1
1
Tuesday 11 Feb 2020 13:21

شہداء کی یاد منانا شہادت سے کم نہیں

شہداء کی یاد منانا شہادت سے کم نہیں
تحریر: علی زین
 
سائنسی تحقیق کے مطابق ہر انسان 24 گھنٹوں میں کم و بیش 60 سے 70 ہزار سوچوں کی وادیوں میں سے گزرتا ہے اور یہ تمام سوچیں کہیں نہ کہیں اس کے روز مرہ امور سے لیکر اس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہداف زیست و آخر سے شعوری یا لاشعوری منسلک ہوتے ہیں، یعنی ہر انسان اپنی زندگی میں کچھ اہداف طے کرتا ہے اور اکثر ان کی تکمیل کے سہانے خواب دیکھتا ہے، مگر ان خوابوں کی تکمیل آسان نہیں ہوا کرتی۔ خوابوں کی تکمیل کیلئے خون جگر درکار ہوتا ہے، خوابوں کی تکمیل بعض اوقات جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے مگر!!!! مگر جو کوئی بھی جانفشانی سے اور ہدف کے تعاقب میں متمرکز ہو کر خدا پہ بھروسہ رکھ کر خواب کی تکمیل کیلئے محنت کرتا ہے تو پھر خدا خود بھی اس کیلئے آسانیاں پیدا کرتا اور اس کے ہمراہ مددگار ہوتا ہے۔

"گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک" یہ کتاب بھی ایک خواب تھی، جو برادر عزیز توقیر کھرل نے دیکھا اور اس کی تکمیل اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھنے تک اکتفا نہ کیا بلکہ اس کتاب کو پڑھ کر احساس ہوا کہ توقیر بھائی نے جو کام انجام دیا ہے، وہ یقیناً نصرت خدا کے بغیر ممکن نہ تھا اور انہوں نے خواب کی تکمیل کیلئے ہر وہ پہاڑ کھودا، جو ان کے بس میں ہوسکا۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اردو زبان میں یہ بالکل پہلی کتاب ہے، جو سردار شہداء مدافعان حرم شہید قاسم سلیمانی کی زندگی اور شہادت کے بعد محاذ مقاومت میں تحرک پہ لکھی گئی ہے۔ جو برادران لکھنے لکھانے جیسے شغل سے وابستہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ کام نہ فقط مشکل بلکہ حساس ترین کام تھا، جو بھائی نے جانفشانی سے انجام دیا۔ رہبر معظم کا خوبصورت ترین جملہ کہ "شہداء کی یاد منانا شہادت سے کم نہیں" اس جملے کی روشنی میں اگر برادر کے قلم کے جوہر نایاب کو دیکھیں گے تو یقیناً ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہ کام کس قدر قابل تحسین ہے۔
 
کتاب کے اندر شہید کے زندگی کے بہت نایاب واقعات کے ساتھ دنیا بھر کے بہترین تجزیہ نگاروں کے کالم نہایت نفاست و امانت سے تحریر شدہ ہیں۔ قلم کاری کے میدان میں طفل مکتب کی حیثیت سے میں اس کتاب کو پڑھنے کی تاکید ضرور کروں گا کہ یہ گوہر نایاب ہمیں اس بات کا تذکر دلاتا ہے کہ شہید قاسم کے خون نے اس دور پر آشوب میں بھی ثابت کیا کہ
کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے
کربلا تخت کو تلوں سے مسل سکتی ہے
کربلا خار تو کیا آگ پہ بھی چل سکتی ہے
کربلا قلعہ فولاد ہے ۔۔۔۔۔۔ جراروں کا
کربلا نام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلتی ہوئی تلواروں کا
خبر کا کوڈ : 843915
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

طیب حسن
Pakistan
ماشاءاللّٰہ بھائی۔ بہترین تحریر ہے
منتخب
ہماری پیشکش