0
Monday 20 Jan 2020 09:47

خواتین میدان میں

خواتین میدان میں
اداریہ
ہندوستان اور امریکہ سے موصولہ خبروں کے مطابق ان دونوں ملکوں کی خواتین مظاہروں اور دھرنوں میں پیش پیش ہیں۔ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرامپ کیخلاف مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں خواتین کی شرکت نمایاں ہے۔ نیویارک اور شکاگو سے موصولہ خبروں کے مطابق ہزاروں امریکی خواتین نے اپنے حقوق کی پامالی کیخلاف مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے ٹرمپ کیخلاف نعرے لگائے اور انکی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ مظاہروں میں شریک خواتین نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی آئندہ صدارت سے خوفزدہ ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے ایک سو اسی دوسرے شہروں میں بھی ڈونالڈ ٹرامپ کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کے ڈونالڈ ٹرامپ یعنی نریندر مودی کے خلاف بھی ہندوستانی خواتین میدان میں آگئی ہیں۔

ڈونالڈ ٹرامپ کی طرح فاشسٹ نظریات کے حامل نریندر مودی نے جو اقدامات شروع کر رکھے ہیں، اُن ہندوستانی خواتین کا ردعمل فطری ہے۔ ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، لیکن ان مظاہروں کی خاص بات یہ ہے کہ خواتین مظاہروں میں آگے آگے ہیں۔ دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے مسلسل دھرنے نے مودی حکومت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ سخت سردی کے باوجود خواتین دھرنے میں ڈٹی ہوئی ہیں، حالانکہ حکومتی کارندے کھانے پینے کی اشیاء بھی خواتین تک نہیں پہنچنے دے رہے ہیں، صرف میڈیا کے لوگوں کو دھرنے پر بیٹھی خواتین کے قریب جانے کی اجازت ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی خواتین کے دھرنے شروع ہیں۔

معروف شہر لکھنوء میں تو خواتین نے سمجھانے بجھانے کے باوجود دھرنا دیدیا ہے۔ ممبئی اور کولکتہ میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کسی معاشرے کا انتہائی حساس اور کمزور طبقہ شمار ہوتی ہیں، لیکن جب خواتین میدان میں آکر ڈٹ جائیں تو حکومتوں کو ان کے مطالبات کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔ یہ انسانی اقدار بھی ہیں اور معاشرتی روایات بھی۔ امریکہ اور ہندوستان کی خواتین نے جن مطالبات کے لیے مظاہرے اور احتجاج شروع کیا ہے، وہ دونوں ملکوں کے عوام کی بھی ضرورت ہے۔ جو ریاستیں اپنی خواتین کے حقوق کو پورا کرنے پر تیار نہیں ہوتیں، ناکامی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 839526
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش