0
Monday 30 Mar 2020 11:31

شکست خوردہ ٹیم کی باہمی لڑائیاں

شکست خوردہ ٹیم کی باہمی لڑائیاں
اداریہ
کہتے ہیں جب کوئی ٹیم ہارنے لگتی ہے اور اگر اس ٹیم میں سپورٹ مین اسپرٹ نہ تو آپس مین دست بگریباں ہو جاتی ہیں۔ کرونا کے خلاف جنگ میں جہاں صدر ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی ہے، وہاں امریکی حکام کی باہمی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے امریکی صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کا انکار نہ کرتے تو آج امریکیوں کو اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑتے۔ نینسی پیلوسی نے کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حال یہ ہے کہ امریکہ میں اس قدر کورونا ٹیسٹ انجام نہیں پا رہے، جتنے ٹیسٹ ہونے چاہیئے تھے، ان میں اور کورونا میں مبتلا علاقوں کو درکار طبی سہولتوں کی فراہمی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا کے مریضوں کے علاج میں بعض طبی وسائل اور وینٹی لیٹر مشینوں کی کمی ہے اور اسپتالوں میں موجود مریضوں کی دیکھ بھال میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں ایک سے دو لاکھ افراد تک کورونا سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی سماجی فاصلے کے قانون پر عمل درآمد کی مدت آئندہ تیس اپریل تک بڑھا دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی اور بعض نشریاتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سیاسی وجوہات کی بنا پر کورونا کے خلاف جنگ میں حکومتی کارکردگی کو تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ سی این این بھی اس سلسلے میں صحیح خبریں نہیں دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے، جب امریکا میں کورونا سے متاثرین افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اُدھر امریکہ میں وبائی امراض کے قومی مرکز کے سربراہ نے بھی سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا امریکہ میں ایک سے دو لاکھ افراد کی جان لے سکتا ہے۔ امریکا کے آئندہ صدارتی انتخابات کے امیدوار جوبایڈن نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کورونا سے نمٹنے میں ٹرمپ نے سستی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں قوم کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا، صحیح راستے پر چلنے میں ناکامی اور کورونا سے نمٹنے میں جس سرعت عمل سے کام لیا جانا چاہیئے تھا، اس کا فقدان ہے اور یہ وہ چیز ہے، جس کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ امریکہ کی موجودہ صورت حال پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے زوال کے سفر پر چل پڑا ہے۔
خبر کا کوڈ : 853619
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش