?>?> کرونا وائرس اور لاک ڈائون، گلگت بلتستان کی تازہ ترین صورتحال - اسلام ٹائمز
0
Tuesday 24 Mar 2020 12:04

کرونا وائرس اور لاک ڈائون، گلگت بلتستان کی تازہ ترین صورتحال

کرونا وائرس اور لاک ڈائون، گلگت بلتستان کی تازہ ترین صورتحال
رپورٹ: ایل اے انجم

تازہ ترین صورتحال

گلگت بلتستان میں اب تک کرونا وائرس کے 80 کیسز سامنے آگئے ہیں۔ سب سے زیادہ ضلع نگر متاثر ہو رہا ہے، جہاں کیسز کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے، ضلع سکردو میں 19 جبکہ گلگت اور شگر میں تیرہ تیرہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ صورتحال نگر میں خراب ہے، جہاں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ نگر گلگت بلتستان کا ایک چھوٹا سا ضلع ہے، آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نگر میں سب سے زیادہ کرونا کے متاثرین پائے جاتے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ضلع نگر میں لوکل ٹرانسمیشن کیسز (مقامی سطح پر منتقلی) سامنے آر رہے ہیں۔ پیر کے روز جی بی میں کل 9 کیسز سامنے آئے تھے، ان میں سے تمام کا تعلق ضلع نگر سے تھا اور یہ تمام کیسز لوکل ٹرانسمیشن ہیں۔ یعنی نئے متاثرین نے کبھی بھی غیر ملکی دورہ نہیں کیا۔ ان کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں، ان میں یہ وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا۔

سکردو کے بارے میں بھی اسی قسم کی تشویش ظاہر کی جا رہی تھی، تاہم ڈائریکٹر صحت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ابھی تک سکردو میں لوکل ٹرانسمیشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ تاہم سینکڑوں سیمپلز کے رزلٹ ابھی موصول ہونے ہیں۔ دوسری جانب گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 88 نئے کیس سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 884 ہوگئی ہے، کرونا وائرس سے متاثرہ 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، جبکہ 6 مریض مکمل صحتیاب ہوچکے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے کرونا وائرس کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں، جس کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 884 تک پہنچ گئی۔ سندھ میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 394، پنجاب میں تعداد 246 ہوگئی، بلوچستان میں 110 اور گلگت بلتستان میں تعداد 80 ہوگئی، کے پی کے میں 38، اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا۔

لاک ڈائون
پیر کے روز سندھ اور گلگت بلتستان میں بیک وقت لاک ڈائون پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ سندھ میں پندرہ دن تک کیلئے لاک ڈائون ہے جبکہ گلگت بلتستان میں غیر معینہ مدت تک کیلئے لاک ڈائون ہوگا۔ دوسری جانب پیر کی شپ پاک فوج تعینات ہوگئی ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں کے برعکس جی بی میں کرونا کی صورتحال سنگین تر ہے، اس لیے فوج کو فوری طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند کر دی ہے، جبکہ راولپنڈی سے جی بی کیلئے بھی سروس پر پابندی عائد کی گئی۔ غیر مقامی افراد کے جی بی داخلے پر بھی مکمل پابندی ہے۔ گذشتہ روز چلاس چیک پوائنٹ سے درجنوں غیر مقامی افراد کو پولیس نے واپس بھیج دیا۔ گلگت اور سکردو میں مکمل لاک ڈائون ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ میڈیکل سٹورز اور چند دکانیں ہی کھلی ہیں۔ ڈبل سواری پر بھی پابندی ہے۔

سول، عسکری حکام اور علماء کا اہم اجلاس
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مرض کے پھیلاو کے پیش نظر ایک اہم اجلاس ایف سی این اے گلگت میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن، کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان، صوبائی وزیر اطلاعات شمس میر، صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ، وزیر ایکسائز حیدر خان، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی، اپوزیشن لیڈر محمد شفیع خان، صدر پیپلز پارٹی جی بی امجد ایڈووکیٹ، پی ٹی آئی کے صدر سید جعفر شاہ، کرنل ریٹائرڈ عبید اللہ بیگ، ممبر صوبائی اسمبلی جاوید حسین، راجہ جہانزیب، نواز خان ناجی، چیف سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمد خرم آغا، سیکرٹری صحت راجہ رشید علی، سیکرٹری اطلاعات فدا حسین، سیکرٹری داخلہ محمد علی رندھاوا اور تینوں ڈویژنوں کے کمشنرز، اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سمیت گلگت بلتستان بھر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء سید علی رضوی، قاضی نثار احمد، مولانا محمد آصف عثمانی، مولانا حاجی سرور، شیخ نیئر عباس، شیخ حسن جعفری، شیخ مرزا علی، صدر اسماعیلی ریجنل کونسل محمد نعیم، صوفیہ نوربخشیہ کے رہنماوں اور دیگر سیاسی، سماجی و مذہبی قائدین اور سکالرز نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے اداروں اور سوسائٹی کی جانب سے مشترکہ اقدامات کرنے کی منظوری دی گئی۔

متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ وباء سے نمٹنے کے لیے صوبے کو مکمل طور پر لاک ڈاون رکھا جائے گا اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام نے اس بات پر بھی غور کیا کہ لاک ڈاون کی صورت میں عوام کو اشیائے خورد و نوش کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی، جس کے لیے دوران لاک ڈاون ادویات اور کھانے پینے کے سامان کی فراہمی کے لئے دکانیں کھلی رکھی جائیں گی۔ منظور شدہ ایس او پی کے تحت دکانوں کے باہر سینیٹائزر، صابن اور پانی رکھنا لازمی قرار دیا جائے گا۔ حکام اس دوران بازار میں ضروری اشیاء اور ادویات کی بلیک مارکیٹنگ پر مکمل طور پر نظر رکھیں گے، تاکہ ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو کہ گلی محلوں اور مساجد میں قرآن و سنت کی روشنی میں عوام کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور دیگر اہم احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی دیں گے، تاکہ عوام لاک ڈاون پر مکمل عمل درآمد کریں۔ حکام کی جانب سے اجلاس میں بتایا گیا کہ عوام بلاضرورت بغیر ایمرجنسی کے ہسپتالوں میں نہ جائیں۔

لاک ڈاون اور دیگر احتیاطی تدابیر پر بہتر طریقے سے عمل پیرا ہونے کے لیے اور عوام میں مزید شعور اجاگر کرنے کے لئے گلی محلہ سطح پر والنٹیئرز کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک کے دیگر علاقوں اور شہروں سے صوبے میں داخل ہونیوالے طلباء اور عوام کی سکریننگ کو لازمی قرار دیکر علاقے میں داخل کرکے 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ کورونا وائرس کے پھیلاو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ پیراملٹری فورسز کے ساتھ پاک افواج کو بھی آگاہی مہم میں شامل کیا جائے گا۔ پاک فوج کی جانب سے کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے مریضوں کے سیمپلز کی ترسیل کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز استعال کئے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے امدادی اشیاء، ادویات کی فراہمی کے لئے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز سے سامان گلگت اور سکردو پہنچایا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لئے گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ فوج سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔

شیخ حسن جعفری کا فورس کمانڈر کو خط
بلتسان کے نامور عالم دین علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان کو موجودہ حالات کے تناظر میں ایک خصوصی خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بلتستان سے حسب سابق کثیر تعداد میں زائرین مقامات مقدسہ کی زیارات کے لئے ایران گئے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ واپس پہنچے ہیں اور ابھی بہت سارے زائرین نے واپس آنا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق پورے بلتستان ریجن میں ایمرجینسی سے نمٹنے کے لئے ہسپتالوں میں کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہے، جبکہ زائرین کی کثیر تعداد اس ریجن سے ہی تعلق رکھتی ہے یہ اور بات ہے کہ لیباریڑی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کیسیز زیادہ منظر عام پہ نہیں آرہے ہیں، میں باقی انتظامات کے لئے حکومت پاکستان اور پاک آرمی کا انتہائی مشکور ہوں، لیکن ساتھ ساتھ حکومت پاکستان بالخصوص جناب والا کے سامنے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کرتا ہوں۔

پورے بلتستان ریجن میں ایک بھی وینٹیلیٹر مشین نہیں ہے، کم از کم 10 وینٹیلیٹر مشینیں فی الفور مہیا کی جائیں۔ پورے ریجن میں کوئی آئی سی یو نہیں ہے، جلد از جلد آئی سی یو کا قیام عمل میں لایا جائے، جہاں ایک وقت میں کم از کم 10 مریضوں کا علاج ہوسکے۔ پورے ریجن میں کوئی ایسی لیباریڑی بھی نہیں ہے، جہاں کورونا وائرس کا ٹیسٹ ہوسکے۔ ابھی تک سیمپلز اسلام آباد یا گلگت بھیجنا پڑ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ابھی تک 10 فیصد زائرین کی بھی سکرینینگ نہیں ہوئی ہے۔ ازراہ کرم جتنی جلدی ہوسکے سکردو میں فوری طور پر ایک لیباریڑی کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ فوری طور پر کرونا ٹیسٹ ممکن ہوسکے۔ فیس ماسک سینیٹائزرز، دستانے اور طبی عملے کے لئے کٹس وافر مقدار میں فراہم کی جائیں۔ بلتستان کے غریب عوام کے ساتھ آپکی ہمدردیاں مثالی ہیں، امید ہے آپ ان ضروریات کو پورا کرانے کے لئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائین گے، تاکہ اس موذی مرض سے یہ خطہ اور مملکت خداداد پاکستان پاک ہوسکے۔

سپیکر جی بی اسمبلی کا وزیراعظم کو مراسلہ
سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاو پر قابو کرنے کے لئے وفاقی حکومت فوری طور پر حکومت گلگت بلتستان کو مالی وسائل فراہم کرے۔ سپیکر نے وزیراعظم کے نام مراسلے میں توجہ دلائی ہے کہ عالمی بنک کی طرف سے دیگر تمام صوبوں کو فراخدلی کے ساتھ حصہ دیا گیا ہے، لیکن سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار گلگت بلتستان کو اس سے محروم رکھنا حیران کن ہے۔ حالانکہ جی بی صرف وفاقی امدادی بجٹ پر منحصر صوبہ ہے۔ یہاں تفتان میں زائرین کو مناسب سہولت فراہم کئے بغیر ایک ہی جگہ کئی دنوں تک ہجوم کی صورت میں روک کر رکھنے کے سبب بہت سے صحت مند زائرین بھی اس وبا سے متاثر ہو کر پریشانی کے عالم میں ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود قابل قدر انتظامات مقامی تمام  ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی مدد سے جنگی بنیادوں پر انتہائی نگہداشت کے ساتھ قائم کردہ جگہوں پر رکھ کر اب تک دیکھ بھال کر رہی ہے۔ اس حوالے سے فورس کمانڈر ناردرن ایریا نے جس قدر ذاتی دلچسپی سے سہولتیں فراہم کی ہیں، اس کے لئے گلگت بلتستان کے عوام سراپا سپاس گزار ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سہولت نہ ملنے کی صورت میں اس وبا پر قابو پانا کہیں خدا نخواستہ ناممکن نہ بن جائے۔ سپیکر نے امید ظاہر کی ہے کہ ان تشویشناک حالات میں وفاق گلگت بلتستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

سکردو میں کرونا وائرس کے دو مریض صحتیاب
 بلتستان میں کرونا وائرس کے دو مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے ہیں۔ دونوں مریض چودہ سالہ زین علی اور 30 سالہ مظاہر علی کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد آئسولیشن سنٹر میں زیر علاج تھے۔ ان کا دوبارہ ٹیسٹ کروایا گیا تو کرونا نتائج منفی آگئے ہیں۔ یاد رہے کہ چودہ سالہ زین علی بلتستان میں کرونا وائرس کا پہلا مریض تھا۔ چودہ سالہ زین علی کا تعلق کھرمنگ سے ہے، دونوں کو جلد ہی اپنے گھر بھیج دیا جائے گا۔ ڈائریکٹر ہیلتھ بلتستان ڈاکٹر محمد اقبال نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں اور وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 852260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش