1
Wednesday 26 Feb 2020 21:59

اسرائیل کے گستاخانہ اقدامات میں شدت کی وجوہات

اسرائیل کے گستاخانہ اقدامات میں شدت کی وجوہات
تحریر: محمد ہاشمی

اتوار 23 فروری کے روز غاصب صہیونی رژیم کے فوجیوں نے حد درجہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر مظاہرہ کرنے والے جوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک جوان شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے انسانیت کی تمام حدود پار کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعے شہید ہونے والے فلسطینی جوان کی لاش کی بے حرمتی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی یہ بربریت اور وحشیانہ پن میڈیا کی آنکھوں کے سامنے انجام پایا ہے۔ ہفتہ 22 فروری کے دن بھی غاصب صہیونی فوجیوں نے قدس شریف میں ایک فلسطینی نوجوان کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور زمین پر گرنے کے بعد بھی اس پر فائرنگ کرتے رہے۔ جنونی اسرائیلی فوجیوں نے اس نہتے فلسطینی جوان کو 20 سے زائد گولیوں کا نشانہ بنایا جو ان کے نفسیاتی مریض ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا دعوی ہے کہ یہ فلسطینی جوان چاقو کے ذریعے ان پر حملہ ور ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اسرائیلی فوجیوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی وہ ایک بیگناہ فلسطینی شہری کو براہ راست فائرنگ کر کے شہید کرتے ہیں تو اس پر ایسا ہی الزام عائد کر دیتے ہیں لیکن آج تک اسے ثابت نہیں کر سکے۔

دو دن میں یہ دو انتہائی وحشت ناک واقعات رونما ہونا اور فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے طاقت کا بیجا استعمال کئے جانا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے گستاخانہ اقدامات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے معترض فلسطینیوں کے خلاف مزید شدت پسندانہ اقدامات کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گستاخانہ اور شدت پسندانہ اقدامات میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟ ہم ہر طرح کی سیاسی نگاہ سے ہٹ کر بھی دیکھیں تو کیسے ممکن ہے ایک انسان کسی شخص کے بے جان بدن کو اس قدر شدید بے حرمتی کا نشانہ بنائے؟ یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے ہر عقل مند اور سلیم النفس شخص برا سمجھتا ہے اور اس کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اس درندگی اور وحشیانہ پن کی حقیقی وجہ وہ سوچ ہے جو غاصب صہیونی رژیم کے مرکزی کرداروں کے ذہن پر حکمفرما ہے۔ صہیونزم ایک ایسا مکتب فکر ہے جس کی بنیاد خالص نسل پرستی اور خود کو دوسروں سے اعلی تصور کرنے پر استوار ہے۔ اس مکتب فکر کی رو سے یہودی قوم دنیا کی سب سے اعلی اور کمال یافتہ قوم تصور کی جاتی ہے اور دیگر اقوام ایسے حیوانات کی مانند ہیں جنہیں اس قوم کی خدمت کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔

ایک ایسا فوجی ہی کسی بے جان شخص کی لاش کو بلڈوزر سے اٹھا سکتا ہے جو اسے اصل میں انسان ہی نہ سمجھتا ہو اور اسے اپنے اور اپنی قوم کے حق میں کی جانے والی قربانی تصور کرتا ہو۔ درحقیقت اس شدت پسندی کی جڑیں اس نسل پرستی میں ہیں جس کا منشا صہیونزم ہے۔ یہ مذموم صہیونی سوچ ان اسرائیلی فوجیوں کے دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہے جو انسانیت اور عقلانیت سے کوسوں دور ہیں۔ ایک اور اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات میں اضافے کیلئے موجودہ وقت کیوں چنا گیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت صہیونی حکام یکطرفہ طور پر سینچری ڈیل نامی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسا منصوبہ جس کا واحد مقصد فلسطین کی پوری سرزمین یہودیوں کے قبضے میں دینا ہے۔ اس منصوبے کی بنیادیں بھی صہیونزم کی نسل پرستانہ سوچ پر استوار ہیں۔ صہیونی حکام اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کیلئے طاقت کے کھلے استعمال کو واحد چارہ کار سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً پوری دنیا کی جانب سے یہ منصوبہ مسترد کیا جا چکا ہے۔

اس کی دوسری وجہ اسرائیل کا شدید خوفزدہ ہونا ہے۔ اسرائیلی حکام بخوبی آگاہ ہیں کہ سینچری ڈیل نامی منصوبہ کس حد تک ناعادلانہ اور ظالمانہ ہے۔ لہذا وہ فلسطینیوں کے ممکنہ ردعمل سے شدید خوفزدہ ہیں اور اسی خوف کے باعث فلسطینیوں کے خلاف غیر معمولی شدت پسندانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ جہاں بھی اسرائیلیوں کو کم ترین خطرے کا احساس ہوتا ہے وہ پوری شدت سے اقدام کرتے ہیں۔ اس رویے سے ان کی ابتر نفسیاتی حالت کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔ غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف گستاخی میں اضافے کا تیسرا اور سب سے اہم سبب امریکہ کی جانب سے اس ناجائز رژیم کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت ہے۔ اسرائیل امریکہ میں انتہائی اثرورسوخ کی حامل یہودی لابی کا حامل ہے جس کا علم ہر امریکی سیاست دان کو ہے لہذا کوئی بھی امریکی سیاست دان اس لابی کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ یہودی لابی امریکی اور عالمی میڈیا پر بھی شدید اثرانداز ہوتی ہے اور رائے عامہ کو جس سمت میں چاہے لے جانے پر قادر ہے۔ لہذا امریکی حکام اپنے اقتدار کی بقا کیلئے بھی اس لابی کے مطالبات اور مفادات کا خیال رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ امریکی حکام کی اس مجبوری نے غاصب صہیونی رژیم کو بہت زیادہ گستاخ اور نڈر بنا دیا ہے اور وہ کھل کر مجرمانہ اقدامات انجام دینے کے عادی ہو گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 847003
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش