1
Thursday 27 Feb 2020 23:23

اسرائیلی لابی برنی سینڈرز کی مخالف کیوں؟

اسرائیلی لابی برنی سینڈرز کی مخالف کیوں؟
تحریر: فاطمہ محمدی

امریکہ میں صدارتی انتخابات کا معرکہ گرم ہو چکا ہے اور مختلف صدارتی امیدواروں اور ان کے حامیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ برنی سینڈرز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نامزد صدارتی امیدوار ہیں جو ریپبلکن پارٹی سے وابستہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے شدید مخالف ہیں۔ دوسری طرف امریکہ میں انتہائی طاقتور اسرائیلی لابی سرگرم عمل ہے جس کا اصلی مقصد اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ لابی ایک ادارے کی صورت میں موجود ہے جسے American Israel Public Affairs Committee یا AIPAC کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں آئی پیک کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکہ کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز کی مخالفت پر مبنی پالیسی کا جائزہ لیا ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنی کچھ تقاریر میں فلسطین کی حمایت اور ایران سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کا اظہار کیا ہے جس کے بعد آئی پیک نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انہیں ہر قیمت پر وائٹ ہاوس میں جانے سے روکا جائے گا۔ آئی پیک کے بارے میں ایک تصور غالب ہے کہ وہ دائیں بازو کی امریکی جماعت یعنی ریپبلکن پارٹی کی حامی ہے لیکن یہ تصور درست نہیں۔

آئی پیک امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی سے مختلف افراد کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے۔ درحقیقت آئی پیک میں شامل اراکین کی کوشش ہوتی ہے کہ امریکی کانگریس میں جانے والے ہر شخص سے دوستانہ تعلقات استوار کریں۔ لیکن برنی سینڈرز کے موقف نے انہیں شدید پریشانی کا شکار کر دیا ہے اور آئی پیک کے اراکین اپنی ماضی کی روایت سے ہٹ کر ان کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے ہیں۔ برنی سینڈرز نے کچھ ماہ پہلے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا تھا: "بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل سے ملحق کرنے کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں دو ریاستی راہ حل کو عملی جامہ پہنانا ناممکن ہو جائے گا۔ ایسے تمام افراد کو اس منصوبے کی مخالفت کرنی چاہئے جو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان صلح کی حمایت کرتے ہیں۔" برنی سینڈرز جو خود یہودی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ "سینچری ڈیل" نامی منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ منصوبہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ کو ہمیشگی کر دے گا۔

برنی سینڈرز نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا تھا: "کوئی بھی قابل قبول امن منصوبہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ایسے منصوبے کا نتیجہ اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے اور اس میں اسرائیل کے ساتھ ایک خودمختار ریاست پر مبنی فلسطینی عوام کے حق کو بھی قبول کرنا چاہئے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے میں یہ چیزیں شامل نہیں ہیں لہذا وہ ناقابل قبول ہے۔" برنی سینڈرز نے شمالی امریکہ میں ایک مسلمان تنظیم اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ یا ISNA کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: "ایک چیز جس کی اشد ضرورت ہے وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائدار امن کیلئے ثالثی انجام دینا ہے۔ میں اسرائیل کے وجود، خودمختاری اور سلامتی کا حامی ہوں لیکن ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھتا ہوں کہ امریکہ کو اس طولانی تنازعہ کے حل کیلئے متوازن پالیسی اپنانی چاہئے۔ ایسی پالیسی جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام بھی ایک خودمختار ریاست کے مالک بن سکیں۔ میری نظر میں یہ نتیجہ اسرائیلی مفادات، فلسطینی عوام، امریکہ اور پورے خطے کے حق میں مفید ثابت ہو گا۔" دوسری طرف برنی سینڈرز امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی ہتھکنڈوں کے استعمال کے بھی شدید مخالف ہیں۔

برنی سینڈرز نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا صدر بننے کی صورت میں وہ ایران سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ایران سے مذاکرات بہت مناسب راستہ ہے۔ برنی سینڈرز نے حال ہی میں بعض اراکین کانگریس کے تعاون سے ایک بل تیار کیا ہے جس کے مطابق امریکی حکومت ایران کے خلاف کسی قسم کا فوجی بجٹ مخصوص کرنے میں کانگریس کی اجازت کی پابند ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی جانب دھکیل رہے ہیں لہذا ایران کے خلاف فوجی کاروائی کیلئے امریکی حکومت کی مالی معاونت سے گریز کرنا چاہئے۔ یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں موجودہ امریکی حکومت نے امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ اسرائیل کی حمایت اور مدد کی ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی، گولان ہائٹس کو اسرائیل کا حصہ قرار دینا اور سینچری ڈیل نامی ظالمانہ منصوبہ اس کی چند مثالیں ہیں۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف اور برنی سینڈرز کے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کیوں برنی سینڈرز کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہے۔
خبر کا کوڈ : 847241
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش