0
Tuesday 25 Feb 2020 11:55

ٹرامپ مودی بھائی بھائی، کس کس کی اب شامت آئی

ٹرامپ مودی بھائی بھائی، کس کس کی اب شامت آئی
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ ہندوستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ ٹرامپ اور انکی اہلیہ کا وزیراعظم مودی نے گجرات کے شہر احمدآباد میں جو تاریخی استقبال کیا اور دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹرامپ اور مودی کی تقریر پر علاقائی اور عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ دونوں ممالک اس دورے سے اپنے اپنے مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر بھارت امریکہ کے انتہائی قریب آچکا ہے۔ دوسری طرف نریندر مودی پاکستان اور خطے کے ممالک کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب خطے میں ہندوستان کو سپر پاور بننے سے کوئی روک نہیں سکتا، کیونکہ امریکہ جیسی دنیا کی سپر طاقت اس کے پشت پر موجود ہے۔

اس دورے کے متعدد پیغامات ہیں، جو چند دنوں کے اندر عوام الناس کے سامنے آجائیں گے۔ لیکن جو چیزیں سامنے موجود ہیں، وہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ہتھیاروں کی خریداری کا تین ارب ڈالر کا معاہدہ ہے۔ ان ہتھیاروں میں آپاچی ہیلی کاپٹر اور ایم ایچ 60 کی خریداری کا خصوصی طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے سربراہوں کے درمیان گذشتہ آٹھ ماہ میں پانچویں ملاقات ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان حالیہ فوجی معاہدے پر روس کا ردعمل یقینی ہے، کیونکہ اس معاہدے سے روس ہندوستان جیسے خریدار سے محروم ہوگیا ہے۔ امریکہ کے حالیہ قانون میں موجود ہے کہ اگر کوئی ملک روس سے اسلحہ خریدے گا تو امریکہ اس کو ہتھیار فروخت نہیں کرسکتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان نے روس جو ایس 400 میزائلی دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، اس کا مستقبل کیا ہوگا۔ ٹرامپ نے ایسے عالم میں ہندوستان کا دورہ کیا ہے کہ مودی حکومت نے نہ صرف 5 اگست 2019ء سے 35A اور آرٹیکل 370 نامی قانون ختم کرکے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سمیت ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی ایک نئی مصیبت سے دوچار کر رکھا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان دونوں جمہوریت کے دعوے دار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرامپ کے دورہ کے اختتامی بیان میں کشمیر اور شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں کوئی موقف سامنے آتا ہے یا نہیں۔
خبر کا کوڈ : 846751
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش