1
Thursday 23 Jan 2020 16:29

امریکہ عراق توڑنے کے درپے

امریکہ عراق توڑنے کے درپے
تحریر: روح اللہ فرقانی

عراقی پارلیمنٹ میں امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق بل منظور ہو جانے کے بعد انتہائی مشکوک انداز میں اس بحران زدہ ملک میں شدت پسندانہ مسلحانہ مظاہرے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمت سے وابستہ سیاسی جماعتوں نے جمعہ 24 جنوری کے دن ملک گیر امریکہ مخالف مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔ حالیہ شدت پسندانہ مظاہروں کی ایک وجہ جمعہ کے روز ان امریکہ مخالف مظاہروں کو متاثر کرنا بھی ہے۔ عراق کے ذرائع ابلاغ حالیہ شدت پسندانہ مظاہروں کو امریکہ کی سازش قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ امریکہ جوکر نامی شدت پسندانہ گروہوں کی مدد سے ملک میں بدامنی کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے چیف کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ پر مبنی مجرمانہ اقدام کے بعد عراق کی پارلیمنٹ نے ملک سے امریکی فوجیوں کے فوری انخلا پر مبنی بل منظور کیا۔ یہ اقدام امریکی حکام کو پسند نہیں آیا اور انہوں نے نئی سازش اور نئے فتنے کے ذریعے عراق میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ امریکہ کی جانب سے عراقی پارلیمنٹ کے بل سے بے اعتنائی کے سبب عراق کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے عوام کو جمعہ کے روز سڑکوں پر آنے کی کال دے دی ہے۔

بدر آرگنائزیشن کے رہنما قصی الانباری نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: "گذشتہ چند دنوں میں امریکی حکام نے عراق کے صوبہ الانبار کے قبائلی رہنماوں کے ساتھ مشکوک میٹنگز انجام دی ہیں اور انہیں جمعہ کے روز ملک گیر امریکہ مخالف مظاہروں میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایسے اقدامات کا مقصد عراقی قوم میں تفرقہ ڈال کر عراق میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا ہے۔" البتہ امریکی حکام نے عراق میں شدت پسندانہ ہنگاموں تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عراقی پارلیمنٹ کے اس بل کو ناکام بنانے کیلئے عراق میں قومی تعصبات ابھارنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ نے عراق کے کرد نشین علاقے اربیل کے منتظمین کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام کرد نشین علاقے کے منتظمین کو خودمختاری کا لالچ بھی دے رہے ہیں اور عراق توڑنے کے درپے ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ میں امریکی فوجیوں کے انخلا پر مبنی بل منظور ہو جانے کے بعد سیاسی محافل میں امریکہ کی غیر موجودگی میں عراق کے سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف ابحاث کا آغاز ہو چکا ہے۔

نئے ایشوز سامنے آنے کے بعد مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما متحرک ہو گئے ہیں۔ ان میں شیعہ، سنی اور کرد رہنما قابل ذکر ہیں۔ ایک طرف عراقی عوام کی اکثریت ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی حامی ہے جبکہ بعض سیاسی رہنما امریکہ کے انخلا کو اپنے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور اس بارے میں پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انہی مسائل کے پیش نظر امریکہ نے عراق توڑنے اور ایک علیحدہ خودمختار سنی ریاست تشکیل دینے کی سازش شروع کر رکھی ہے۔ ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں کہ حال ہی میں عراق کے چند سنی سیاسی رہنماوں پر مشتمل ایک وفد نے متحدہ عرب امارات میں امریکی حکام سے ملاقات کی ہے۔ لہذا خطے میں اپنی فوجی موجودگی یقینی بنانے کیلئے امریکہ عراق جیسے بڑے عرب ملک کو توڑنے تک تیار ہو گیا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے خطے میں نئی کٹھ پتلی ریاست تشکیل دینے کے درپے ہے۔ لیکن امریکی حکام اس حقیقت سے غافل ہیں کہ عراقی عوام کسی قیمت پر اپنے ملک کو توڑنے پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ حتی کرد اور سنی باشندوں کی اکثریت بھی ملک کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری کو ہر چیز پر مقدم سمجھتی ہے۔

جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی عراقی پارلیمنٹ میں امریکی فوجی انخلا پر مبنی بل منظور ہونے کے فوراً بعد مختلف شہروں میں شدت پسندانہ ہنگامہ آرائی کا آغاز ہوا ہے۔ عراق کے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بدامنی کی موجودہ لہر کے پیچھے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کا ہاتھ ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ملک میں بدامنی کا براہ راست فائدہ امریکہ کو ہو گا۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمت سے وابستہ عراقی گروہ اور جماعتیں امریکہ کو ملک سے نکال باہر کرنے کیلئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بعد پارلیمنٹ میں اکثریت کے حامل سیاسی اتحاد کے سربراہ مقتدا صدر اور حشد الشعبی کے دیگر کمانڈرز نے واضح الفاظ میں امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ اگر اس نے عراق سے نکلنے میں پس و پیش سے کام لیا تو اسے جارح قوت قرار دے کر فوجی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ لہذا یوں دکھائی دے رہا ہے کہ عراق کو تقسیم کرنے پر مبنی امریکی سازش ابھی سے دم توڑ چکی ہے۔ اب اگر کل جمعہ 24 جنوری کے روز عوام بھرپور انداز میں امریکہ مخالف ریلیوں میں شرکت کرتے ہیں تو یہ امریکہ کے فوجی انخلا کیلئے ایک عوامی ریفرنڈم ثابت ہو گا۔
 
خبر کا کوڈ : 840246
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش