0
Thursday 26 Mar 2020 17:14

بیماریاں اور آفات و بلیات، دینی اعتقادات کو زیر سؤال لانے کی کوشش(2)

بیماریاں اور آفات و بلیات، دینی اعتقادات کو زیر سؤال لانے کی کوشش(2)
تحریر: سید حسن رضا نقوی

تیسرا سؤال: آفات و بلیات اور قدرتی حوادث کے پیچھے کیا علل و اسباب کارفرما ہیں۔؟
جواب:
آفات و بلیات کا ایک کلی فلسفہ انسان کے لیے تزاحم کی کیفیت ایجاد کرنا ہے، تاکہ اس کا امتحان لیا جا سکے اور وہ اس امتحان میں سرخرو ہوکر خدا کے قرب کی منزل تک پہنچ سکے۔ خداوند متعال قرآن میں فرماتا ہے: وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَیۡءࣲ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصࣲ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَ ٰ⁠لِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَ ٰ⁠تِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِینَ ٱلَّذِینَ إِذَاۤ أَصَـٰبَتۡهُم مُّصِیبَةࣱ قَالُوۤا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّاۤ إِلَیۡهِ رَ ٰ⁠جِعُونَ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ عَلَیۡهِمۡ صَلَوَ ٰ⁠تࣱ مِّن رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةࣱۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُهۡتَدُونَ (اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، اموال جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ جب انہیں مصیبت کا سامنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم خدا کے ہیں اور ہم نے خدا کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں)(3)

اس کے علاوہ کچھ اور حکمتیں بھی ان آفات و حوادث میں پوشیدہ ہوسکتی ہیں، مثلاً خدا اور موت کی یاد میں اضافہ ہونا، خدا کی قدرت اور انسان کی کمزوری پر یقین میں اضافہ، دنیا کی بے ثباتی اور دار آخرت کی طرف توجہ، انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کے مواقع فراہم ہونا، انسانی عقل اور مختلف علوم کی ترقی کا زمینہ فراہم ہونا وغیرہ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ تمام آفتیں اور مصیبتیں خدا کی آزمائش کا مصداق نہیں بلکہ بہت سے موارد میں آفتوں اور بلاؤں کا سبب خود انسان کے غلط افعال اور تصرفات ہوتے ہیں، مثلاً اگر ایک شخص ڈرائیونگ میں احتیاط نہیں برتے گا تو ایک جان لیوا حادثے کا سبب بنے گا۔ اگر ہم گرمی یا سردی کی شدت کے مطابق لباس زیب تن نہیں کریں گے تو بیماری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اگر حکومت مناسب انتظامات نہیں کرے گی تو سیلاب وجود میں آئے گا وغیرہ۔

چوتھا سؤال: بیماریوں کا علاج ڈاکٹرز کی طرف رجوع میں ہے، ائمہ علیھم السلام سے توسل میں ہے یا خدا سے دعا میں۔؟
جواب:
مکتب توحید کا دعوی ہےٰ: لامؤثر في الوجود إلا الله (عالم وجود میں مؤثر حقیقی صرف خداوند متعال ہے)(4) یعنی مشیئت اور ارادہ خدا کے بغیر اس کائنات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ لہذا یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ بیمار کی شفایابی بھی خدا کی مشیئت اور ارادے کے مرہون منت ہے۔ اب سؤال یہ کہ کیا پھر ہم صرف خدا سے دعا مانگیں اور ائمہ سے توسل یا ڈاکٹر کی دوا کی کوئی ضرورت نہیں۔؟ اس کے جواب میں ہم خدا کی سنت، روش اور طریقہ کار کو امام صادق علیہ السلام کی اس حدیث سے پیش کریں گے: عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ أَنَّهُ قَالَ: أَبَى اَللَّهُ أَنْ يُجْرِيَ اَلْأَشْيَاءَ إِلاَّ بِأَسْبَابٍ فَجَعَلَ لِكُلِّ شَيْءٍ سَبَباً وَ جَعَلَ لِكُلِّ سَبَبٍ شَرْحاً وَ جَعَلَ لِكُلِّ شَرْحٍ عِلْماً وَ جَعَلَ لِكُلِّ عِلْمٍ بَاباً نَاطِقاً عَرَفَهُ مَنْ عَرَفَهُ وَ جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ ذَاكَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ نَحْنُ. (خدا اپنے امور کو بغیر اسباب کے نہیں چلاتا، خدا نے ہر چیز کے لیے سبب قرار دیا ہے اور ہر سبب کے لیے شرح قرار دی ہے اور ہر شرح کے لیے علم قرار دیا ہے اور ہر علم کے لیے باب ناطق قرار دیا ہے اور وہ رسول خدا اور ہم اہل بیت ہیں)(5)۔ پس خدا سے شفا مانگنے کا معنی یہ ہے کہ ہم نظام اسباب کی رعایت کرتے ہوئے اہل بیت سے توسل کریں۔

ایک اور حدیث میں امام صادق کچھ یوں فرماتے ہیں: عَنْ أبي عَبد اللّه الصَادق عليه‌ السّلام إنَّ نَبیّاً مِنَ الأنبیاءِ مَرِضَ، فقال: لا أَتَداوى حَتّى یکونَ الّذى أمْرَضَنِى هُو الذى یَشْفینى، فأوحى اللهُ تعالى إلیهِ: لا أشْفِیکَ حَتّى تَتَداوى، فإنَّ الشِّفاءَ مِنّى والدَّوَاء مِنّي (خدا کے انبیاء میں سے ایک نبی مریض ہوئے تو انہوں نے کہا میں دوا نہیں لوں گا، مجھے وہی ٹھیک کرے گا، جس نے مجھے مریض کیا ہے تو خدا نے وحی نازل کی کہ جب تک تم دوا نہیں لو گے، میں شفاء نہیں دوں گا، شفاء بھی میری ہے اور دوا بھی میری ہے)(6)۔ اسی طرح رسول گرامی اسلام کی حدیث مبارکہ ہے تَداوُوا فإنَّ اللهَ تَعالى لَمْ یُنزِلْ داءً إلاّ وَقَدْ أنْزَلَ اللهُ لَهُ شِفاءً، إلاَّ السّامَ وَالْهَرَمَ (دوا لو اور علاج کرواؤ، بے شک خدا نے جو بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے، سوائے موت اور بڑھاپے کے)(7)۔

پس ان دو حدیثوں سے واضح ہے کہ خدا سے شفاء مانگنے کا مطلب اس کے نظام اسباب کی رعایت کرتے ہوئے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا اور علاج کروانا ہے۔ البتہ ائمہ علیھم السلام سے توسل اور ڈاکٹرز کی طرف رجوع کرتے ہوئے یہ بات ہمیشہ مدنظر رہنی چاہیئے کہ حقیقی شفاء دینا خدا کا کام اور خدا ہی ہے، جو آئمہ علیھم السلام کی دعا یا ڈاکٹر کی دوا میں شفاء عطا فرماتا ہے۔ قرآن کریم حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جملہ یوں نقل کرتا ہے وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ یَشۡفِینِ (اور جب میں مریض ہوتا ہوں تو وہی خدا مجھے شفا عطا کرتا ہے)(8)۔

پانچواں سوال: بیماری سے شفاء ائمہ علیھم السلام سے توسل کے ذریعے حاصل کریں یا ڈاکٹر کی دوا کے ذریعے۔؟
جواب:
بعض موارد میں ایک شخص ڈاکٹر سے دوا نہیں لیتا، لیکن ایک حجت خدا سے شفاء لے لیتا ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مریضوں کو شفا دینا یا ائمہ اہل بیت علیھم السلام کے حرموں سے بیماروں کو شفا ملنا، اس کے برعکس بعض اوقات ایک شخص خدا یا کسی مقدس ہستی سے کوئی دعا نہیں کرتا، لیکن ڈاکٹر کی دوا استعمال کرنے سے شفایاب ہو جاتا ہے، ایسی صورت حال میں ہم کیا کریں۔؟
ان موارد میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا نے عالم طبیعت میں ہر بیماری کے لیے ایک دوا رکھی ہے، جو اس بیماری سے شفاء کا سبب طبیعی کہلائے گی۔ اسی طرح اولیاء خدا بیماریوں سے شفایابی کے اسباب سے آگاہ ہیں اور اپنے علم و قدرت اور ولایت تکوینی سے بیمار کو شفایاب کرسکتے ہیں، اس سبب کو سبب غیر طبیعی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اپنی اپنی جگہ سبب حتمی یا علت تامہ نہیں ہیں، بلکہ ان کی سببیت تب حتمی ہوتی ہے، جب ارادہ خدا اس سبب کے متعلق ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہر ترین ڈاکٹر سے دوا لینے کے بعد بھی شفایاب نہ ہونے کا احتمال باقی ہے، ہاں البتہ اگر معصوم کسی کو شفا دینے کا ارادہ کرلیں تو چونکہ انکا ارادہ خدا کے ارادے کے خلاف نہیں ہوسکتا، لہذا شفا حتمی اور یقینی ہوگی۔ البتہ ایک نکتے کی طرف توجہ نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ خدا اس دنیا کے امور کو عموماً عادی اور طبیعی اسباب کے ذریعے چلاتا ہے اور انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی طرف سے معجزہ یا کرامت خاص موارد میں واقع ہوتے ہیں، جہاں مصلحتِ خدا تقاضا کرے۔ مثلاً جب مصلحتِ ہدایت، معجزے کا تقاضا کرے تو رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کے دست مبارک پر پتھر کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن جب مصلحت معجزہ کا تقاضا نہ کرے تو وہی پتھر طائف میں رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کو لہو لہان کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر مصلحت تقاضا کرے تو علی ابن طالب علیہ السلام مردے کو زندہ بھی کرسکتے ہیں اور بیمار کو شفا بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر مصلحت اسباب غیر عادی کا تقاضا نہ کرے تو علی علیہ السلام ضربت لگنے کے بعد بستر بیماری پر طبیب کو بلاتے ہیں اور اس کی بتائی ہوئی دوا استعمال کرتے ہیں۔

لہذا جب ہم کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو علاج معالجہ اور دوا کو چھوڑ کر صرف معجزہ یا کرامت کا انتظار نہیں کرسکتے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس وقت مصلحت کا تقاضا معجزہ یا کرامت نہ ہو اور خدا اور ائمہ علیھم السلام کی طرف سے ہماری ذمہ داری اسباب عادی کے مطابق عمل کرنا ہو۔ مقام عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ خدا سے دعا، ائمہ علیھم السلام سے توسل اور ڈاکٹر کی دوا کے استعمال میں کوئی تعارض نہیں ہے بلکہ تینوں چیزیں قابل جمع ہیں۔ لہذا ایک مومن کی ذمہ داری خدا پر توکل، ائمہ علیھم السلام سے توسل اور اسباب عادی کی فراہمی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 852435
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش