کامیابیاں مغربی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔

ایران کے اسلامی جمہوری نظام پر سعودی عرب و بحرین و متحدہ عرب امارات کی آمریت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایران میں عوام کو حاصل شہری و سماجی حقوق کے مقابلے میں آل سعود، آل نہیان و آل خلیفہ کی انسان دشمنانہ پالیسیاں امریکہ اور یورپ کو ہرگز ناگوار نہیں گزرتیں۔ ظلم و ناانصافی کی انتہاء تو یہ ہے کہ کھیل کے میدان میں بھی ایران کو تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایشیں فٹ بال کنفیڈریشن اے ایف سی نے ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کی ٹیمیں ایشیائی لیگ مقابلوں کے لئے کسی غیر جانبدار ملک میں کھیلنے کی تیاری کریں۔ اے ایف سی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں بدامنی کو اپنے اس فیصلے کی وجہ بتایا ہے۔ ایران نے ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے اس فیصلے پر سخت احتجاج کیا ہے اور اسے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے فٹ بال کلبز نے بھی اے ایف سی کے منفی سیاسی محرکات پر مبنی فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے ایشیائی مقابلوں سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ کھیلوں کی علاقائی اور عالمی فیڈریشنوں اور یونینوں پر بھی سامراجی طاقتوں کا غلبہ ہے، وہ اکثر اوقات کھیلوں کے بعض مقابلوں کو بھی اپنے مفادات میں استعمال کرتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے "زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی" کو ایران کے خلاف اپنا رکھا ہے۔ اب یہ ملک اور اس کے حواری اتنی پست سطح پر آگئے ہیں کہ کھیلوں کے مقابلے کے ذریعے ایرانی عوام پر دباو ڈال رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایرانی قوم فٹ بال کی دیوانی ہے، لیکن سامراجی طاقتوں کے اس فیصلے پر ایرانی قوم میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 839426
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش