0
Wednesday 1 Apr 2020 02:23

زوار، تبلیغی یا مدنی کرونا؟

زوار، تبلیغی یا مدنی کرونا؟
تحریر: ایس اے زیدی
 
کورونا نامی وائرس نے دنیا کے حالات کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، اس وبائی مرض نے لگ بھگ پوری دنیا پر اپنے پنجے اس تیزی کیساتھ گاڑھے ہیں، جس کی مثال میڈیکل تاریخ میں شائد نہ ملتی ہو۔ اس وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آج دنیا کے 194 ممالک اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ کورونا وائرس نے چین کے بعد شروع میں ایران کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور پھر یورپی ممالک کا رخ کیا۔ اب تک اس وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی اور متاثرہ افراد میں سرفہرست امریکہ آچکا ہے۔ پاکستان بھی کورونا وائرس سے نہ بچ سکا۔ اب تک کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 1938 ہوگئی ہے، جبکہ 26 افراد اس مہلک وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ وائرس پاکستان کیسے پہنچا؟ اور خطرات کے باوجود حکومت نے قبل از وقت احتیاطی تدابیر کیوں اختیار نہیں کیں؟ ان سوالات کے جواب یقیناً ریاست کے ذمہ ہیں۔ تاہم حسب روایت پاکستان میں اس وبائی مرض کو لیکر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی افسوسناک کوشش کی گئی۔ پاکستان میں موجود ایک خاص طبقہ نے کورونا وائرس کا ذمہ دار ایران سے آنے والے زائرین کو قرار دیا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر باقاعدہ کمپین دیکھنے میں آئی۔

زائرین کا معاملہ مزید موضوع بحث اس وقت بنا جب پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک سینیئر اور منجھے ہوئے سیاستدان سمجھے جانے والے رہنماء خواجہ آصف نے میڈیا سے بات چیت کے دوران مشیر وزیراعظم سید زلفی بخاری کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے زائرین کے حوالے سے انتہائی غیر مناسب الفاظ استعمال کئے۔ جہاں ایک جانب کورونا سے متاثرہ تمام ممالک ایک قوم بن کر اس وبائی مرض کا مقابلہ کرنے میں مصروف تھے، وہیں دوسری جانب پاکستان میں وائرس کو مسلکی تعصب کی عینک سے دیکھا جا رہا تھا۔ اگر ایک لمحہ کیلئے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ وائرس برادر اسلامی ملک ایران سے زائرین لیکر آئے ہیں، تو کیا یہ زائرین حکومت کی نظروں سے اوجھل ہوکر وطن واپس لوٹے ہیں۔؟ کیا ان زائرین کو بارڈر کراس کرکے حکومت پاکستان نے اپنی تحویل میں نہیں لیا۔؟ درحقیقت کورونا ایمرجنسی ڈکلیئر ہونے کے بعد ایران سے آنے والے تمام تر زائرین کو حکومت نے تفتان بارڈر پر ہی اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور انہیں وہیں قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد انہیں ملک کے مختلف قرنطینہ سنٹرز میں حکومتی نگرانی میں ہی منتقل کیا گیا، ان کے ٹیسٹ ہوئے، جو زائرین صحتیاب تھے، انہیں قرنطینہ کا مخصوص وقت گزارنے کے بعد حکومتی نگرانی میں ہی گھروں کو بھیجا گیا اور جن کے کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آئے ہیں، وہ زیر علاج ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک زائر بھی حکومت کی مرضی کے بغیر گھر واپس نہیں گیا، جس کا اعتراف حکومتی وزراء کرچکے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تمام تر زائرین اب تک حکومتی نگرانی میں ہی موجود رہے ہیں تو وائرس باہر کیسے پھیلا۔؟ اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے گذشتہ دنوں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو زائرین ایران سے آئے تھے، وہ تو حکومت کے پاس ہیں، تاہم ان 9 لاکھ افراد کے بارے میں سوچیں جو امریکہ، سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر ممالک سے بائی ائیر سفر کرکے آئے ہیں، وہ اس وقت کہاں ہیں، کسی کو معلوم نہیں۔ اب میڈیا پر خبریں واضح ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ کورونا ایمرجنسی کے دوران کئی ممالک سے تبلیغی جماعت کے اراکین پاکستان پہنچے ہیں، ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، جنہوں نے حکومتی ہدایات کے باوجود اپنے تبلیغی دورہ جات اور اجتماعات جاری رکھے۔ جس کی وجہ سے کورونا وائرس کئی مقامات پر منتقل ہوا، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جب حکومتی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے عوام کو مذہبی اجتماعات سے اجتناب کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی تھی، اس وقت تبلیغی جماعت کے اکابرین بھی اپنے کارکنان کو گائیڈ کرتے، تاہم ایسا نہ ہوسکا اور اسکے نتائج ایک انتہائی بڑے رسک کی صورت میں آنا شروع ہوگئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاو میں تبلیغی جماعت کے اراکین کے کردار کو لیکر بھی زائرین کی طرح سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے اور اب تبلیغی جماعت کا مخالف ایک طبقہ اس میں پیش پیش ہے، جو کہ نامناسب اقدام ہے۔ اس حوالے سے ملت تشیع پاکستان کا کردار انتہائی قابل تعریف رہا ہے، جس کے علمائے کرام اور عوام دونوں نے ان نازک حالات میں جہاں زائرین مخالف پروپیگنڈے کی مذمت کی، وہیں کسی بھی فرقہ وارانہ بیان بازی سے خود کو دور رکھتے ہوئے امن، محبت اور ان حالات کا ملکر مقابلہ کرنے کی ترغیب دی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں تین قسم کے کورونا ہیں، ایک وبائی مرض کورونا، دوسرا فرقہ وارانہ کورونا اور تیسرا سیاسی کورونا۔ ہمیں ان تینوں قسم کے کورونا کا مقابلہ متحد ہوکر کرنا ہوگا، انہوں نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی کہ زائرین، تبلیغی جماعت یا کسی بھی مسلک کو کورونا کا ذمہ دار نہ قرار دیا جائے، بلکہ اسکا مقابلہ ملکر کیا جائے۔

زائرین کے بعد تبلیغی جماعت اور اب یہ نہ ہو کہ عمرہ یا مدینہ منورہ سے واپس آنے والوں کو کورونا کا ذمہ دار قرار دے دیا جائے، دشمن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر ایسے موقع سے فائدہ اٹھائے اور نادان لوگوں کے ہاتھوں اپنے عزائم کی تکمیل یقینی بنائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کورونا وائرس نہ زوار ہے، نہ تبلیغی اور نہ ہی مدنی، بلکہ یہ امریکہ کی بائیولوجیکل جنگ کا حصہ ہے۔ ہتھیاروں کی جنگ، ذرائع ابلاغ کی جنگ، کیمیکل جنگ اور نظریاتی جنگ میں شکست کے بعد اب امریکہ کا یہ نیا ہتھیار ہے۔ امریکی فوجی گذشتہ سال نومبر میں ملٹری کھیلوں میں شرکت کیلئے جب چین کے شہر ووہان پہنچے تو انہوں نے وہاں کورونا وائرس کا کھیل کھیلا۔ یاد رہے کہ امریکہ نے شروع میں چین کو اس وائرس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وائرس چینی حکومت بنا رہی تھی اور وہاں سے لیک ہوا ہے۔ تاہم بعد میں چینی حکام نے واشنگٹن کو کورونا وائرس چین میں لانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ امریکہ کا مقصد اس وائرس کے ذریعے اپنے مخالف چین اور ایران کو نشانہ بنانا تھا۔ اب آنے والا وقت یہ واضح کر دے گا کہ امریکہ خود اس وائرس کا اتنے برے طریقے سے کیسے شکار ہوگیا۔؟
خبر کا کوڈ : 853913
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش