0
Tuesday 3 Mar 2020 11:51

ترکی عبرت حاصل کرے

ترکی عبرت حاصل کرے
اداریہ
شام کے شمالی علاقوں بالخصوص ادلب میں شامی فورسز کی فیصلہ کن جنگ اپنے عروج پر ہے۔ شامی فوج گذشتہ ایک ماہ میں جس تسلسل سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرکے وہاں کی عوام کو سکھ اور چین کا سانس لینے کی امید دلا رہی ہے، وہ یقیناً دہشت گردوں کے شام سے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ ادلب شہر گذشتہ سات برسوں سے النصرہ فرنٹ اور ترکی کے حمایت یافتہ بیرونی دہشت گردوں کا مرکز رہا ہے اور ترکی کو اس بات کا یقین تھا کہ شامی فورسز کو یہ علاقہ خالی کرانے میں کافی وقت صرف ہوگا۔ لیکن شامی فورسز اور مقاومت و استقامت کے بلاک نے جو کام حاج قاسم سلیمانی شہید کی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے شروع کیا تھا۔ حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد اس کو نئے جوش اور انتقامی جذبے سے انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق ادلب کے اردگرد علاقوں اور سراقب جیسے اسٹریٹیجک علاقہ پر شامی فورسز کا دوبارہ قبضہ ترکی کے لیے ناقابل قبول امر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ترکی ادلب اور اسکے نواحی علاقوں کو اپنی اسٹرٹیجک ڈیپتھ تصور کرتا ہے اور وہ النصرہ فرنٹ کے ساتھ اسی طرح شانہ بشانہ لڑنے کا عزم و ارادہ رکھتا ہے، جیسا ماضی میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے بعض اداروں کا موقف تھا۔ افغانستان میں پاکستان نے سو ارب ڈالر سے زیادہ اقتصادی نقصان کیا اور صرف پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستر ہزار قربانیاں بھی پیش کی ہیں۔

لیکن آج ان قربانیوں کا جو نتیجہ سامنے آرہا ہے، اس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے اندر نیز عالمی سطح پر یہ آوازیں پوری قوت کے ساتھ آرہی ہیں کہ پاکستان یا پاکستان کے کسی ادارے کو افغانستان کے امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہیئے۔ رجب طیب اردوغان کو بھی اس صورت حال سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ انقرہ نے شام کی افراتفری اور ناامنی سے جو فائدہ اٹھا لیا ہے، اُسی پر اکتفا کرے اور اس آگ میں ترکی کو مزید نہ دھکیلے تو بہتر ہے، کیونکہ ترکی جن پتوں پہ تکیہ کر رہا ہے، وہ بہت جلد ہوا دینے لگیں گے۔
خبر کا کوڈ : 848207
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش