0
Saturday 4 Apr 2020 11:27

کرونا اور انسانی اقدار

کرونا اور انسانی اقدار
اداریہ
وہ جنگ جسے عالمی جنگ یا جنگ عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس میں دنیا کے صرف تیس (30) ممالک شریک تھے، گویا اس جنگ کے شعلے اور اس کی براہ راست تپش صرف تیس ملکوں تک محدود تھی۔ تاہم اس جنگ کو اب بھی عظیم اور خطرناک جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ اُس جنگ کے دوران متحارب ممالک نے انسانی اقدار کا کیا حشر کیا تھا، اُس سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔ آج جبکہ کرونا وائرس نے دنیا کے 205 ممالک میں سے، آخری خبریں آنے تک 201 کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ حکومتیں ایک دوسرے کی مدد کی بجائے نفسا نفسی کا شکار ہیں اور عوام میں بھی مستقبل کے انجانے خوف کے پیش نظر ایثار و قربانی کی بجائے خود غرضی اپنے عروج پر نظر آرہی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ دنوں فرانس کے خریدے گئے ماسک تین گنا زیادہ قیمت دیکر اپنی ملکیت میں لے لیے ہیں۔ امریکہ نے میڈیکل کے بعض آلات کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا کر دوسرے ممالک کو ان سے محروم کر دیا ہے۔

یورپی ممالک، جہاں ایک دوسرے کے خلاف دست بگریباں ہیں، وہاں امریکہ کے اندر ریاستوں کے درمیاں اختلافات اپنے عروج تک پہنچ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر نیویارک کے شہری کو دوسری امریکی ریاستوں میں اشتہاری مجرم تصور کیا جا رہا ہے اور سرمایہ دار امریکی طبقے میں ہتھیار خریدنے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہتھیار خریدنے والوں کی منطق یہ ہے کہ چند دن بعد غربت اور کھانے پینے کی اشیاء میں کمی واقع ہوگی۔ اس قحط کی صورت حال میں ہمسایہ کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اُن کے گھر پر حملہ آور ہوسکتا ہے، لہٰذا گھر میں ہتھیار کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ امریکی اور مغربی معاشرے میں کرونا وائرس نے بہت سے حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں ان ممالک کا صحت عامہ کا نظام اور اقتصادی و سائنس و ٹیکنالوجی کا نظام مکمل طور پر ناکام نظر آرہا ہے، وہاں انسانی اقدار بھی بری طرح پامال ہوتی نظر آرہی ہیں۔ کرونا وائرس کی وباء اگر مزید چند دن اسی شدت سے جاری رہی تو مغرب اور امریکہ کا خود غرضی پر مبنی چہرہ مزید نمایاں ہو جائیگا۔
خبر کا کوڈ : 854602
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش