1
0
Friday 21 Feb 2020 13:24

کیا امریکہ یورپ تعلقات تناو کا شکار ہیں؟

کیا امریکہ یورپ تعلقات تناو کا شکار ہیں؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ اور یورپ کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ سرد جنگ اور پھر سرد جنگ میں روس کی شکست کے بعد امریکہ نے نیٹو کے ذریعے پورے یورپ کا دفاع کیا ہے۔ بالخصوص روس سے بچانے کے لیے میزائل ڈیفنس سسٹم انسٹال کیا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں یورپ بھی ہر معاملے پر بلامشروط امریکہ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، ڈالر بطور کرنسی اور تمام معاملات میں امریکی سپورٹ نے امریکی معیشت اور دنیا میں امریکی کردار کو بہت بڑھا دیا۔ غور کیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے مغرب نے خود کو اندرونی معاملات تک محدود کر لیا اور بیرونی و دفاعی معاملات میں امریکہ کے دست نگر ہوگئے۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ بھی تھی کہ دوسری جنگ عظیم نے یورپ کو تباہ کر دیا تھا، اتنا برباد ہونے کے بعد جن وسائل کی ضرورت تھی، وہ یورپ کے پاس نہ تھے، ان کا بڑا حصہ امریکہ سے آیا اور دوسرا یورپ کے پاس تجارت و سکیورٹی کے لیے امریکہ کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں تھا، ان کے خیال میں ان کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ اس لیے یورپ نے اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو کمپرومائز کیا اور ہر معاملے میں امریکی ہاں میں ہاں ملانے والی مشینیں بن گئے، برطانیہ نے اس معاملے میں دیگر تمام ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس منعقد ہوتی ہے، جس میں دنیا بھر سے عالمی رہنما شرکت کرتے ہیں، یہ کانفرنس دنیا میں سکیورٹی کا رخ واضح کرتی ہے۔ اس میں خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر فرینک والٹر نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگا کر دوستوں کے مفادات کی قیمت پر اپنا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ پہلے" کا نعرہ لگا کر بین الاقوامی سطح پر ایک دوڑ شروع کی ہے، جس میں ہر ایک یہ نعرہ لگائے کہ وہ سب سے پہلے ہے۔ کانفرنس میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ امریکہ نے بین الاقوامی برادری کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بعد میں امریکی سیکرٹری خارجہ اس کا جواب دیتے رہے ہیں کہ ہم اور مغرب جیت رہے ہیں، ہم ملکر جیت رہے ہیں۔ فرانس کے صدر میکرون نے امریکی سیکرٹری دفاع پمپیو کی وضاحت کو رد کر دیا اور کہا کہ پندرہ سال پہلے ہم سوچ رہے تھے کہ ہماری اقدار بین الاقوامی ہیں اور ہم دنیا پر حکومت کرنے والے ہیں، ٹیکنالوجی، ملٹری اور بہت سی وجوہات کی بنیاد پر تھا، مگر اب اور بہت سی اقدار آگئی ہیں، جو ہمارا مقابلہ کر رہی ہیں۔ یہ بات  مدنظر رہے کہ فرانس روس سے اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ان میں تیزی سے بہتری بھی آرہی ہے۔

یورپ اور امریکہ میں کیا بڑے پالیسی اختلافات چل رہے ہیں، ان کا تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں:
1۔ امریکہ کا یورپ امریکہ اور ایران ڈیل سے نکلنا، یورپ یہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور ایران کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ڈیل کے ذریعے مسئلہ کا پرامن حل نکالا جائے۔
2۔ امریکہ نے چائینہ کے فائیو جی نیٹ ورک پر جو پابندی لگائی ہے، یورپ کے بہت سے ممالک اس کو تسلیم نہیں کر رہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چائنہ کے یورپ سے تعلقات محدود رہیں، ٹرمپ نے ہر محاذ پر چائنہ کے ساتھ ایک محاذ آرائی کی صورتحال  بنا رکھی ہے۔ امریکہ بطور ریاست چائنہ کو اپنا مدمقابل دیکھ رہا ہے، جیسے جیسے چائنہ ترقی کر رہا ہے، ویسے ویسے امریکی حساسیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے امریکہ روس کی ہر جگہ مخالفت کیا کرتا تھا بلکہ ابھی تک کر رہا ہے، جیسے ترکی نے دفاعی نظام روس سے خریدا تو امریکہ نے بڑی دھمکیاں لگائیں اور ہر ممکنہ کوشش کی کہ کسی بھی صورت میں ترکی روسی دفاعی نظام نہ خریدے، مگر ترکی نے خرید لیا۔ اسی طرح انڈیا اور روس کے ایک دفاعی معاہدے پر بھی امریکہ نے شدید تنقید کی، مگر انڈیا نے روس سے دفاعی معاہدہ کرکے مطلوبہ ہتھیار خریدے۔ فائیو جی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اسے ٹیکنالوجی سے زیادہ دفاعی نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے جنگ کی جائے گی، اس کے ذریعے کسی بھی لمحے کچھ بھی کیا جا سکے گا۔

3۔ یورپ اور امریکہ میں تجارتی مسابقت موجود ہے، یورپ کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے نیٹو کے ذریعے سکیورٹی تو امریکہ سے درکار ہے، مگر ساتھ ساتھ وہ چائنہ میں موجود تجارتی فوائد سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ امریکی خواہش یہ ہے کہ  یورپ ایک حد میں رہے۔ اسی طرح بعض یورپی ممالک جیسا کہ سویڈن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے، ایک سویڈش پبلشر کو ایوارڈ دیا گیا، جو چائنہ میں پیدا ہوا تھا، اس پر چائنہ کے سفارتخانے نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی، مگر امریکہ نے اس کی کوئی مدد نہیں کی، یہ پورے یورپ کے لیے الارمنگ پوزیشن ہے۔
4۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یورپ پر تنقید کی ہے کہ وہ نیٹو پر اتنے پیسے خرچ نہیں کر رہے، جتنے انہیں کرنے چاہیں اور اخراجات کا بڑا حصہ امریکہ ادا کر رہا ہے، اس لیے یورپ کو اپنا حصہ بڑھانا چاہیئے۔ اس سے بھی اختلاف پیدا ہوا ہے۔ یہی دلیل دے کر امریکہ نے سعودیہ سے اربوں ڈالر سمیٹے ہیں کہ ہم آپ کا دفاع کر رہے ہیں، اس سب کے باوجود آرامکو پر حملہ ہوگیا اور امریکہ نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا۔

5۔ جرمنی اور روس کے درمیان ایک بہت بڑی گیس پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے، امریکہ اس کی شدید مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ امریکہ کسی بھی صورت میں یہ نہیں چاہتا کہ یورپ کا اہم ملک گیس کے لیے روس پر انحصار کرے۔
6۔ یورپ یہ محسوس کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں یکطرفہ امریکی پالیسی سے تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدات کو نقصان پہنچا ہے۔
7۔ یورپ خود کو رکا ہوا محسوس کرتا ہے کہ وہ اتنا مضبوط نہیں ہو رہا، جتنا وہ کولڈ وار کے اختتام پر مضبوط تھا۔ روس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے ہیں، اسی لیے روس نے یورپ بارڈر پر میزائل ڈیفنس سسٹم کو لگایا ہے۔
یہ سات بڑے چیلنجز یا دراڑیں جو امریکہ یورپ تعلقات میں نظر آرہی ہیں۔ چین بڑی تیزی سے یورپ کی بڑی کمپنیاں خرید رہا ہے اور اپنے تعلقات مضبوط بنا رہا ہے، روس بھی بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ایسے میں یہ اختلافات یورپ کی جانب سے نئی سمت اختیار کرنے کی سمت جاتے نظر آتے ہیں۔ امریکی صدر کی خود غرضانہ  پالیسیوں نے امریکہ کے دوستوں کو ناراض جبکہ دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 845917
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Ali
Pakistan
بہت زبردست تجزیہ کیا ہے
منتخب
ہماری پیشکش