0
Tuesday 18 Feb 2020 09:52

آلِ سعود و آلِ یہود

آلِ سعود و آلِ یہود
اداریہ
اسرائیل آلِ سعود تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ ماضی میں بھی یہ تعلقات تھے، لیکن سلمان اور بن سلمان سے پہلے ان تعلقات کو چھپایا جاتا تھا۔ تاہم جب سے بن سلمان اور ٹرامپ کے داماد کوشنر کی دوستی ہوئی ہے، تمام راز برملا ہوگئے ہیں۔ بن سلمان اور کوشنر کے درمیان خفیہ رازوں کے تبادلہ کو شاعر نے کچھ اس طرح قلمبند کیا ہے۔ ؎
دوستوں کو شریک غم نہ بنا
راز کھلتے ہیں رازداروں سے
کوشنر ایک نظریاتی یہودی بلکہ صہیونی ہے اور ڈونالڈ ٹرامپ نے سوچ سمجھ کر اپنے داماد کو عرب شہزادوں پر مسلط کیا ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے حالیہ تعلقات میں فروغ اور سعودی عرب کی طرف سے یہودی تنظیموں کو حجاز مقدس پر خوش آمدید کہنا، اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے ایک موقر جریدے نے یہ خبر لگائی ہے کہ امریکی یہودی تنظیم ستائیس سال بعد سعودی عرب کا دورہ کرنے جا رہی ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارتز کے مطابق امریکہ میں یہودیوں کی سب سے بڑی تنظیم امریکن جیوش کانگریس سعودی عرب کے دورہ پر جا رہی ہے، جہاں وہ سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرے گی۔ آلِ سعود کی مشینری اس دورے کو خفیہ اور صیغہ راز میں رکھ رہی ہے۔ لیکن اب یہ خبر میڈیا میں عام ہوچکی ہے۔ اس خبر پر یوں تو ہر مسلمان کا دل پریشان ہوگا، لیکن فلسطین کے وہ مظلوم جو ان صہیونی یہودیوں کے ہاتھوں گذشتہ ستر سال سے ظلم و ستم سہہ رہے ہیں، اُن پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہوگی۔ وہ بھی ایسے عالم میں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور صہیونی وزیراعظم نتن یاہو نے چند دن پہلے صہیونی لابی کی بھرپور حمایت سے سنچری ڈیل نامی مںصوبے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطین کی وہ تین نسلیں جو مہاجر کیمپوں میں زندگی گزار رہی ہیں یا وہ فلسطینی قیدی جو اپنی سرزمین کے دفاع کے جرم میں صہیونی جیلوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں، اُن پر صہیونی وفد کے دورہ سعودی عرب کی خبریں سن کر کیا بیتی ہوگی۔ آلِ سعود نے آلِ یہود کا کردار ادا کرنے میں ماضی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، لیکن اسرائیل اور یہودی تنظیم سے کھلے عام تعلقات مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلنے کے برابر ہے۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: "فرنگ کی جاں پنجہ یہود میں ہے۔"ً
خبر کا کوڈ : 845279
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش