0
Friday 6 Mar 2020 21:55

امن کا سیاسی کھیل اور کرونا وائرس

امن کا سیاسی کھیل اور کرونا وائرس
تحریر: ثقلین واحدی
Msaqlain1412@gmail.com

علم و آگہی انسانی فطرت کو عقل و شعور سے آراستہ کرتے ہوئے اسے غلط اور صحیح میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے روشناس کراتے ہیں، علم نور کی علامت اور جہالت تاریکی کا رستہ ہے۔ جنگ جہالت اور علم امن کا پیامبر ہے، انسان چونکہ فطری طور پہ سلیم الطبع خلق کیا گیا ہے، اس لئے ہر انسان فطری طور پر امن و آشتی کا متلاشی ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے بعض انسان نفسانی خواہشات یا بعض دوسرے مسائل کی بناء پہ جنگ و جدال کے رستے پہ چل نکلتے ہیں اور پھر دنیا ایسے انسانوں کی بربریت کے نمونے یمن، شام، عراق، فلسطین، کشمیر و افغانستان جیسے علاقوں میں دیکھتی ہے۔ ظلم و بربریت کے ایسے خونی کھیل کے بعد امن کا سیاسی کھیل کھیلا جاتا ہے، ایسا ہی امن کا ایک سیاسی کھیل امریکہ و طالبان کے درمیان دوحہ میں کھیلا گیا۔ سوویت یونین نے جب دسمبر 1979ء میں افغانستان پہ حملہ کیا تھا، اس وقت گو کہ امریکہ براہ راست سامنے نہیں آیا تھا، لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے اپنی مداخلت ضرور جاری رکھی، یوں روس رسوا ہو کر افغانستان سے نکلا، لیکن افغانستان میں اقتدار کی ایسی جنگ چھڑی، جو آج بھی جاری ہے اور امریکہ جو پہلے سے ہی خطے میں داخل ہونے کے درپے تھا، اپنے ارادوں میں کامیاب ہوا۔

افغان مجاہدین جو طالبان کے نام سے سامنے آئے، انہوں نے افغانستان میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا، یوں نئے مظالم کا آغاز ہوا اور خون کی ندیاں پھر سے بہنے لگیں۔ بن لادن کی گرفتاری کے بہانے امریکہ بہادر نے ستمبر 2001ء میں افغانستان پہ چڑھائی کی، تقریباً 18 سال کے خونی کھیل کے بعد جب امریکہ کو باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دور شروع ہوا، امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ ڈرامہ تقریباً 18 ماہ جاری رہا، بالآخر 29 فروری 2020ء کو اس کھیل نما معاہدے پر طالبان کے نمائندے ملا برادر اور امریکی زلمے خلیل زاد نے دستخط کر دیئے۔ اس معاہدے کی بقاء کی غیر یقینی صورتحال یہیں سے شروع ہوئی، طالبان چاہ رہے تھے کہ معاہدے  پہ دستخط ٹرمپ یا ٹرمپیو (پومپیو) کریں، لیکن یہ شرط نہیں مانی گئی۔ امریکی صدر اور سیکرٹری خارجہ کے علاوہ مارک ایسپر بھی دستخط کرسکتے تھے، لیکن نہیں دستخط خلیل زاد سے ہی کرائے گئے۔ تقریب میں امریکی وزیر جنگ اور سیکرٹری خارجہ نے اپنے اپنے خطابات میں دھمکی آمیز لہجہ اپنائے رکھا۔ مخدوم شاہ قریشی صاحب بھی تقریب میں موجود تھے، شاید اپنے گمشدہ احسان اللہ احسان کی کھوج میں۔۔۔۔۔۔۔

خیر طالبان امریکہ نام نہاد امن معاہدے کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ تھی کہ طالبان افغانستان میں ایسی کسی قوت کو سر اٹھانے نہیں دینگے، جو امریکی مفادات کے مخالف ہو۔ دوسری شرط یہ تھی کہ امریکہ اور اس کی اتحادی نیٹو فورسز 14 ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی، یہاں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ 14 ماہ ہی کیوں؟؟؟ اگلے ہی دن کہا گیا کہ معاہدے کی کچھ شرائط مخفی رکھی گئی ہیں، یہ بھی ایک الگ سوال ہے کہ وہ کونسی شرائط ہیں، جن کو مخفی رکھا گیا اور کیوں رکھا گیا، یہ کون بتا سکتا ہے، شاید مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب بشرطیکہ ان سے بھی یہ شرائط مخفی نہ رکھی گئی ہوں۔ بہرحال اب ان 14 ماہ کو 14 سالوں میں تبدیل کرنے کے لئے مختلف حربے شروع ہوچکے ہیں۔ اشرف غنی معاہدے کی اگلی صبح ہی کہتے ہیں کہ طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے، غنی صاحب اور اتنا  جراتمندانہ بیان!!! غنی صاحب اتنے پاور فل ہوتے تو کل جب وہ حلف اٹھا رہے تھے، عبداللہ عبداللہ الگ سے حلف نہ اٹھاتا۔

چند دن پہلے شہید عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب میں 30 سے زائد بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلا دیا گیا، یہ ہیں وہ طریقے جو مہینوں کو سالوں میں بدلنے کے لئے آزمائے جا رہے ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ امن کا دشمن امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی پہ ٹریلین ڈالرز اڑا چکا ہے، اسے خطے میں کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا، نہ ہی ایبٹ آباد میں انڈر گراونڈ کملپلیکس کو اڑانے کے بعد اور نہ شام میں ترکی کی سرحد کے قریب بغدادی بھری سرنگ اڑانے کے بعد۔ ہاں مگر 3 جنوری 2020ء کو امریکہ نے بغداد میں وہ غلطی کی، جس سے اسے مشرق وسطیٰ اپنے خونی پنجوں سے پھسلتا نظر آیا۔ جی ہاں قاسم سلیمانی ارباََ  اربا ہونے کے بعد امریکہ کے لئے پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔ عراقیوں نے تاریخ رقم کرتے ہوئے امریکہ کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ اگر باتوں سے نہیں مانو گے تو بات لاتوں تک پہنچے گی آیت۔۔۔ مائیک کی ہلاکت نے امریکہ کے شیطانی ارادوں میں مزید رخنہ ڈالا۔

سو اب اپنے کمزور ہوتے وجود کو مشرق وسطیٰ میں باقی رکھنے، چینی معیشت کو کمزور کرنے، ایران کو دنیا سے الگ تھلگ رکھنے اور اسکی برآمدات کو نشانہ بنانے کے لئے طبی دہشت گردی شروع کی گئی۔ جی ہاں کرونا سب سے پہلے چین و ایران میں حملہ آور ہوا، جہاں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ روس بھی اس بات کا اعلان کرچکا ہے کہ امریکی اپنی لیبارٹریوں میں خطرناک وائرس تیار کر رہے ہیں، آج نہیں تو کل ہو بہو عین الاسد کے اعترافات کی مانند کوئی نہ کوئی امریکی اس بات کا اعتراف کرے گا کہ کرونا ہماری ایجاد تھی۔ کرونا وائرس سے اپنے آپ کو، اپنی فیملی کو اپنے ارد گرد والوں کو احتیاطی تدابیر اپنا کر بچائیں، مگر مشرق وسطیٰ کی گھمبیر صورتحال اور اس میں امریکہ کے گھناونا کردار سے توجہ مت ہٹائیں، کیونکہ اسی سے آپکا مستقبل وابستہ ہے۔ آخر میں طالبان اور ان کے ہمنواوں کو یاد دلاتا چلوں کہ امریکہ نے ایک تجارتی معاہدہ چین سے بھی کیا تھا اور ایک جوہری معاہدہ ایران سے بھی۔۔۔
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
خبر کا کوڈ : 851599
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش