0
Tuesday 25 Feb 2020 10:55

ٹرمپ کے انڈیا اترتے ہی دلی کے مسلمانوں پر حملہ

ٹرمپ کے انڈیا اترتے ہی دلی کے مسلمانوں پر حملہ
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا کے دو روزہ دورے پر ہیں، ان کا مقصد مودی کی قیادت میں قوم پرستی کی طرف بڑھتے انڈیا میں اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے اور یہ بھی کہ انڈیا کو چین کے مقابل تیار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے تین ارب ڈالر  مالیت کے جدید ترین ہیلی کاپٹرز انڈیا کو دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے سیاچین تک رسائی آسان ہوگی اور انڈیا کے چین بارڈر پر طاقت کے توازن کو انڈیا کی طرف کرنے میں پیش رفت ہوگی۔ امریکی صدر جیسے ہی احمد آباد کے بین الاقوامی ائرپورٹ پر پہنچے، انڈین وزیراعظم نے خود ان کا استقبال کیا اور انہیں انڈیا کے سب سے بڑے سٹیڈیم میں لے کر گئے، جہاں ایک لاکھ لوگ ان کے منتظر تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ائرپورٹ سے لے کر سٹیڈیم تک میں ہزاروں فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ امریکی صدر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انڈیا کے وزیراعظم نے خود ان کے امریکہ میں استقبال کا قرض چکایا، جب مودی امریکہ گیا تھا۔ ایک بات بہت اہم ہے کہ امریکی صدر کو پورے انڈیا کی ثقافت دلی میں بھی دکھائی جا سکتی تھی اور  وہاں پر بھی ایک لاکھ لوگ جمع کیے جا سکتے تھے، مگر گجرات میں استقبال کرا کر  مودی نے گجرات کا قصائی ہونے کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ویسے تو فلسطینیوں کو ڈیل آف سینچری کے نام سے دھوکہ دے کر بیچنے والے امریکی صدر اور گجرات و کشمیر کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے مودوی دونوں کو تاریخ سیاہ الفاظ میں ہی یاد رکھے گی۔

انڈیا میں شہریت دینے کے متنازع قانون کے خلاف مسلمانوں سمیت تمام انصاف پسند قوتیں احتجاج کر رہی ہیں۔ دلی کا شاہین باغ پوری دنیا میں احتجاج و مزاحمت کے ایک مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور لوگ اسے دلی کا تحریر سکوائر قرار دے رہے ہیں۔ انتہاء پسند ہندو کسی بھی طور پر اس احتجاج کے حق میں نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس احتجاج کو ختم کیا جانا چاہیئے۔ حکومت نے انتہائی جابرانہ انداز اختیار کیا ہے اور کسی بھی طور پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ انتہاء پسند ہندو اس احتجاج پر تین بار اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہوچکے ہیں۔ تین دن پہلے کپل مشرا جو بے جے پی کا رہنماء ہے، اس نے اس احتجاج کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس احتجاج کے مقام کی طرف جانے کی کوشش کی، پولیس کی مداخلت پر اس نے شاہین باغ میں بیٹھے مسلمانوں کو تین دنوں کا وقت دیا تھا۔ انہوں نے احتجاج  کے قریب مارنے  کی دھمکیاں دیں تھیں اور کہا تھا اگر راستے خالی نہیں ہوئے تو ہم پولیس کی بھی نہیں سنیں گے اور خود جگہ خالی کرائیں گے۔

کل جب امریکی صدر کا جہاز احمد آباد میں اتر رہا تھا، اس وقت تصاویر منظر عام پر آنے لگیں، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ اس علاقے میں موجود ہندو املاک پر سرخ جھنڈے جو آر ایس ایس کا نشان ہیں، لگا دیئے گئے ہیں، تاکہ مسلمانوں کی املاک کی پہچان ہوسکے اور انہیں جلایا جا سکے۔ انتہاء پسند ہندووں نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کیا، ان کی دکانوں کو جلایا اور سینکڑوں مسلمانوں کو پتھراو کرکے زخمی کر دیا۔ ایک مسلمان نوجوان کو گولی ماری، جس سے وہ بیچارہ شہید ہوگیا۔ حالات اتنے خراب ہوئے کہ دس جگہوں پر دفعہ 144 لگانی پڑی، لال شرٹ میں ایک شخص بار بار مسلمان احتجاج کرنے والوں کی طرف پولیس کی موجودگی میں فائر کر رہا تھا۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک انتہاء پسند ہندو حملہ آور بڑے فخر سے کہہ رہا ہے کہ ہم نے ابھی ابھی ایک ملاں کو آزادی دی ہے۔ صرف یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگ جب احتجاج کر رہے تھے تو ان پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا، جس سے آٹھ لوگ زخمی ہوگئے، حالات انتے خراب ہوئے کہ انٹرنٹ کو بند کر دیا گیا۔

انڈیا میں یہ حالات ایک دن میں نہیں بنے بلکہ آر ایس ایس نے مدتوں اس کی تیاری کی ہے۔ اس کے لیے نظریاتی لٹریچر اور تربیت فراہم کی ہے۔ صرف ایک مثال دیکھیے، ہنومان سنگھ راجپوراہٹ کے پیج سے ایک تقریر شیئر کی گئی ہے، جو ہزاروں کے مجمع میں کی جا رہی ہے۔ اس میں یتی نرسنگا نند سرسوتی علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ میں اسلام کو صرف ہندوستان سے ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ میں اسے پوری دنیا سے ختم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسیحیوں، سیکولروں اور کمیونسٹوں کے خلاف خوب برس رہا ہے اور ہر اس ہندو کو بھی بے حس و بے غیرت قرار دیا، جو مسلمانوں کا ساتھ دیتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں اور عربوں کو لٹیرے قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام ضرور تباہ ہوگا اور عیسائیت بھی ختم ہوگی، لوگ نعرے لگاتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو ختم کریں گے۔ وہ وعدہ لیتا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کو بڑھنے سے روکنا ہے اور ہندووں کی آبادی کو بڑھانا ہے۔

یتی نرسنگا نند سرسوتی نے وہاں موجود ہندووں کو یہ کہہ کر ڈرانے کی کوشش کی کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو دس سال بعد ہندوستان کا وزیراعظم ایک مسلمان ہوگا۔ اس ویڈیو کو دو کروڑ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔ انڈیا کے معروف مسلمان سیاستدان بدر کاظمی لکھتے ہیں: "کاش کہ مسلمانوں نے اسلام کا کردار و عمل اور اخلاق پیش کیا ہوتا، تو شاید اس دھرتی پر زہر کے شعلے اس طرح نہ بھڑکتے، شاید کہ ہم اب بھی سنبھل جائیں اور اس طوفان کی آہٹ کو محسوس کرسکیں۔" امریکی صدر نے کہا: "امریکہ انڈیا سے پیار کرتا ہے اور امریکہ ہر وقت انڈیا کا قابل اعتبار دوست ہوگا۔" لگ یوں رہا ہے کہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے ٹرمپ اور کشمیر و گجرات کے مسلمانوں کے حقوق کو غصب کرنے والے ٹرمپ ایک پیج پر ہیں، جس میں مسلمانوں کے لیے خیر نہیں۔
خبر کا کوڈ : 846612
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش