0
Thursday 13 Feb 2020 21:31

14 فروری، پیار کی تھپکی

14 فروری، پیار کی تھپکی
تحریر: عظمت علی

عجیب بات ہے نا۔۔۔۔۔۔۔ ہم کنٹرول کئے جاتے ہیں، ہمارے اوپر کوئی قابض ہے۔ کیا آپ کو ایسا محسوس ہوا ہے کبھی، دیکھئے ہوتا تو ہے ایسا۔ شاید ہم نامحسوس طریقہ سے غیر کے چنگل میں پھنسے ہیں۔ آج ہمارے معاشرہ کے جوان حضرات کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!؟ کس تہذیب کو دل دے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!؟ یہ نہایت سادہ سوال ہے اور جواب تھوڑا سا سخت ہوسکتا ہے،مگر جاننے والوں کے لیے پھر بھی آسان ہے۔ حقیقت ہے کہ ہم غلام تھے اور الحمد للہ آزاد ہوگئے، اس لئے اب "آزاد غلام" ہیں۔ یہ غلامی بھی بڑی بھیانک چیز ہے۔ پہلے وہ ہمیں خریدتے تھے، لیکن آج ہم انہیں خریدتے ہیں، انہیں کا مطلب، ان کی تہذیب، مغربی کلچر، مغربی افکار۔ ہمارا رہن سہن، ہمارا لباس، ہمارا نظامِ تعلیم، سب باہر سے آرہے ہیں۔ بات وہی ہوئی، جسمانی آزاد ہوئے تو فکری غلامی نے ساتھ پکڑ لیا۔ اس پر فخر بھی ہے جبکہ ہونا نہیں چاہیئے۔

دراصل یہ تلخ عبارت شاید گلے سے نہ اترے اور اس کے بدلے زبان سے کچھ نکل ہی جائے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت ہے۔ اگر تسلی کی بات ہو تو یہ بھی کہہ دیںگے کہ ہم ماڈَرن ہیں، ترقی یافتہ ہیں۔ بجا کہتے ہیں۔ آپ نے ترقی کی نہیں، فرمائی ہے۔ مگر یہ بھی تو سوچیں کہ کیا کچھ چھوڑ بھی آئے ہیں، ہم اس وقت اخلاقیات کے پاتال ہیں۔ ابھی بزرگوں کے پاس چلے جائیں، ساری ترقی کا بخار اتر جائے گا۔ تربیت میں جانے کہاں سے خلل پڑا کہ ہم مغرب زدہ ہوئے جا رہے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے پاس تہذیب نہیں۔ اس لیے ہم ان سے کچھ لے رہے ہیں، نہیں۔ ہمارے پاس تو تمدن کی فراوانی ہے۔ خیر۔۔۔۔۔۔! ابھی بہت دیر تو نہیں ہوئی ہے، سو تبدیلی ممکن ہے اور جب جاگو تبھی سویرا۔

14 فروری کو ہندوستان میں کیا ہوا، یہ بات شاید بہت کم جوانوں کو یاد ہوگی، لیکن مغربی تہذیب کا کھلا گلاب ہر کسی کو یاد ہے۔ ولنٹائنس ڈے کو کون فراموش کرسکتا ہے اور اگر کوئی بھولنا بھی چاہے تو اسے یاد دلا دیا جاتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے، اب تو یہ مٹھی میں ہے۔ ادھر کلک کیا ادھر ریسیو ہوا اور بات پہنچ گئی۔ اس دن کے سلسلے میں بہت ساری باتیں کہی جاتی ہیں۔ گو جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔۔۔۔! تاریخ میں ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں رومانی بادشاہ کلاڈیس ثانی (Claudious ll) اپنے وقت کا ایک سفاک بادشاہ تھا۔ اس کے زمانہ میں جب سلطنت روم میں جنگ کا دور چلا تو اس نے لشکر تیار کرنے کو کہا، لیکن سوائے چند کے، فوج جنگ کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔ اس نے وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ شادی شدہ مرد اپنے اہل و عیال سے دور ہو کر شریک معرکہ نہیں ہونا چاہتے اور نوجوان اپنی معشوقہ کے دام عشق سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ تب اس نے فرمان جاری کیا کہ اب کوئی شادی بیاہ نہیں کرے گا، مگر ولنٹائن نے اس شاہی حکم نامہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شادی رچالی۔ جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔

دوسری تایخ میں یوں ملتا ہے کہ ولنٹائن نامی ایک پادری تھا۔ وہ ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوگیا، چونکہ عیسائی مذہب میں پادری اور راہبہ کے لئے نکاح ممنوع ہے، اس لئے ایک روز اس نے اپنی معشوقہ کی تسکین کی خاطر ایک خواب بیان کیا کہ چودہ فروری کا دن ایسا ہے کہ اگر اس میں کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو کوئی حرج نہیں اور اسے گناہ کے زمرے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ راہبہ بھی اس کی میٹھی باتوں میں آگئی۔ دونوں نے عشق کے نشہ میں کلیسا کی ساری روایات کو بالائے طاق رکھ دیا اور وہ سب کچھ کر گزرے، جو نام نہاد عشق و محبت میں ہوا کرتا ہے۔ کلیسا کی روایت کی یوں دھجیاں اڑا دینے پر اس کا بھی وہی حشر ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلے اور مغرب زدہ حواس باختہ ٹولہ نے ولنٹائن کو "شہید محبت" کا لقب دے کر اس کی یاد منانا شروع کر دی۔

اس کے متعلق یہ بھی کہا یہ جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کیلیا (Luper Calia) ”بھیڑیا کا تہوار‘‘ کی صورت میں ہوا۔ یہ 13 تا 15 فروری کو منایا جانے والا تہوار ہے۔ اس روز قدیم رومی باشندے اپنے دیوتاؤں سے بدی کی طاقت سے نجات اور معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور خوشحالی و زمین کی زرخیزی کی دعائیں مانگتے تھے۔ رومی حضرات اس تہوار کو "لوپا" (Lupa) نامی دیوی سے منسوب کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مادہ بھیڑیا تھی، جس نے دو شیر خوار یتیم بچوں ؛رومولس (Romulus) اور ریمس (Remus) کو اپنا دودھ پلایا تھا۔ رومیوں کی تاریخ کے مطابق بعد کے زمانہ میں انہیں دونوں نے "ملک روم" کی بنیاد ڈالی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس روز قدیم روم میں لڑکیاں پرچیوں پر اپنا نام لکھ کر ایک صندوق میں ڈال دیا کرتیں، لڑکے آتے، اسے نکالتے اور اس میں جس لڑکی کا نام آجاتا، وہ اس کی دوست بن جاتی۔ پھر عشق و محبت کا دور شروع ہو چلتا اور وہ سب کرتے، جو نہیں کرنا چاہیئے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔!

ان سب میں ایک واقعہ جو سب سے زیادہ مشہور ہے اور اسے بہت سوں نے تحریر کیا ہے، وہ کچھ یوں ہے کہ اس کا آغاز ”رومن سینٹ ولنٹائن‘‘ کی مناسبت سے ہوا، جسے "محبت کا دیوتا" بھی کہتے ہیں۔ اسے مذہب تبدیل نہ کرنے کی جرم میں قید و بند کی صعوبتوں میں رکھا گیا۔ قید کے دوران اسے جیلر کی لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ سولی پر لٹکانے سے پیشتر اس نے جیلر کی بیٹی کو الوداعی محبت نامہ لکھا، جس میں دستخط سے پہلے ”تمہارا ولنٹائن‘‘ تحریر تھا۔ یہ واقعہ 14 فروری 279ء  عیسوی کو پیش آیا اور اسی کی یاد میں "ولنٹائن ڈے"  منایا جاتا ہے۔ بہرکیف۔۔۔! اس میں چاہے جتنے خرافاتی پردے ہوں، لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ اس کا پس منظر جھوٹ، فریب اور دھوکہ دھی سے عبارت ہے۔ اس میں پھول اور کارڈ بھی قابل ذکر ہیں۔ لڑکے بیچارے لڑکیوں کو تحفہ میں کم از کم پھول تو دیتے ہی ہیں اور ایک فول کا ایک پھول کو پھول ہدیہ کرنا اور پھر پیار کی جھپکی دینا۔ یہی سب تو ہے، ہماری آزاد غلامی کی نشانی۔ تحفہ دینا، بذات خود بری بات نہیں، مگر نامحرم سے جھوٹی محبت کے راگ الاپنا بہرحال غلط ہے۔ اگر ہم انسانیت کی بات کریں تو ایسا کرنے سے ہماری ہی برائی کا پتہ چلتا ہے کہ ہم ایک نامحرم کے ساتھ جس رویہ سے پیش آتے ہیں، ہم خود اسے اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔ محبت ہی کرنا ہے تو پھر صحیح راستے کا انتخاب کریں۔ انسانیت اور فلاح و بہبودی اسی میں مضمر ہے۔
خبر کا کوڈ : 843744
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش