0
Friday 6 Mar 2020 03:06

ملت افغانستان کی توہین اور ہمارا جشن

ملت افغانستان کی توہین اور ہمارا جشن
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ہمارے سامنے افغانیوں کو دو بڑی طاقتوں نے روند ڈالا، چالیس سال کے عرصے میں لاکھوں ٹن بارود نہتے لوگوں پر چھڑکا گیا، ہزاروں انسان لقمہ اجل بنے، ان گنت افراد مارے گئے، بستیوں کی بستیاں قبرستان بن گئیں، بے شمار متمول خاندان مہاجر اور خانہ بدوش ہوگئے، بلامبالغہ شہر کے شہر کھنڈرات بن گئے اور کون گن سکتا ہے کہ روس اور امریکہ نے افغانستان میں کتنی عورتوں کو بیوہ اور کتنے بچوں کو یتیم کیا!؟ہمارے سامنے یہ سب ہوتا رہا اور ہم پاکستانی آنکھیں موند کر جشن مناتے رہے،  ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ حالات کا جائزہ لینے کے بجائے اپنی معصوم خواہشات اور نیک تمناوں کی روشنی میں حال اور مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں۔ اپنی نیک تمناوں کے باعث ہم میں سے ہر شخص کو اپنے ہمسائے کے گھر میں اسلام نافذ کرنے کا بہت ہی زیادہ شوق ہے۔ چنانچہ جب روس افغانستان میں آیا تو ہم افغانستان میں جہاد کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کیلئے گھس گئے، ہم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کیسا جہاد اور کیسا اسلام ہے، جس کی مدد امریکہ کر رہا ہے۔

بہر حال ہم گھسے رہے اور جب افغانستان سے روس نکل گیا تو پھر بھی ہم نے  افغانستان کی تاریخ، روایات اور تہذیب و ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے، تجزیہ و تحلیل کے ساتھ اپنے افغان بھائیوں سے کوئی ہمدردی نہیں کی بلکہ ہم نے وہی کیا جو ہم سے امریکہ نے چاہا۔ یعنی ہم نے افغانستان کے جمہور کو لتاڑتے ہوئے اپنا سارا وزن طالبان کے پلڑے میں ڈالا، ہم نے مستقبل کے افق پر یہ نہیں دیکھا کہ امریکی ڈالروں سے حاصل شدہ اقتدار امریکہ کے اشارے سے ہی خاک میں مل جائے گا۔ ہم نے طالبان کے چند سالہ غیر مستحکم اقتدار کیلئے سارے افغانستان کو اپنا دشمن بنایا،  بالآخر نائن الیون کا تماشا ہوا،  جس کے بعد ہمارے حکمرانوں نے کسی تھنک ٹینک یا پالیسی ساز ادارے سے مشورے کے بغیر ہی طالبان کی حکومت کے خاتمے میں فرنٹ رول ادا کیا۔

ایک طرف ہماری حکومت طالبان کا صفایا کرنے میں مصروف تھی اور دوسری طرف ہمارے عوام امریکہ کے خلاف جہاد شروع ہونے کا جشن منا رہے تھے۔ لوگوں کی نیک تمنائیں طالبان کے ساتھ تھیں، جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص مجاہد اسلام بنا پھر رہا تھا۔ امریکہ کی شکست کے نقارے بجائے جا رہے تھے، افغانستان پر بارود برستا رہا اور ہم نے کسی بھی سیاسی یا مذہبی سطح پر طالبان کو کوئی معقول مشورہ دینے کے بجائے جشن شہادت اور جشن فتح کے ترانے لگائے رکھے، جیسے ہی طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ہمارے ہاں بھی ترانوں کی کیسٹیں بیچنے والے اسٹال گم ہوگئے۔

اس کے بعد آج تک افغانستان اور پاکستان دونوں میں طالبان اور امریکہ کا کیا کردار رہا!؟ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن اب اگلے مرحلے میں امریکہ اور طالبان کیا کرنے جا رہے ہیں!؟ اس پر ہم نے سوچا ہی نہیں۔ سوچنے اور سمجھنے والوں کیلئے مقام فکر ہے کہ اگر امریکہ نے افغانستان سے نکلنا ہی تھا تو پھر آئندہ کے معاملات طے کرنے کیلئے امریکہ کو افغانستان کی آئینی اور جمہوری حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیئے تھے، نہ کہ طالبان کے ساتھ! قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا نے افغانستان کی موجودہ آئینی و جمہوری حکومت کے بجائے طالبان کے ساتھ کیوں مذاکرات کئے!؟ کیا امریکہ نہیں جانتا کہ افغانستان میں طالبان کے پاس کوئی قانونی اور جمہوری حکومت نہیں اور جو حکومت قانون اور جمہور کی رو سے قائم ہے، اسے بھی طالبان نہیں مانتے۔؟

افغانستان کی آئینی و جمہوری حکومت کو نہ ماننا یعنی  ملت افغانستان کی توہین کرنا ہے۔ امریکا نے ان مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر  در اصل صرف   ملت افغانستان کی توہین کی ہے۔  دوسری اقوام خصوصا بہادر اور شجاع ملتوں  کی توہین کرنا یہ  استعمار اور استکبار کا طریقہ وارادت ہے۔امریکا نے عملی طور پر  ملت افغانستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ تمہارا آئین، تمہارےانتخابات، تمہارے عوام اور تمہاری حکومت ہماری جوتی کی نوک پر ہے۔   اگر ہم توجہ فرمائیں تو ملت پاکستان سے لے کر  ملت عراق و شام تک  کو  آئے روز طالبان و داعش وغیرہ کی طرف سے یہی پیغام دیا جاتا ہے کہ ہم تمہارے آئین اور جمہور کو نہیں مانتے۔

ملت افغانستان کی اس توہین پر افغانی قوم ناراض اور افغان حکومت نالاں ہے، جبکہ افغانستان کے دانشور اسے افغانیوں کو داخلی خانہ جنگی میں دھکیلنے کی ایک نئی سازش قرار دے رہے ہیں، لیکن ہمارے الپاکستانی، البرل اور السرکاری حضرات دن رات فتح کے جشن منا رہے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ کی طرح یہ بات پھر سمجھ نہیں آرہی کہ ہم ایک مرتبہ پھر افغانستان کی آئینی حکومت کے خلاف سہولتکاری کرکے افغانیوں میں اپنے خلاف نفرت کو مزید بھڑکا رہے ہیں، ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیئے کہ ہم افغانستان میں جارح طاقتوں کو خوش کرکے عارضی طور پر کچھ ڈالر تو حاصل کر لیں گے، لیکن مستقل طور پر افغانیوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنے رہیں گے۔ بہرحال عقلِ سلیم یہ کہتی ہے کہ افغان جنگ کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں کی قیمتی جانیں گنوانے کے بعد ہمیں اب تو  افغانستان کے معاملات سے اپنی ٹانگ بالکل ہی نکال لینی چاہیئے۔

سارے پاکستانی دو باتیں اچھی طرح جان لیں، ایک تو یہ کہ امریکا نے کسی معاہدے پر عمل نہیں کرنا، اس نے ہمیں استعمال کرکے افغانیوں کی جو توہین کرنی تھی، وہ کر دی ہے اور دوسری بات یہ کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سہولتکاری کے عوض حکمرانوں کو جو ڈالر ملیں گے، وہ بھی مخصوص تجوریوں میں ہی جائیں گے۔ اس مسئلے کی حساسیت اور نزاکت کو روشن کرنے کیلئے میں اپنے ہم وطنوں سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ فرض کریں کہ اگر یہی کام افغانستان ہمارے ساتھ کرتا کہ وہ پاکستان کی آئینی اور جمہوری حکومت کو دیوار کے ساتھ لگا کر پاکستان کے دشمن طالبان اور امریکہ کے درمیان سہولتکاری کرکے معاہدہ کرواتا اور پھر طالبان کی فتح کا جشن مناتا تو اس پر ہمارا ردعمل کیا ہوتا!؟
خبر کا کوڈ : 848659
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش