0
Tuesday 24 Mar 2020 22:19

دین، سائنس اور ولی فقیہ کی حکومت

دین، سائنس اور ولی فقیہ کی حکومت
 تحریر: ابو زہراء (حوزہ علمیہ قم)

(دو روز قبل حمزہ ابراہیم نامی ایک لکھاری کی تحریر (آیت اللہ خامنه ­ای کی اجتہادی غلطی ایران کے لیے عذاب بن گئی۔ پاکستان کے لیے سبق کیا؟) کے عنوان کے تحت نظروں سے گزری۔ اگرچے ایک پڑھے لکھے اور آگاہ شخص کے لیے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کاتب کے دعوے کس حد تک حقائق سے مطابقت رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض نکات کی وضاحت ضروری سمجھی، تاکہ قاری مکمل آگاہی سے فیصلہ کرسکے۔)
1۔ یہ بات کہ (کورونا وائرس نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہے) ایک ایسا حکم (judgment) ہے، جسے کہنے والا نہ تو اس موضوع پر کوئی تجرباتی دلیل (observational evidence or experimental) ذکر کرتا ہے اور نہ ہی اس متشدد روش (dogmatic approach) پر کوئی استقرائی یا استنتاجی دلیل (argument inductive or deductive) پیش کرتا ہے۔ اس بنا پر یہ حکم (judgment) منطقی لحاظ سے بے قیمت ہے۔ ہاں اگر وہ یہ کہتا کہ یہ نظریہ ارتقاء (evolution) کا نتیجہ ہوسکتا ہے یا اس موضوع پر کسی ماہر (professional) کی بات نقل کرتا، جو تجربہ گاہی آزمائشات (clinical trials) یا جینیاتی مطالعات (genetical studies) کے نتیجے میں یہ بات کہتا تو بات معقول ہوتی، جبکہ اس لکھاری کو synthetic virology میں ہونے والے علمی پیشرفت یا اس کے حیاتیاتی ہتھیار (biological weapon) کے طور پر استعمال ہونے کا شاید علم نہیں ہے، اسی لیے وہ اس یقین سے یہ حکم بیان کر رہا ہے۔What makes you sure that it is evolution not synthetic virology?

2۔ یہ کہنا کہ (علم اور مذہب میں یہ فرق ہے کہ علم کی تفسیر نہیں ہوا کرتی۔۔۔) علم و مذہب دونوں سے متعلق معلومات کی کمی کی علامت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ industrialized اور materialist societies میں علوم طبیعی (experimental sciences) کو ہی علم (science) کہا جاتا ہے جبکہ فلسفہ اور دین کو خارج از علم قرار دیا جاتا ہے۔ یقینی طور پر یہ ایک بہت بڑا تاریخی اور فکری انحراف تھا، جو نشئت ثانیہ (Renaissance) کے بعد شروع ہوا۔ یقیناً موجودہ تعلیمی نظام (academic system) کے پروردہ دانشوروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ان تاریخی ظرافتوں سے آشنائی رکھتے ہوں، ایک خواب و خیال ہے۔ خیر اس موضوع پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔ موصوف اس بات سے غافل ہیں کہ موجودہ دور میں عام لوگوں کو سائنس (science) کہہ کر دھوکے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس لئے کہ جب سائنس (science) کی تعریف، اہمیت اور افادیت کی بات کی جاتی ہے تو علوم طبیعی (experimental sciences) کو پیش کیا جاتا ہے اور جب دین اور فلسفے کے مقابلے میں ان علوم کو لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو theoretical sciences سے مدد لی جاتی ہے، جو کہ observational phenomena سے متعلق تخیل (imagination) اور intuition کے گھوڑے پر سوار ہو کر عالم طبیعت اور جہاں کے متعلق نظریہ بافی کرتا ہے۔

ان دونوں قسموں کی ایک مثال پیش نظر ہو: تجرباتی علوم (experimental sciences) مثال کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ living organisms کے kinds اور species کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان organisms کے درمیان physiological اور genetic شباہت پائی جاتی ہے۔ اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئے organisms اور species کا تنوع (diversity) اس gradual alternation کا نتیجہ ہے، جو organisms میں بیرونی اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد theoretical scientists ان concrete evidences کی بنیاد پر نظریہ پردازی کرتے ہیں اور کئی دفعہ concrete scientific truths اور ان مفروضوں یا نظریات میں فرق مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ سائنسدان (scientists) جنہوں نے تجرباتی علوم (experimental sciences) کے میدان میں واقعی لوہا منوایا ہے اور عظیم ایجادات اور اختراعات سے انسانوں کو فائدہ پہنچایا ہے، دیندار یا خدا پرست تھے، جبکہ theoretical scientists یا pop-science یا  science fiction کے ناخدا اپنے حیلوں اور چرب زبانی سے ان scientific facts سے ایسے نتائج (conclusions) لیتے ہیں، جو کہ خود scientific facts نہیں ہوتے، لیکن چونکہ لوگ کو مغالطے (fallacy) میں مبتلا کیا گیا ہے اور ان نظریہ پردازوں کو سائنسدان کے نام سے شہرت حاصل ہوتی ہے، پس وہ ان کی ہر بات کو سائنس سمجھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نظریہ ارتقاء (evolution) کے کچھ scientific evidence کو بنیاد بنا کر بعض theorists نے تخلیق creation کا انکار کیا۔ پھر یہ نتیجہ لیا کہ life اور living phenomena خود بہ خود وجود میں آئے اور living system خودکار عمل کرتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ یہ نتیجہ ایک scientific fact نہیں ہے۔ اس لئے کہ یا تو یہ سسٹم کسی انتہائی طاقتور اور دانا خالق کی تخلیق ہے یا پھر یہ خود بہ خود وجود میں آیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی ایک صورت (case) کو ترجیح دینا experimental Sciences کے دائرہ کار سے خارج ہے، اس لئے کہ یہ ایک حسی sensory مشاہدے سے مربوط observational حقیقت نہیں ہے بلکہ ایک عقلی حقیقت ہے، جو فلسفے سے مربوط ہے، جبکہ دین اس نظام ہدایت کا نام ہے، جو خدا نے انسان کے اندر عقل و فطرت کی صورت میں اور بیرونی دنیا میں الہیٰ نمائندوں اور مقدس کتابوں کی شکل میں بھیجا ہے اور اسے محض کتاب یا نبی تک محدود سمجھنا دین سے متعلق بے خبری کی علامت ہے۔ اس لئے کہ دینِ حق انسان کی عقل و فطرت سے خطاب کرتا ہے، اس کے اندر چھپی استعداد و قابلیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ دین کی مختلف تفسيريں ہوتی ہیں، جو کہ سب درست ہوتی ہیں تو پہلی بات یہ ہے کہ یہ بات محض دینی نصوص texts سے متعلق ہے، جو کہ دین کا ایک حصہ ہے، نہ کہ کل دین، جبکہ دین کی بنیادی تعلیمات عقلی اصول پر مبنی عقائد، اخلاقی اقدار اور اچھے اعمال کی ترغیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔

پھر یہ کہ دینی نصوص (texts) یا تو ان عقلی اصولوں پر مبنی اعتقادات، اخلاق یا اعمال حسنہ کی تائید کے لیے آتے ہیں یا پھر چند موارد میں ایسی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جنہیں عقل اپنے تئیں کشف نہیں کرسکتی اور یہ موارد بیشتر عبادات سے مربوط ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ دینی نصوص (texts) کی مختلف درجہ بندیاں ہوتی ہیں، صحت (authenticity) اور معنی کے لحاظ سے چند تعلیمات متفق علیہ (unanimous)  ہوتی ہیں، چند تعلیمات مشہور اور کچھ اختلافی ہوتی ہیں۔ دین کے متعلق بطور مطلق (unconditionally) یہ کہنا کہ وہ چند اختلافی تفسيروں کا مجموعہ ہے، واضح طور پر لاعلمی کی علامت ہے اور پھر ان سب تفسیروں کو صحیح قرار دینا منطق و عقلانیت سے نا آشنایی کا نتیجہ ہے۔ دین فطرت الہیٰ ہے کہ جس پر خدا نے انسان کو خلق کیا ہے۔ یہ اس کے جوہر (essence) میں ہے۔ حتیٰ ضدی ترین کافر بھی اسکی ندا اپنے اندر سنتا ہے اور اپنے آپ سے حالت جنگ میں ہوتا ہے۔ ایک جدید ترین تحقیق جو کئی ملحدین (Atheists) پر انجام پائی، میں یہ دیکھا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کے سامنے جب خدا کا نام لیا جاتا تو اس کے دماغ میں خوف سے مربوط جو نقطہ ہے، وہ فعال (activate) ہو جاتا۔There is no real atheist in the world۔
 
پس دین و علم (experimental science) میں فرق یہ ہے کہ دین عقل و فطرت کی روشنی میں آسمانی ہدایت سے روشنی لے کر زندگی گزارنے کا نام ہے جبکہ تجرباتی علوم تجربہ کی روشنی میں عالم مادہ کو سمجھنے کا نام ہے۔ البتہ تحریف شدہ اور عقل و فطرت سے دور دینی مکاتب فکر میں یہ جھگڑا سر چڑھ کر بولتا ہے اور انہیں دین اور تجرباتی علوم میں فرق کی من گھڑت داستانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں بعید نہیں سمجھتا کہ مذکورہ تحریر کا مصنف بھی کسی ایسے دین کا پیروکار ہو۔ دین حق میں انسان کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ چاہے ابو حنیفہ و غزالی کا کلام سنے یا ارسطو و افلاطون کا، اسے عقل سلیم کی روشنی میں پرکھے۔ اسے عقل و منطق سے متعلق ارسطو کو پڑھتے ہوئے نہ کوئی نفسیاتی مشکل ستاتی ہے، نہ فزکس سے متعلق آینسٹاین کا مطالعہ پریشان کرتا ہے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ سائنس میں صرف سچ مقدس ہے تو شاید آپ یا تو سائنسی نظریات (scientific theories) میں ہونے والے اختلافات سے بے خبر ہیں یا پھر اس بات سے آشنا نہیں ہیں کہ دین و تجرباتی علوم میں کچھ اٹل اصول ہوتے ہیں، جو کبھی نہیں بدلتے اور کچھ مشہورات اور افکار ہوتے ہیں، جن میں تحقیق و scholarship انجام پاتا ہے۔ کتنی دفعہ تاریخ میں ایسے ہوا ہے کہ معلومات کی کمی کے باعث کوئی ڈاکٹر یا سائنس دان غلط تشخیص کے نتیجے میں غلط فیصلے کرتا ہے، مگر ہم اس غلطی کے سبب علم اور سائنس کو غلط نہیں قرار دیتے۔ اسی طرح کسی بھی حالت میں عمل کے تعیین سے متعلق بھی کسی دینی ماہر کی غلطی ایک طبیعی بات ہے اور جو دینی تعلیمات کی درجہ بندی سے آشنائی رکھتا ہو، وہ اس بارے میں کسی مغالطے کا شکار نہیں ہوتا۔

3۔ ظاہر پرستی یا متن پرستی پر مبنی مکاتب فکر جو دین کو اٹل و صحیح کتابوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور عقل کو معطل کرتے ہیں اور دینی نصوص (texts) میں موجود معنی و مصدر (origin) کے لحاظ سے درجہ بندی اور عقلی اصولوں کی روشنی میں ان نصوص (texts) کی تفسیر کو غلط سمجھتے ہیں، یا پھر سائنس کے نام پر theoretical scientists کے مفروضوں اور نظریات کو اٹل علمی حقائق سمجھ کر دین پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں اس بات سے غافل ہیں کہ عقل و اعتدال و منطق کی روشنی میں ہی صحیح دین اور صحیح تجرباتی علوم تک پہنچا جا سکتا ہے۔ وگرنہ بے عقل و اعتدال دین اور سائنس سے داعش اور ویران گر مادی تہذیب وجود میں آتی ہے۔

4۔ مکتب اہل بیت علیہم السلام وہ معتدل و عاقلانہ مکتب ہے کہ جس کی صدیوں پر محیط جہاد و صبر و علم کی تحریک کی کوکھ سے مشرقی رجعیت و مغربی مادیت و استعماریت کے خلاف ایک انقلاب وجود میں آیا ہے، جس نے جہاں دین کو افیون کہنے والوں کا مفروضہ باطل ثابت کیا بلکہ استعمار کی سازشوں کو ناکام بنایا۔ آج تاریک دل و متعصب و خشک مقدس دیندار اور بدکار و بے ضمیر دشمنانِ دین اس چراغ کے خلاف فکری اور عملی میدانوں میں برسر پیکار ہیں۔ ان سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہا کہ ایک فقیہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک علم و سیاست میں مسلسل ترقی کے زینے طے کر رہی ہے۔ البتہ یہ تحریک و اس کے پیروکار انسانی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔ لیکن وہ جس انداز میں صبر و ہمت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، یہ ایک معجزہ سے کم نہیں ہے۔

مغربی استعمار کے پجاری جو ان کی خیرات کھا کر پلے بڑھے ہیں اور اس کے بنائے تعلیمی نظام سے نکلے ہیں اور وہ خوارج و ظواہر پرست دیندار جو استعمار کے رحم سے نکلنے والی تاریک و بے ضمیر و بے بصیرت تحریک کے پروردہ ہیں، یقیناً آج اس عاقلانہ حسینی نہضت کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے۔ لیکن شرق و غرب کی استعمار ستیز قوتوں اور مستضعفین کی مدد سے یہ تحریک آگے بڑھتی رہے گی۔ البتہ ایران زمان و مکان کے لحاظ سے اس تحریک علم و دیانت کا ایک اہم مرکز و اس نہضت کے وقوع کا ایک بنیادی رکن ضرور ہے، مگر اس تحریک کی ماہیت ایرانی یا فارسی نہیں بلکہ اس کی ماہیت محمدی اور حسینی ہے۔

5۔ ایران میں قائم فقیہ کی حکومت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس نظام میں فقیہ کی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ فقیہ صدیوں پر محیط علمی، عملی اور ثقافتی میراث کا امین ہوتا ہے۔ کسی مغرب زدہ یا فکری پسماندہ معاشرے کا نیم فہم دانشور اس کلمے کی گہرائی و گیرائی کو درک نہیں کرسکتا، اس لئے کہ وہ اپنے معاشرے کی زبوں حالی اور اپنی فکری کسمپرسی کے پرتو میں ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ مکتب اہل بیت علیہم السلام میں فقیہ الہیٰ و عقلی اقدار کا امین ہوتا ہے۔ ایران کے اسلامی نظام میں فقیہ رائج نظام حکومت کے طرز پر ایک حاکم نہیں ہوتا، جہاں حکومت کا مطلب administrative management ہوتا ہے اور حاکم مدیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ وہ اس نظام میں ایک نظریاتی رہبر یا امام ہوتا ہے، جو کہ حکومت کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ محکموں اور اداروں کا نظم و نسق تو ایک روایتی حاکم (صدر) ہی انجام دیتا ہے، جسے لوگ اس کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے معین کرتے ہیں۔ مگر فقیہ کو اس نظام میں سیاسی بصیرت، ایمان، دیانت داری، شجاعت، تقویٰ اور معنویت کے بنا پر چنا جاتا ہے۔

وہ لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے کہ زندگی صرف دنیا تک محدود نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کی زندگی صرف مادی ترقی تک محدود ہے، بلکہ دنیا میں اقدار کیساتھ جینا اور ابدی زندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے جینا ہی عقلمندی کا تقاضا ہے۔ اسی الہیٰ و بابصیرت قیادت کی وجہ سے آج سب دشمن اکٹھے ہو کر فقیہ کے خلاف بولتے ہیں۔ حتیٰ کہ ملک میں موجود انتظامی اور اجتماعی مشکلات کا ملبہ فقیہ پر ڈالتے ہیں، جبکہ وہ ملک کا انتظام نہیں چلاتا بلکہ محض رہنمائی کرتا ہے۔ جنگ و امن اور صحت و اقتصاد سے متعلق جزئی پالیسیوں اور تکنیکی مسائل کو مرتب نہیں کرتا بلکہ یہ کام ماہرین انجام دیتے ہیں۔ وہ عمومی انتظامات و پالیسیوں کی جہت گیری کرتا ہے اور کلی طور پر نظام کو عقل و دین کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس نظام میں مسائل نہیں ہوتے یا ایران کا موجودہ نظام مثالی ترین نظام ہے، بلکہ یہ ایک الہیٰ اور عقلی نظام تشکیل دینے کی کوشش ہے، جس کی کامیابی کا انحصار اجتماعی و قومی شعور اور جدوجہد پر ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے کی قیادت چاہے کتنے ہی عظیم نبی یا فلسفی کے ہاتھوں میں ہو، اگر قوم اسکا ساتھ نہ دے تو وہ ہرگز سعادت و خوش حالی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ یہی بات ایران کے موجودہ نظام سے متعلق بھی ہے۔ مگر تمام تر کمزوریوں اور مشکلات کے باوجود اس نظام نے عالمی سطح پر استعمار کو جس طرح شکست سے دوچار کیا اور مظلوموں کی مدد کی، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ علمی و صنعتی ترقی ہو یا صفائی اور صحت عامہ ہو یا پھر اقتصاد ہر میدان میں عالمی ظالم طاقتوں کی سازشوں کے باوجود ترقی کی۔

6۔ جہاں تک موجودہ بحران کا تعلق ہے تو ہماری گذشتہ گفتگو سے واضح ہے کہ کیوں چند مصلح و دانشور نما لکھاری اپنی عادت کے مطابق سیدھا فقیہ کو اپنے نشانے پر قرار دے رہے ہیں۔ ان کے کلام میں چھپی ہوئی زہریلی مسکراہٹ اور منافقانہ تنقید کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ چند لوگ پیروان اہل بیت علیہم السلام کے عروج و عظمت اور اپنی ذلت و زبوں حالی سے دل برداشہ ہو کر زہر اگلتے ہیں۔ جن سینوں میں نسل در نسل شیعہ دشمنی کا بیچ بویا گیا اور کئی نسلوں کو تکفیری سوچ پر پروان چڑھایا گیا، اس متعفن فضا میں منصف ترین لکھاری بھی لکھنے پر آتا ہے تو چھپے ہوئے غیظ و غضب کے اثر سے وہ گل کھلاتا ہے کہ الحفیظ و الاماں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایران کے متعلقہ ادارے اس بحران سے نمٹنے (handle) میں غلطیاں کرتے ہیں یا پھر ایران کی قیادت اس ناگہانی مشکل کا سامنا کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کسی غلطی کا شکار بھی ہو جاتی ہے تو اس مسئلے کا نظریہ ارتقاء یا اجتھادی غلطی سے کیا تعلق ہے۔ ابتدائی مرحلے میں افواہوں سے منع کرنا، پھر خود تحقیق کے بعد درست اعداد و شمار فراہم کرنا اور پھر آخر میں ایک بہترین اور جہادی انداز میں اس بحران کا مقابلہ کرنا ایک منظم قوم اور رشید قیادت کا نتیجہ ہے، جبکہ انتظامی غلطیاں ایک طبیعی امر ہے، جس کی تمام ذمہ داری قیادت کے سر ڈالنا بدنیتی، غیر جانبداری اور فتنہ گری کی علامت ہے۔

7۔ سید علی حسینی خامنه‌ ای معاصر تاریخ کا ایک عجوبہ روزگار ہیں۔ حکمت، بصیرت، روشن فکری، الہیٰ سیاست، تقویٰ، علمیت، فقاہت اور معنویت کا ایسا پہاڑ جس کی عظمت کے دوست و دشمن معترف ہیں۔ دنیا کے ایک پسماندہ ملک کے ہاتھوں کئی بار سیاسی، اجتماعی، ثقافتی، جنگی اور انٹیلیجنس کے میدان میں شکست کھانے والے، اپنے ہی ملک کے خطوں کو آئینی حقوق سے محروم کرکے دنیا کے سامنے رسوا ہونے والوں اور اپنی دھرتی اور عزت پر استعمار کے تجاوز پر خاموش رہنے والوں کو ایران کی الہیٰ قیادت کے خلاف بات کرنے سے پہلے اپنا منہ دس بار دھونے کی ضرورت ہے، جس کی عاقلانہ و عالمانہ قیادت میں دنیا کی سپر پاورز اور ان کی مشینری، joint intelligence agencies اور آرمیز اس ملک کے گھٹنے ٹیکنے میں ناکام رہی، جس کے ایک نعرہ مستانہ سے شرق و غرب کے جھوٹے خداؤں کی نیندیں حرام ہوتی ہیں۔ آزادی کے بے باک جیالے اور حریت کے متوالے جس کے انفاس طاہرہ سے طاقت لے کر استکبار و تکفير کے مشترکہ لشکروں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں اور اقبال کے اس خواب کی تعبیر ہوتی ہے کہ:
وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے
طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے


کئی بار دشمن عالمی طاقتیں اس بات کا اظہار کرچکی ہیں کہ ایران کا رہبر اپنی ایک تقریر کے ذریعے ہمارے سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اس کی دانش و بصیرت کے دوست و دشمن معترف ہیں اور میدان سیاست کا وہ ایک ایسا شہسوار ہے کہ جس کی ریش مبارک عالم سیاست کے شیطانوں کو شکست دینے اور ان کے خوابوں کو خاک میں ملانے میں سفید ہوئی ہے۔ کیا دنیا کا کوئی احمق بھی اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ ایسی شخصیت جس کی قیادت میں ایران نے عالمی سپر پاورز سے مقابلہ کیا ہو اور بڑے بڑے بحرانوں میں سرخرو ہوا ہو، ایک ایسا مولوی ہو جیسا کہ یہ لکھاری پیش کر رہا ہے۔ درحقیقت یہ لکھاری اپنے معاشرے اور مکتب کی قحط الرجالی کی عکاسی کر رہا ہے، جہاں لفظ مولوی ایک گالی ہے۔ یقیناً ہمیں گلہ بھی نہیں ہونا چاہیئے، چونکہ جو لوگ ایسے نمونے دیکھتے رہے ہوں، ان سے ایک الہیٰ بصیرت کے حامل فقیہ کو سمجھنے کی توقع رکھنا بے فائدہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 852393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش