0
Wednesday 26 Feb 2020 10:23

کورونا وائرس ایک امتحان

کورونا وائرس ایک امتحان
اداریہ
حکومت ایران کی جانب سے اپنے چند شہریوں کے کرونا میں مبتلا ہونے اور کچھ افراد کے فوت ہو جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد بیرونی ذرائع ابلاغ، ایران مخالف ماحول بنانے اور ترکی، عراق، پاکستان اور افغانستان جیسے ملکوں کی جانب سے ایران سے ملنے والی سرحدوں کی بندش سے متعلق خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے، ہمسایہ ملکوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو ایران سے ربط دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر سعودی عرب کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 244 متاثر ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس سے 18 افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی سعودی عرب میں چین کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

ادھر بحرین، متحدہ عرب امارات، عمان اور کویت میں بھی کورونا وائرس کے متعدد کیس سامنے آچکے ہیں۔ جس کے بعد طبی الرٹ جاری کر دیا گيا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے عرب ممالک کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی صحیح تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ عرب ممالک کی طرح یورپی اور کئی دوسرے ممالک میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں اور جنوبی کوریا میں 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اٹلی بھی متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ کورونا وائرس اس وقت امریکہ، برطانیہ، اسٹریلیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، جاپان، کینڈا، فرانس، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اٹلی سمیت چین کے تیس شہروں اور دنیا کے تیس سے زائد ممالک میں سرایت کر چکا ہے۔

کرونا وائرس  اس وقت سرحدوں میں محدود نہیں رہا اور اعلیٰ سطح کے معیاری صحت کا نظام رکھنے والے یورپی ممالک میں بھی کرونا وائرس کے درجنوں کیس سامنے آچکے ہیں، حتیٰ صرف اٹلی جیسے ملک میں کورونا کے دو سو سے زائد کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں سے چند افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ، صیہونی حکومت اور سعودی عرب سے وابستہ ذرائع ابلاغ کورونا وائرس کے معاملے کو سیاسی رنگ دیکر خطے کی قوموں کو ایک دوسرے سے بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ بنا بر ایں علاقے کی رائے عامہ کو اس قسم کی مذموم کوششوں اور مکروہ سازشوں سے پوری طرح ہوشیار رہنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 846924
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش