0
Monday 6 Apr 2020 10:52

یمن میں نسل کشی

یمن میں نسل کشی
اداریہ
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے 26 مارچ 2015ء کے دن عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے حملے کا بہانہ یہ تھا کہ یمنی شہری اور رضاکار تنظیمیں اُس صدر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھیں، جو سعودی عرب ان پر مسلط کرنا چاہ رہا تھا۔ سعودی عرب کے ناتجربہ کار ولی عہد اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزیر دفاع بن سلمان اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کی ایک دھمکی سے یمنی ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے۔ لیکن آج یہ جنگ چھٹے سال میں داخل ہوچکی ہے اور سعودی عرب اور انکے اتحادیوں کو مطلوبہ کامیابیاں نصیب نہیں ہوئی ہیں۔ اس غیر مساوی جنگ میں سعودی عرب کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری طرف نہتے یمنیوں کا ملک بھی تباہ ہوچکا ہے۔ اسی فیصد انفراسٹرکچر برباد ہوچکا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری وباؤں، بھوک، ناامنی اور طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہیں۔ سعودی جرائم نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، لیکن اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یمن کی آئندہ نسل کی تعلیمی نسل کشی ہے۔

جنگ اور بدامنی کیوجہ سے یمن کی آئندہ نسل تعلیم سے محروم ہے۔ عالمی ادارے یونیسف کے جنوری 2020ء کے اعداد و شمار کے مطابق یمن کے بارہ ملین دو لاکھ بچے انسان دوستانہ امداد کے منتظر ہیں، جبکہ دس لاکھ ستر ہزار یمنی بچے بے گھر ہوچکے ہیں۔ یمن میں ستمبر سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ ستمبر 2019ء میں دو میلیون یمنی بچے تعلیم سے محروم رہے۔ یمن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک پانچ ملین یمنی بچے تعلیمی اور نفسیاتی مشکلات کا شکار ہیں۔ سعودی عرب کے حملوں میں ساڑھے تین ہزار تعلیمی ادارے، جن میں اسکول اور یونیورسٹیاں شامل ہیں، تباہ ہوچکے ہیں، جس سے یمن کا تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ماضی کی جنگوں میں تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا، لیکن آج کی مہذب دنیا کے خادم حرمین شریفین اپنے مسلمان اور ہمسایہ عرب ملک میں تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں کو تو کیا نماز جنازہ پر حملوں سے بھی باز نہیں آرہے۔

البتہ یمن کے خلاف سعودی جرائم کی تعداد ان گنت ہے، لیکن تعلیمی اداروں پر حملے کرکے اور یمن کی آئندہ نسل کو تعلیم سے محروم کرکے سعودی عرب یمنی مستقبل اور یمنی بچوں کی تعلیمی نسل کشی کا ارتکاب کرچکا ہے۔ نسل کشی صرف انسانوں کو قتل کرکے نہیں ہوتی، بلکہ اگر کسی قوم کے بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا جائے تو اس قوم اور ملک کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، سڑکیں تعمیر ہوسکتی ہیں، انفراسٹرکچر دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے، لیکن بچوں کو نہ تو ان کا بچپنہ واپس کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کے تعلیمی وقت کے ضیاع کا ازالہ ممکن ہوتا ہے۔ عالمی ادارے ان بچوں کے مستقبل پر رحم کھائیں اور یمنی بچوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات انجام دیں۔ یمنی بچوں کے پانچ سال ضائع کر دیئے گئے ہیں، ان پانچ برسوں کا کون حساب دیگا۔ سعودی عرب، عرب لیگ، او آئی سی، اقوام متحدہ یا بچوں سے متعلق انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی این جی اوز۔۔۔۔۔؟
خبر کا کوڈ : 855035
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش