0
Tuesday 31 Jan 2012 23:50

حضرت امام حسن عسکری ع کی الٰہی روش

حضرت امام حسن عسکری ع کی الٰہی روش
تحریر: سید طاہر عباس بخاری

امام حسن عسکری ع سے حکمرانوں کا رویہ
عباسی حکمرانوں نے حضرت امام حسن عسکری ع کو بدترین خلائق لوگوں کی قید میں رکھا، یارمش اور اقتامش جیسے بدخو، بدکردار جلادوں کی سختیاں آپ نے برداشت کیں، روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت امام حسن عسکری ع کے بیشتر اوقات زندان میں گزرے، نحریر جیسے ملعون سے آپ کو قید خانہ میں شدید اذیتیں پہنچیں۔ 

علم الٰہی کا اظہار
اس کے باوجود آپ اپنے چاہنے والوں سے خفیہ روابط قائم رکھے ہوئے تھے، زندان میں آپ کے دلائل معجزات سے لوگ آگاہ ہوتے رہے اور آپ کے ذہنی طور پر نزدیک تر ہو گئے تھے، کچھ لوگوں کو آپ ان کے خفیہ ناموں اور کنیت سے پکار کر اپنے الٰہی علم کا اظہار فرماتے تو وہ آپ کی جانب راغب ہو جاتے۔ 

حضرت امام حسن عسکری ع کی الٰہی روش

آئمہ طاہرین کے بارے میں عباسیوں کی سیاسی روش حضرت امام علی رضا ع کے دور ہی سے واضح تھی، عباسیوں کا آئمہ معصومین کو دربار خلافت کے ساتھ منسلک رکھنے کا ہدف، ان کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنانا اور اس طرح ان کا رابطہ اپنے حامیوں اور پیروکاروں سے قطع کرنا تھا، چنانچہ امام حسن عسکری ع کو اپنے پدر بزرگوار کی طرح سامراء میں ٹھہرنے نیز ہر سوموار اور جمعرات کو دربار خلافت میں آنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ (المناقب ج٣ ص ٥٣٣)
لیکن آپ نے اپنے آباء طاہرین کی طرح حکام کے ساتھ حکومت کے معاملے میں ایک محتاط طریقہ اختیار کیا، حکمران ٹولے کے جذبات کو بھڑکنے اور اپنی حقیقت کو ان پر ظاہر نہ ہونے دیا، اس احتیاط و گریز کی پالیسی نے آپ کو حکام کے سامنے عزت و احترام کا بلند مقام دیا۔ 

حکومتی وزیر کا امام سے متاثر ہونا
حضرت امام حسن عسکری ع نے اپنے کردار سے اپنی شخصیت اور عظمت کی دھاک اہل بیت ع کے سخت ترین دشمنوں پر بھی بٹھا دی۔ عبیداللہ بن یحییٰ بن خاقان خلیفہ کا وزیر امام کے بارے میں کہتا ہے میں نے سامراء میں حسن بن علی بن محمد بن علی الرضا کی مانند کسی علوی کو نہیں پایا، جو وقار و سنجیدگی، عظمت و نجابت، نیز بنی ہاشم اور اہل بیت ع کے نزدیک عزت و جلالت اور احترام کے لحاظ سے آپ کا ہم پلہ ہو، آپ کے اہل خاندان آپ کو اپنے عمر رسیدہ بزرگوں اور صاحب حیثیت ہستیوں پر ترجیح دیتے تھے۔
(کتاب الارشاد ص٣١٨' اعلام الوری ص ٣٥٧) 

عبیداللہ بن یحییٰ کا اعتراف
عباسی وزیر عبیداللہ بن یحییٰ کا بیٹا احمد کہتا ہے کہ مجھے میرے باپ نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں لکھا۔
''اے بیٹے اگر خلافت بنی عباس کے ہاتھوں سے چلی جائے تو فضل، پاکدامنی، پرہیزگاری، زہد و عبادت، حسن اخلاق اور صلاحیتوں کی رو سے بنی ہاشم میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور خلافت کا اہل نہ ہو گا۔ (کتاب الارشاد صا٣١٨) 

امام ع کی اپنے اصحاب سے گفتگو
جب حضرت امام حسن عسکری ع حاکم وقت کے مکان پر اس کی کسی شرعی مشکل حل کرنے یا اس کی طلبی پر جاتے تو راستے میں اپنے خواص سے گفتگو فرماتے۔ عباسی حکومت نے جب آپ کے اصحاب پر سختی کر دی تو آپ نے انتہائی دو ٹوک واضح اور لائحہ عمل کے طور پر گفتگو فرمائی۔ "وہ نادار جو ہمارا ساتھ دے اس توانگر سے بہتر ہے جو ہمارے مخالفین کا ساتھی ہو۔ ہمارے اعداء کے ساتھ زندہ رہنے سے ہمارا ساتھ دیتے ہوئے قتل ہو جانا غنیمت ہے۔ ہم ان لوگوں کی پناہ گاہ ہیں جو ہمارے پاس پناہ ڈھونڈیں اور ان لوگوں کے لئے ہدایت کے چراغ ہیں، جو ہم سے رہنمائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ جو لوگ ہمارے ذریعے حفاظت تلاش کریں ہم ان کے محافظ ہیں، جو ہم سے محبت کرے، وہ جنت کے بلند درجات میں ہمارے ساتھ ہو گا اور جو ہم سے منحرف ہو اس کی منزل جہنم ہے۔"  (کشف الغمہ ج ٣ص٢١١) 

اصحاب کو تقیہ کی تلقین

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے اصحاب کو اس وقت تک تقیہ اختیار کرنے اور تند و تیز سرگرمیوں سے بچنے کی تلقین کرتے تھے جب تک حالات سازگار نہ ہوں، آپ ان کو زندان کے اندر بھی احتیاط برتنے کا حکم دیتے تھے بلکہ خبر دار فرماتے تھے کہ زندان میں بھی حکومت اپنے کارندوں کو قیدیوں کے بھیس میں تمہارے ساتھ رکھتی ہے، آپ نے ایک شخص کے بارے میں یہاں تک خبر دی کہ تم میں سے ایک شخص کے لباس میں ایک تحریر پوشیدہ ہے، جو اس نے خلیفہ کو لکھی ہے، تاکہ اسے ان کے درمیان ہونے والی باتوں سے آگاہ کرے، چنانچہ جب انہوں نے اس شخص کی تلاشی لی تو وہ تحریر مل گئی۔ (کشف الغمہ ج ٣ص٢٢٢' اعلام الوریٰ ص٣٥٤) 

اپنے اصحاب کی مالی امداد
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے اصحاب کی مالی امداد بھی فرمایا کرتے تھے، مختلف علاقوں سے جہاں آپ کے عقیدت مند پائے جاتے تھے بہت سی رقم آپ کی خدمت میں مومنین اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں خمس کی شکل میں ارسال فرماتے تھے، یہ کام ان علاقوں میں آپ کے وکلاء کے ذریعے انجام پاتا تھا اس امر کو حکومت سے مکمل طور پر آپ مخفی رکھتے تھے
اور مختلف طریقے اختیار فرماتے تھے۔ 

غیبت امام زمانہ کی تیاری کے سلسلے میں حضرت امام حسن عسکری کا لائحہ عمل
حضرت امام حسن عسکری ع کو بخوبی علم تھا کہ آپ کا فرزند (عج) خدا کے حکم سے پردہ غیبت میں چلا جائے گا، اس لئے آپ کے لئے سب سے بڑی اور مشکل ذمہ داری لوگوں سے یہ منوانا تھا کہ غیبت کا مرحلہ آ چکا ہے اور اس کے مظہر آپ کے فرزند حضرت مہدی (عج) ہیں، اس کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات آپ کے ذمہ تھے۔ 

چند معتمد اصحاب کے علاوہ باقی لوگوں کی نظروں سے حضرت امام مہدی کو پوشیدہ رکھنا۔
لوگوں کو غیبت کے تقاضوں سے مکمل معرفت کرانا اور اس کا انہیں عادی بنانا۔
اس سلسلے میں آپ اپنے ایک ساتھی کو فرماتے ہیں کہ جب حضرت امام مہدی (عج) قیام کریں تو وہ اپنے علم (علم لدنی) کی بناء پر لوگوں کے درمیان اس طرح فیصلے کریں گے جس طرح حضرت دائود فیصلے کرتے تھے اور انہیں گواہوں کی ضرورت نہ ہو گی۔ (کتاب الارشاد ص ٣٢٣) 

حضرت امام حسن عسکری نے نظریہ غیبت کے مختلف پہلوئوں سے لوگوں کو آگاہ فرمایا، تاکہ وہ مستقبل میں امام زمانہ (عج) کی غیبت و جدائی سے پیدا ہونے والے تلخ حالات کا سامنا کرنے کے قابل ہو سکیں، آپ نے فرمایا، "تمہارے اوپر لازم ہے کہ صبر کے ساتھ قیام مہدی کا انتظار کرو کیونکہ حضرت رسول اللہ ۖ نے فرمایا ہے کہ میری امت کا سب سے بہترین عمل انتظار فرج ہے۔ ہمارے شیعہ پیہم غم و اندوہ کا شکار رہیں گے، یہاں تک کہ میرے بیٹے مہدی کا ظہور ہو گا، جس کے بارے میں نبی اکرم ے بشارت دی ہے اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی۔'' 

ابوالحسن کے نام۔ اے ہمارے بزرگ ابوالحسن بن علی
: صبر کا مظاہرہ کرنا اور ہمارے تمام شیعوں کو بھی صبر کرنے کا حکم دینا کیونکہ بتحقیق زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر مسلط کرتا ہے اور عاقبت تقویٰ والوں کے لئے ہے۔ (المناقب ج ٣ص ٢٥٧)
آپ کا لوگوں کو غیبت کے لئے آمادہ اور تیار کرنا اس کے لئے تھا کہ پیشگی تیاری کے بغیر اگر غیبت واقع ہوتی تو یہ امر لوگوں کے لئے ایک غیر متوقع بحران پیدا کرتا، لہٰذا آپ نے امت کو ذہنی طور پر آمادہ و بیدار کرنے کے لئے تمام طریقے اپنائے، اسی طرح امام حسن عسکری کا اپنے حامیوں کے امور کو اپنے نمائندوں اور وکیلوں کے ذریعے چلانا بھی نظریہ غیبت کے لئے فضا سازگار کرنے کا طریقہ تھا۔ (کتاب الارسشاد ص ٣٢٣'کشف الغمہ ج ٣ ص٢٠٧)

حضرت امام حسن عسکری کی شہادت

 6 ربیع الاول 260  ھ کو ملعون بغداد معتمد باللہ عباسی نے آپ کو انگوروں کے ذریعے زہر دلوا دیا، ادھر آٹھ ربیع الاول کا سورج طلوع ہوا ادھر آسمان ولایت کا گیارہواں آفتاب عالم تاب غروب ہو گیا۔
٭ حضرت امام زمانہ (عج) کی عمر، حضرت امام حسن عسکری کی شہادت کے وقت تقریباً ساڑھے چار سال تھی۔ (معدن العصمت ص ٢١٢)
ہمارے مذہبی مسلمات میں سے ہے کہ معصوم کا جنازہ معصوم ہی پڑھا سکتا ہے، اس طرح کمسن امام زمانہ (عج) نے اپنے والد معصوم کی نماز جنازہ خود پڑھائی اور تمام مراسم شرعی بنفس نفیس خود ادا فرمائے۔ 

حضرت ولی العصر قائم آل محمدۖ
14 شعبان 255ھ کو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی پھوپھی جان سیدہ حکیمہ خاتون سے فرمایا پھوپھی جان: آپ پر اللہ کے لاکھوں درود و سلام ہوں، آج رات ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے، آج رات آپ نے روزہ ہمارے ہاں افطار فرمانا ہے، جب مخدرہ عصمت نے وجہ دریافت فرمائی تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ آج رات اللہ کی حجت (عج) کا اس دنیا میں ظہور ہونا ہے، جو ہمارے قائم اور کائنات میں اللہ کی حجت کاملہ ہیں اور انہی کے ذریعہ اس مردہ زمین کو زندگ بخشی جانی ہے۔"
(منتخب الاثرص ٣٢٣)
اور آخر اسی شب بقیة اللہ کا ظہور پرنور ہوا اور آپ ع نے سب سے پہلے آسمان کی طرف داہنے ہاتھ کی انگشت شہادت بلند کر کے تشریف لانے کے بعد فرمایا سبحان ربی الاعلی و بحمدہ (منتخب الاثرص ٣٤٢)
خبر کا کوڈ : 85363
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب