0
Monday 10 Feb 2020 10:02

ادلب پر رونا پیٹنا کیوں؟

ادلب پر رونا پیٹنا کیوں؟
اداریہ
ادلب شام کے شمال مغرب میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹیجک علاقہ ہے۔ یہ شہر گذشتہ سات برسوں میں دنیا بھر سے ترکی کے راستے سے آنے والے تکفیری دہشت گردوں کا مرکز اور محفوظ ترین ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے۔ ادلب کے قریب سے گزرنے والی ہائی وے شام کو بین الاقوامی سرحدوں سے ملاتی ہے اور اس لحاظ سے شام کی اہم تجارتی شاہراہ شمار ہوتی ہے۔ ادلب پر جب سے دہشت گردوں نے قبضہ کیا ہے، یہ تمام علاقہ ناامن ہوچکا ہے اور اس راستے سے ہونے والی تمام تجارت اور دیگر امور ٹھپ ہوچکے ہیں۔ البتہ دہشت گرد، ترکی اور کسی حد تک امریکی اس فرصت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

شامی فورسز نے تقریباً سوا مہینہ پہلے سے ادلب کی آزادی کا فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ شامی فورسز اور مقاومتی بلاک کے مجاہدین ابھی تک اس علاقے کے بارہ سو کلو میٹر علاقے کو دہشت گردوں سے آزاد کروا چکے ہیں۔ النعمان، خان طومان اور سراقب جیسے اسٹریٹیجک علاقے آزاد کرانے کے بعد آخری خبریں آنے تک مقاومتی فورسز ادلب سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر دہشت گردوں کا تین اطراف سے محاصرہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ ادلب کے حوالے سے کامیاب کارروائیوں کے تسلسل نے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور ترکی کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ترکی کی فوجیں شام میں داخل ہو کر ’’جبل عقیل‘‘ پر توپ خانے کے ساتھ موجود ہیں، جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ادلب پر حملہ روکنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں روسی نمائندے نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی بڑی اور گنجان آبادیوں پر جب دہشت گرد حملہ آور تھے، قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا، کسی کو سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی توفیق نصیب نہیں ہوئی، لیکن ادلب کے دہشت گردوں کو بچانے کے لیے امریکہ، برطانیہ اور فرانس بے تاب ہو کر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں واویلا کر رہے ہیں۔ ادلب شام کا اپنا شہر ہے، وہ اپنے شہر کو باہر سے آئے دہشت گردوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں، لیکن دہشت گردی اور دہشت گردوں کے حامی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 843673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش