1
Saturday 4 Apr 2020 21:36

پاکستان میں منافقت کا بازار گرم

پاکستان میں منافقت کا بازار گرم
تحریر: مظفر حسین

پوری دنیا اس وقت کرونا سے مقابلے کے لئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے، لیکن ہمارا میڈیا اس وقت بھی پروپیگنڈہ میں مصروف عمل ہے۔ کبھی زائرین کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی تبلیغی جماعت کو۔ آپ اس میڈیا کے بدلتے رخ دیکھیں کہ ایک وقت انہوں نے زائرین کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ سب کچھ انہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ گویا زیارت، زائر و کرونا مترادف الفاظ بن گئے۔ جونہی کرونا کا لفظ آیا، فوراً سے ذہن زائر کی طرف چلا جاتا۔ اس کی آڑ میں مذہب تشیع پر انگلیاں اٹھائیں گئیں کہ یہ سب ان کی وجہ سے ہوا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مقدس مقامات کو نشانہ بنایا گیا کہ شفاء کے ملنے کا جو تصور ہے، وہ سب ڈھونگ ہے۔ اس میں کچھ ناعاقبت و بے اندیش افراد و گروہوں نے جو مختلف مسالک کے تھے، انہوں نے بھی اس مہم کا ساتھ دیا اور بھرپور تشیع کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی نہ سوچا کہ کل کو بازی پلٹ کر انہی کی طرف بھی آسکتی ہے۔

پوری دنیا میں ایران کو ٹارگٹ کیا گیا اور لوگوں کے اذہان خراب کئے گئے۔ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ العالی کی شخصیت مجروح کی گئی۔ خصوصاً امریکہ و اسکے حواریوں کی جانب سے الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے ذریعے سے ایران کی شکل مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ بجائے اس کے کہ اس بحران میں ایران کا ساتھ دیتے، انہوں نے سوچا یہی بہترین موقع ہے، اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں۔ لیکن ان کے مکر پر خدا کا مکر غالب آیا اور ایران نے بہت حد تک اپنے ملک پر اس بحران پر قابو پالیا۔ آج وہی ممالک ایران کے وزیر صحت سے ویڈیو کال کے ذریعے پوچھ رہے ہیں کہ پابندیوں کے باوجود آپ نے اس بحران پر قابو کیسے پایا۔؟ بے شک سپر پاور فقط اللہ کی ذات ہے۔

یہی ہوا اب زائرین سے توجہ ہٹا کر میڈیا تبلیغی جماعت کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ اب ہر جگہ انہی کی خبریں ہیں۔ اگر اس فتنے میں دیگر مسالک تشیع کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش نہ کرتے، ان فتنہ پرور گروہوں کے ساتھ کہ جن کا دین کے اوپر کوئی ایمان نہیں ہے، یہ صرف وہی بولتے ہیں، جو ان کے آقا انہیں کہتے ہیں۔ بارہا ہم اس کے تجربات دیکھ چکے ہیں۔ پھر بھی ان کی باتوں میں آکر مذہبی ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار لسانی اٹھا کر گولیاں برساتے ہیں اور یہ اور ان کے آقا ہمیں آپس میں لڑوا کر مزے سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں، جو سیکولر، لبرل و فامینسٹ افکار کی ترویج کرنے والے ہیں۔ آخر کب تک مذہبی لوگ ان سیکولر و بے دین لوگوں کے آلہ کار بن کر ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہوتے رہیں گے، کیوں ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔ 10 فیصد سیکولر طبقہ 90 فیصد مذہبیوں کی حماقتوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں آپس میں لڑواتا اور حکومت کرتا ہے۔

اگر ان احمقوں کو شعور آجائے و بجائے آپس میں لڑنے کے اپنی ساری توانائیاں ان کے خلاف استعمال کریں تو ان کا تختہ الٹا جا سکتا ہے۔ یہ احمق مذہبی طبقہ خواہ کسی بھی مسلک کا ہو، یہ درحقیقت نادان شیر ہیں، جنہیں ان کے میدانوں سے نکال کر آپس میں ہی لڑوا کر اپنا اقتدار و اپنی اقتصاد مضبوط کی جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اس بحران سے بچنے کیلئے وسائل مہیا کریں، انہوں نے اپنی توجہ ہٹانے کیلئے مذہبیوں کو نشانہ بنایا، تاکہ ان کے اقدامات سے توجہ ہٹا کر سب آپس میں مشغول ہو جائیں۔ اگر یہ عوام کے ساتھ مخلص ہوتے تو کٹس، وینٹیلیٹرز، اسپتالوں، ماسک و اینٹی وائرس اسپرے کا اہتمام کرتے۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے اپنی جان بچانے کا یہ حربہ تلاش کیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں شعور عطا فرمائے، تاکہ ہم ان فتنہ گروں کے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔آمین
خبر کا کوڈ : 854672
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش